Breaking News

Short Story By Shahid Jameel

افسانہ ۔۔۔ مہاجر
مصنف ۔۔۔ ڈاکٹر شاہد جمیل,پٹنہ
تجزیہ نگار ۔۔۔ محمد علیم اسماعیل، ناندورہ

’’ اس کا غیظ اور بغض و حسد بے قابو ہو کر منہ سے کود پڑا تھا۔ ’’ وہ بولی مجھ جیسی سہاگن سے اچھی بیوہ۔‘‘
میں ہکا بکا رہ گیا اور وہ قسمت کو کوستے ہوئے سسکنے لگی تھی۔‘‘

اس کہانی کے متعلق یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ میاں بیوی کے ٹکراؤ اور تو تو میں میں کی کہانی ہے۔ ڈاکٹر شاہد جمیل کے مطابق ’’میاں بیوی میں تو تو میں میں، سرحدی جھڑپوں سی ہوتی ہیں اور سیز فائر کا معاہدہ ٹوٹتا رہتا ہے۔‘‘
شاہد آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ ایک ظالم شوہر اور مظلوم بیوی کی کہانی ہوگی۔ لیکن دوستوں اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو آپ غلط ہیں۔ کیوں کہ یہ زندگی سے ہارے ہوئے شوہر اور مکمل آزادی کی خواہش مند بیوی کی کہانی ہے۔ آج کل چند عورتیں آزادی کا مطالبہ کر رہی ہیں، حقوق کی باتیں کر رہی ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ انھیں حقوق اسلامی اور آزادی مغربی چاہیے۔
اب اگلا اقتباس دیکھیے :

’’ میں نے غصہ کو پی کر کہا ’’ پاگل ہوگئی ہو؟ بیوہ سہاگن سے اچھی ہو سکتی ہے؟‘‘
وہ بھڑک کر بولی،’’ ہاں! کیوں نہیں ہوتی ہے۔ آنکھوں پر پٹی بندھی ہو تب سامنے کھڑا ہاتھی بھی نظر نہیں آتا۔‘‘
میں سمجھ گیا کہ اس کی نظر میں کون ہے۔ میرے بھائی کی جواں مرگی نے اس کی بیوی کی زندگی بدل دی تھی۔ وہ پلک جھپکتے خودمختار اور پوری ملکیت کی تنہا مالکن بن گئی۔‘‘

جب بیوی سسرالی بندھنوں سے آزادی کی طلب گار ہو تب گھر کا سارا سکون غارت ہو جاتاہے۔ گھر جہنم بن جاتاہے۔ آدمی دن بھر کی مسافت سے تھک تھکا کر جب گھر آتا ہے تو وہ سکون چاہتا ہے۔ اور جب کہیں بھی سکون نہ ملے تو وہ گھر سنسار کیا زندگی سے ہی بے زار ہو جاتاہے۔

’’ اس کے دل و دماغ میں سنامی کی لہریں اٹھ رہی تھیں اور میرا غصہ بھی عروج پر تھا۔ مجھے لگا، اس کی انوکھی خواہش کو پورا کرنے کا یہ صحیح وقت ہے۔ میں نے پر عزم لہجے میں کہا ” ٹھیک ہے۔ میں تمھیں عیش بھری زندگی کا تحفہ دوں گا” اس وقت میں نے حسب منصوبہ منہ اندھیرے بستر چھوڑا تھا۔ پھر گھر بار کو فسادزدہ کی طرح الوداعی سلام کیا اور تہی دست و پاپیادہ کوہستان کی جانب چل پڑا تھا۔ ‘‘

شوہر نے بیوی کو عیش بھری زندگی کا تحفہ کچھ یوں دیا کہ بستر پر وصیت، دستاویزات، بینک اکاؤنٹ، بلینک چیک، کارڈ مع پن ، دکان کی چابیاں رکھ کر گھر بار چھوڑ دیا۔ نامعلوم منزل کی جانب چلتا رہا، ناہموار راہوں پر دن رات بھٹکتا رہا۔ جب تھک کر چور چور ہو جاتا اور دم اکھڑنے لگتا تو کچھ آرام کر لیتا۔ اپنے پیروں کو خود ہی دباتا، اپنے زخموں کو خود ہی سہلاتا۔ پھر پر خطر راہوں پر سفر کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا اور ایام زندگی کو اسی طرح خرچ کرتارہا۔

’’ سہاگ رات میں اس نے دانستہ مجھے تشنہ لب رکھا تھا۔ “وہ نہیں، تو کوئی اور نہیں۔،” یہ وعدہ اس نے اپنے آپ سے کیا ہوگا۔‘‘

ایک رات یوں ہی صحرا نوردی کرتے کرتے اس کے ذہن میں سہاگ رات اور شادی کی پہلی سال گرہ کا منظر گھومنے لگتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد جمیل نے منظر نگاری کا پورا پورا حق ادا کردیا۔ افسانے میں غضب کی روانی ہے جو کہیں ٹھہرنے نہیں دیتی۔ تمام مناظر ذہن کے پردوں پر حرکت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ افسانے کی زبان بھی کافی دلچسپ ہے۔

’’اچانک وہ میرے سینے پر ٹھڈی جما کر بولی، “ایک بات پوچھوں؟‘‘
ٹھڈی چبھنے لگی تھی۔ لیکن سینے کا دباؤ سروربخش تھا۔ میں فلسفیانہ گفتگو میں وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن وہ فی الوقت جواب کی منتظر تھی تب میں نے کہا،’’پوچھئے! لیکن اس وقت ایک سے زیادہ نہیں۔‘‘
’’آپ نے کسی سے محبت کی ہے؟ ” اس کی نگاہ میرے چہرے پر مرکوز تھی۔ مجھے لگا کہ لڑکی دیکھنے آئی چالاک عورت کی طرح وہ کچن اور باتھ روم بھی دیکھ لینا چاہتی ہے۔‘‘

آج تک ہم نے عورتوں پر ظلم کی داستانیں پڑھی تھیں لیکن مرد بھی مظلوم ہوتے ہیں۔ یہ صرف عہد جدید میں نہیں یہ تو ہر دور میں ہوا ہے۔ پر ہم نے سکے کا ہمیشہ ایک ہی پہلو دیکھا ہے تخلیقیت واقعات کے رگ و پے میں سرایت کر گئی ہے۔ کہانی اپنے وجود میں انسانی کرب کو سمیٹ کر سماجی مسائل کی طرف اشارہ کر ہی ہیں۔

’’ وہ بولی بشتر دو شیزاؤں کے دل میں خوابوں کا شہزادہ ہوتا ہے۔لیکن۔۔۔۔۔۔‘‘
’’لیکن کیا؟‘‘ میری آواز جاں بلب مریض کی کراہ جیسی تھی۔
’’لیکن سب خوش نصیب نہیں ہوتیں۔‘‘ اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔‘‘

گھریلو زندگی کے مسائل کا ڈاکٹر شاہد جمیل نے نہایت ہی باریکی سے جائزہ لیا ہیں۔ ان کا مشاہدہ بہت گہرا ہے۔ انھوں نے زندگی کو بہت ہی قریب سے دیکھا ہے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو انھوں نے تخلیقیت سے بھر دیا ہے۔

’’موت کا یقین ہوتے مجھے گھر پریوار کی فکر ستانے لگی تھی۔ بیگانے سے اپنوں کی یاد شدت سے آنے لگی۔‘‘

جب انسان کو اپنی موت یقینی لگتی ہے تو فطری بات ہے کہ اسے اپنے گھر پریوار کی یاد ستاتی ہے۔ وہ اپنوں کے درمیان زندگی کی آخری سانسیں لینا چاہتا ہے، چاہے وہ اپنے کتنے ہی بیگانے کیوں نہ ہو۔

’’ اچانک میری نگاہ کالے چیونٹوں کی رواں قطار پر مرکوز ہو گئی، جو باہمی اشتراک سے ایک مکوڑے کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے لے جارہے تھے۔‘‘

مصنف نے بتایا ہے کہ زندگی باہمی اشتراک سے چلتی ہے۔ اور وہ دل ہی دل یہ محسوس کرتا ہے کہ اس وقت اگر بیوی پاس ہوتی تو اسے یہ منظر دکھاتا۔ ایک دوسرے کے لیے قربانی کا جذبہ رکھنے سے ہی گھر پریوار کی دیواریں مضبوط ہوتی ہے۔ افسانے کی پیشکش اتنی دلچسپ ہے کہ قاری کو اپنی گرفت میں آنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ قاری اپنے آپ کو افسانے کی رواں لہروں کے حوالے کر دیتا ہے اور اسی کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد جمیل ایک ایسے فنکار ہے جن کی یہاں زندگی کی ناہمواریوں کے خلاف احتجاج ہے، جدوجہد ہے،ٹکراؤ ہے۔

About iliyas

Check Also

Article By Qaisar Nazir Khawar

تصوف ، فقیری اور منصوری روایت کے قائل ، ہفت زبان درویش شاعر سچل سرمست …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *