Breaking News

Poem By Tabbassum Fatima

سب سے پہلے رمضان کریم کی مبارکباد قبول کیجئے . ملک کے تازہ پس منظر نے ذہن و دماغ کو منجمد کر دیا .یہ نظم آپ سب کے لئے …

موت سے آگے نکل آے ہیں ..
( موجودہ حالات کے تناظر میں )

تیز آندھی میں اڑے جاتے ہیں
روشن اوراق /
اور اک طائر گم گشتہ نے
بھولی بسری ہوئی یادوں کا دریچہ کھولا /

نالہ ہے اور دھواں ،رقص ہے اور چیخ بھی ہے
جبر کے خانے میں بھولی ہوئی آیات بھی ہیں
سرد اجسام میں سویے ہوئے جذبات بھی ہیں
منتشر فکر میں اٹھتے ہوئے طوفان بھی ہیں
گمشدہ اپنی روایات بھی ہیں

ہم جو مظلوم زمانہ ہیں کہ تاریخ بھی گم
خون آلودہ سیاست کے ہر ایک صفحے پر
کویی ماضی ،نہ کویی حال ،نہ مستقبل ہے
ہے خزاں جس پہ برستی یہ وہی محفل ہے

میں کہ ایک سادہ ورق
اک بھٹکتی ہوئی روح
میں ، کہ ہر راستے مسدود ہوئے جاتے ہیں
خواب جینے کے بھی محدود ہوئے جاتے ہیں

ایک زمانے میں محبت بھی ہوا کرتی تھی
آج اس وادی گل رنگ کا ہر ایک پتّہ
خوں میں ڈوبا ہوا زخموں کا پتا دیتا ہے
نیے انداز میں الفت کا صلہ دیتا ہے

میں کہ ایک سادہ ورق
اک تماشائے جنوں
وادی خوف میں حیران چلی آیی ہوں
ساحل شب پہ پریشان چلی آیی ہوں
اجڑی اجڑی ہوئی ، ویران چلی آیی ہوں
سہمی سہمی سی ، پشیمان چلی آیی ہوں

کویی ایک چیخ بلاتی ہے مجھے
میری تصویر دکھاتی ہے مجھے
دھند پھیلی ہے میرے چاروں طرف
اجنبی ہو گئے سارے منظر
اب کہیں دور چلے آے ہیں
موت سے آگے نکل آے ہیں

About iliyas

Check Also

Article By Qaisar Nazir Khawar

تصوف ، فقیری اور منصوری روایت کے قائل ، ہفت زبان درویش شاعر سچل سرمست …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *