Breaking News

Short Story By Mehar Afroz

“زرین اٹھو! اور کتنی دیر پڑی سوتی رہوگی! مین نے کل ہی کہہ دیا تھا آج افس میں انسپیکشن ہے اور مجھے جلدی نکلنا ہے “!جھلاہٹ بھری آواز نے اسے جگایا
وہ ہڑبڑاکر اٹھی “جی جی ابھی سب کیے دیتی ہون “عاجزی سے کہتی ہوئی وہ کچن مین داخل ہوئی

ایک گھنٹے کے اندر اندر اس نے امجد کا ناشتہ اور ٹفن تیار کردیا
“یہ روٹیاں اتنی سخت کیوں ہین آج ؟اٹا رات میں گوندھا نہیں تھا کیا ؟کیا کرتی رہتی ہو شام سے “!!!!

جھلاہٹ کے مارے وہ ناشتہ ادھورا چھوڑ، ٹفن میز پر پٹخ کر چلا گیا…. جاتے جاتے ڈھیروں مایوسیاں اور دکھ اسکے چہرے پر چھوڑ گیا
“مما ہماراناشتہ اور ٹفن””!!!وہ دونوں اسکے پاس کھڑے تھے
“ارے وااہ تیار؟آجاو میز پر “!!!اسکی آواز میں شہد ٹپکا اور مڑنے سے پہلے اس نے آنسو پونچھ لیے
“مما یہ روز روز کی روٹی ہمارے دوست روز نیا لاتے ہیں “””ببلو کی شکایتی آواز اٹھی
“”ارے میرے راجا یہ روٹی ہی آپ کو سب سے زیادہ توانا بناتی ہے بریڈ جام اور میگی میں کیا رکھا ہے..آپ اسکول میں سب سے تندرست بچے ہو کہ نہیں؟!!!””اسکی آواز میں لاڈ دلار پچکار اور یقین ….جانے کیا کیا تھا !!
“میڈم آج ان بلز کو کسی طرح جانا ہے آپکے دستخط پینڈنگ پڑے ہیں ” اشوک اسکے دفتر کا کلرک اسکے سامنے فائلوں کا ڈھیر لیے کھڑا تھا
“اشوک انکو یہاں رکھ دو دوپہر تک دستخط ہوجائینگے “!اسکی آواز مین ہلکی تنبیہ اور سختی تھی

“جی میڈم جی “!اشوک کا لہجہ اس بار دھیما تھا
“زرین مجھے آج افس سے لوٹتے دیر ہوجائیگی بچوں کو اسکول سے لیتی جانا اپنی افس کی دنیا میں مگن نہ رہنا !!! بھلکڑ عورت!”
“”””امجد کا صبح کا غصہ ابل رہا تھا فون رکھتے ہوئے بہت مشکل سے اس نے اپنے چہرے کے تاثرات کو چھپایا اور سامنے بیٹھی ماتحت کی طرف دیکھ کر متانت سے مسکرائی اور گویا ہوئی “سوری کنٹینیو پلیز “!!!sorry continue please
اسکی بات ختم ہوتے ہی اس نے کہا “”ایسا کرتے ہیں ٹھیک تین بجے ایک میٹنگ بلاتے ہیں اور اس مسلے کا حل ڈھونڈ لیتے ہیں “”!!
از دیٹ اوکےIs that ok? ؟!وہ مسکرائی متانت سے اپنی ماتحت کو رخصت کرتے ہی اس نے اپنے سامنے کی فاییلیں کھول لیں
جوبلی اسکوائر پر سگنل کی سرخ بتی اسے پریشان کر رہی تھی بیچینی سے اس نے اپنی رسٹ واچ پر نظر ڈالی اور جیسے ہی بتی پیلی سے ہری ہوئی وہ زن سے اپنی گاڑی نکال لےگیء.
“”مما اج اپ آئی ہیں “”!!!بچے کھل اٹھے
“”ہاں آج چینج کے لیے مما آئی ہیں. … چلیں!!! “وہ دونوں بچوں کو سمیٹتے ہوئے کار کی طرف بڑھی اسکے دل میں ہلکا سا سکون اتر رہا تھا اور چہرے کا تشنج کھل رہا تھا…
“”مما آج گول گپےّ ‘”پنکی کی چیخ سے اسکے بریک لگتے لگتے رہ گئے
“”نہیں آج نہیں اور اس ٹریفک میں تو بالکل نہیں “”اس نے پیچھے مڑے بغیر حتمی انداز میں کہا
کار کے شیشے میں منہ بنائے بچوں کو دیکھ اس نے بائیں ہاتھ سے بوسہ اچھالا اور ہنس پڑی….
کچن کی صفائی کرتی وہ ملازمہ سے مخاطب تھی
“”شاکرہ زرا جلدی ہاتھ چلاو آج صاحب ناراض ہوکر گئے ہین آج کچھ خاص بنانا ہے “”!!!
کھانے کی میز پر کھل کھلاتے بچوں اور امجد کو دیکھ کر اسکے اندر ڈھیروں سکون اتر آیا اور اسکے چہرے پر طمانیت اترآیء..
رات دس بجے وہ سجدہ زیر تھی اور دن بھر کی تھکن, فکر,پریشانی,مایوسی,جھنجھلاہٹ,خوف گھبراہٹ بیچینی,طمانیت,سکون,آنسو بن کر باہر نکلتے رہے….
“”زرین کہاں ہو اور کتنا انتظار کرواو گی ؟”””امجد کا” انتظار “اسے آواز دے رہا تھا
اس نے سجدے سے سر اٹھایا جھٹ پٹ وارڈروب کھولا میرون کلر کی سیلکن نایٹی تھامتی وہ واش روم میں گھس گئی
تھوڑی دیر میں وہ سجی سنوری خوشبو بکھیرتی وہ امجد کے پہلو میں تھی ..

مگر دل اندر سے کہیں اداس تھا,
تھکن سے چور جسم ڈیوٹی پر حاضر ——اور ذہن اس سوچ میں ڈوبا تھا,,کل کا پرزینٹیشن تو تیار کرنا ابھی باقی ہے….!!!
مہر افروز کر ناٹک انڈیا
9008953881

About iliyas

Online Drugstore, buy baclofen online, Free shipping, buy Lexapro online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription

Check Also

Hikayat Qaisar Nazir Khawar

-صوفی سنتوں کی حکایتوں سے انتخاب بزرگی اور دانائی اردو قالب؛ قیصر نذیر خاور یہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Online Drugstore, buy lamisil online, Free shipping, buy keppra online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription