Breaking News

Article By Qaisar Nazir Khawar

تصوف ، فقیری اور منصوری روایت کے قائل ، ہفت زبان درویش شاعر
سچل سرمست
قیصر نذیر خاور

اناالحق جب کہوں گا ، میں سرِمیدان آوٗں گا
گلی اب چھوڑ کے دلبر کی ، طرف دیگر ںہ جاوٗں گا

سچل سرمست صرف سندھی زبان کے شاعر نہیں بلکہ انہوں نے فارسی ، اردو ، پنجابی ، سرائیکی ، بلوچی اور عربی میں بھی شاعری کی ہے اور وہ بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ان کی سندھی شاعری ، اسی لئے انہیں شاعرِ ہفت زباں بھی کہتے ہیں۔
سچل سرمست کے آباوٗ اجداد آٹھویں صدی عیسوی (دوسری صدی ہجری ) کے آغاز میں محمد بن قاسم کے ساتھ سندھ آئے تھے اور ان کے آباوٗ اجداد کا شجرہ ء نصب حضرت عمر فاروق سے جا ملتا ہے۔ وہ سیوستان (سیہون ) کے حکمران بھی رہے اور یہ حکمرانی محمود غزنوی کے عہد تک جاری رہی لیکن سچل سرمست کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہ تھی ۔ ان کے نزدیک البتہ یہ بات زیا دہ اہم تھی کہ وہ خواجہ محمد حافظ ، عرف میاں صاحب ڈ ِنہ کے پوتے اور خواجہ عبدالحق ( جو بعد میں حضرت صاحب ڈ ِنہ کے سجادہ نشین ہوئے ) کے بھتیجے ہیں ۔ وہ اس بات کا اظہار فارسی ، پنجابی اور سندھی تینوں زبانوں میں کرتے ہیں ۔

سچل سرمست کے دادا 1101 ہجری میں پیدا ہوئے اور 1192 ہجری میں وفات پائی ، وہ سندھی کے مشہور بزرگ اور شاعر شاہ عبد اللطیف بھٹائی ( 1102ھ /1689ء ۔ 1165 ھ /1752ء ) کے ہم عصر تھے۔

اس زمانے میں سندھ پر کلہوڑوں کی حکومت تھی جو محمد حافظ کی نوعمری میں قائم ہوئی تھی اور ان کے انتقال کے چند سال بعد تک قائم رہی۔ اس سے قبل اورنگ زیب کی وفات کے بعد سندھ پر سے مغلوں کی حکمرانی کا دور ختم ہو گیا تھا ۔ محمد حافظ کلہوڑوں کے عہد میں سرکار کے ملازم تھے لیکن بعد ازاں دنیا کو ترک کر کے درویشی اختیار کی ۔ خواجہ محمد حافظ صاحب کرامات بزرگ تو تھے ہی مگر تصوف کے حوالے سے سندھی اور پنجابی کے بھی شاعر تھے ۔ شاعری ان کے لئے افکار کی تبلیغ کا ذریعہ تھی اور چونکہ تبلیغ انہوں نے عام انسانوں میں کرنی ہوتی تھی اس لئے وہ مقامی علاقوں میں بولی جانے والی زبانوں کا سہارا لیا کرتے تھے۔ ان کی ایک کافی کچھ یوں ہے ؛
صورت بشری کرکے بہانہ
ہر رنگ دے وچ رنگ رچائم
یعقوب ہو کے ، ٹیٹرا جائم
یوسف اپنا نام دھرائم
آپ کو آپے کھوہے پائم
قیدی ہو کے درکنعاں
آپے اپنا م ُل چکائم
حید ر بن کے حملہ کیتم
ہو کے حسن میں زہر چاپیتم
نال نیازی دے نا لڑا نیتم
چھوڑ مدینہ ، ملک ، مکان
کربل دے وچ کندھڑا کپائم
کداں شریعت دے وچ شادی
کداں معرفت کراں منادی
کداں حقیقت دا ہاں ہادی
کداں طریقت کر طولان
ہر مظہر وچ حکم ہلائم
مخفی بھی میں ہوں ظاہر بھی میں ہوں
ناظرتے منظور بھی میں ہوں
تجلی بھی میں ہوں طور بھی میں ہوں
موسٰی نوں چاکر مستان
صاحب ڈنہ ہی نام سٹدائم

میں نے سچل سرمست کے دادا کا ذکر اس لئے تفصیل سے کیا ہے اور ان کی ایک کافی بھی آپ کے سامنے پیش کی ہے کیونکہ سچل سر مست کی شاعری پر خواجہ حافظ کے افکار کا بہت گہرا سایہ ہے اور سچل کی شاعری اوپر بیان کی گئی کافی کے سلسلے کی ہی کڑیاں ہیں ۔ خواجہ حافظ کے اثر کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ”درازا شریف“ سچل سرمست کے لئے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ مدینہ مسلمانوں کے لئے اہم ہے ۔ سچل سرمست تمام عمر “درازا شریف ” میں ہی رہے ، ایک آدھ بار سکھر، روہڑی ، شکار پور ، لاڑکانہ اور قرب و جوار کے علاقوں میں گئے۔
اپنے دادا اور چچا اور درازا شریف کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ؛
دادا مرا محمد حافظ ، شہر درازا ڈیرا
ایک اسی کا فیض ہے سارا جو ہے حاصل میرا
ہادی مہدی مرشد میرا قادریہ ہے کامل
اس کے مریدوں میں ہے عارف عبدالحق بھی شامل
مہدی شاہ مربی میرا ، رہبر راہ دکھائے
حق محقق، مستی مے بھی وہ بخشے بخشائے
شاہ عبیداللہ ہمارا، خواجہ پیراں پیراں
آل نبیّ اولاد علی ہے حضرت میراں میراں
اس کا دادا غوث الاعظم مرشد سب ولیوں کا
اس کے پاوٗں میں رُلتے دیکھا تاج اور تخت شہوں کا
اللہ نورالسموات والارض ہے سارا ظاہر
اس بِن کوئی نہیں ہے وہ خود منظر ہے خود ناظر
ولقد کر منا بنی آدم و کلنا ہم فی البر والبحر
سچو ہر دم حاضر

سچل سرمست کا اصلی نام خواجہ عبد الوہاب فاروقی تھا اور وہ خواجہ محمد حافظ کے بڑے بیٹے خواجہ صلاح الدین کے گھر” درازا شریف“ میں 1152ھ/ 1739ء میں پیدا ہوا ۔ اس وقت خواجہ محمد حافظ 51 برس جبکہ چچا عبدالحق 32 برس کے تھے۔ سچل سرمست چھ برس کا تھا کہ اس کے والد کا انتقال ہوگیا ، یوں اس کا وقت دادا اور چچا کی سنگت میں زیادہ گزرا۔
سچل سرمست بچپن میں بہت کم گو تھے لیکن وہ جو کچھ بولتے تھے وہ سچ ہوتا تھا اس لئے بچپن سے ہی ان کا نام سچو یا سچل پڑ گیا ۔ تن تنہا رہنا عادت تھی ۔ جنگلوں میں پھرتے رہتے تھے ۔ خاموشی ، صبراور فکر ان کا فطری سرمایہ تھا ۔ ایامِ جوانی سے ہی عبادت گزار تھے اور وظائف میں مشغول رہتے ۔ چچا زاد سے شادی ہوئی لیکن کوئی اولاد نہ ہوئی ۔
سچل سرمست نے جب ہوش سنبھالا تو کلہوڑوں کا دور تھا پھر انہوں نے تالپوروں کا دور دیکھا اور زندگی کے آخری حصے میں انگریز کو سندھ پر حاوی ہوتے دیکھا ۔ انہوں نے سندھ میں ولندیزوں کی آمدورفت بھی دیکھی ۔ کلہوڑوں کے عہد میں سندھ ایک اکائی تھا جو تالپوروں کے نصف عہد تک قائم رہی لیکن پھر سندھ تالپوروں کے ہی دور میں تین حصوں میں بٹ گیا ۔
ان کے بچپن میں نادر شاہ نے بھی سندھ پر حملہ کیا اور سندھ کی نہ صرف دولت ہمراہ لے گیا بلکہ سندھ کے ٹکڑے کرنے میں بھی اس کا ہاتھ گردانا جاتا ہے ۔ اسی لئے سچل سرمست کی شاعری میں ‘ نادر ‘ کا نام ظالم کے مفہوم میں بارہا آیا ہے ۔ بعد ازاں احمد شاہ ابدالی کے حملے شروع ہو گئے اور 1753ء میں جب احمد شاہ ابدالی سکھر کے راستے سندھ میں داخل ہوا تو سچل سرمست اس وقت چودہ برس کا تھا ۔
1758ء میں انگریزوں نے دوبارہ کوٹھی قائم کی ۔ اس سے قبل پہلی کوٹھی جو 1635ء میں ٹھٹھہ میں کھلی تھی اور 1692ء میں بند کر دی گئی تھی ۔ یوں انگریزوں نے قلمی شورے کی تجارت کے بہانے آہستہ آہستہ سندھ میں حاوی ہونا شروع کر دیا تھا ۔ اس پر سچل سرمست نے جو لکھا اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے ؛
” میں نے بیچ دریا ایک کشتی دیکھی جس میں ماہر ملاح سوار تھے یہ لوگ خود کو سمندر کا حاکم سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو اس قدر بہادر تصور کرتے ہیں کہ ہند اور سندھ ان کی نظروں میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ انہیں اپنے آپ پر بہت فخر ہے اور خود کو بادشاہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ بہت ہی مکار اور دغا باز ہیں اور جب انہیں موقع ملتا ہے تو وہ مچھلیاں شکار کرنے یعنی دوسروں کا مال ہڑپ کرنے میں کوئی پس و پیش نہیں کرتے ۔ افسوس سادہ لوح لوگ ان پر بڑا ہی اعتماد رکھتے ہیں تاہم انہیں (مقامی لوگوں کو) اللہ پر اعتقاد ہے کہ وہ انہیں ان (فرنگیوں) ظالموں کے ظلم سے بچائے رکھے گا ۔ ”

سندھ کی منتشر مذہبی اور سیاسی فضا میں سچل سرمست نے ہرچند اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کی اور گوشہ گیر فقیر کی حیثیت سے دن گزارے لیکن حالات سے خود کو الگ نہ رکھ سکے ، یہی وجہ ہے کہ شاہ لطیف بھٹائی کی شاعری میں ان کے عہد کی سیاسی و مذہبی تصویر سامنے نہیں آتی جبکہ سچل کے ہاں آپ اسے آئینہ بنے واضع طور پر دیکھ سکتے ہیں ۔
سچل سرمست کی سندھی شاعری مختلف موضوعات سے بھری پڑی ہے اور انہوں نے پرانی طرز کی شاعری جیسے ‘ ابیات اور ‘ دوہے’ کی صنفوں میں بہتری پیدا کی ۔ اگر شاہ عبد اللطیف بھٹائی اس لئے مانے جاتے ہیں کہ انہوں نے سندھی شاعری کو ایک ‘ طرز ‘ دی اور مواد کے اعتبار سے بہتر بنایا تو سچل سرمست کو یہ خراج جاتا ہے کہ انہوں نے سندھی شاعری میں کافی ، غزل اور مرثیہ کی صنفوں کو بھی اعلیٰ مقام تک پہنچایا ۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی شاعری بنیادی طور پر مقامی اور لوک کہانیوں کے کرداروں پر مبنی ہیں جبکہ سچل سرمست ماروی ، سسی پنوں اور نوری جیسی مقامی کہانیوں کو موضوع تو بناتا ہی ہے وہ ہیر رانجھے کو بھی جگہ دیتا ہے اور عطار، جامی اور رومی جیسے صوفی علمائ کے افکار کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بناتا ہے۔ خدا کی ‘ واحد ‘ ہونے کے بارے میں وہ لکھتا ہے ؛
بندھن خام خیال کے اپنے پہلے توڑ
من میں اپنے ڈال لے، حیرت پھر حلاج کی
جنج پرائی میں مت چل ، نہ بن کوئی تماشہ
دولہا بن بارات کا ، ڈال دے اک ہلچل
راہیں باقی سب دلدل، رستہ بس حلاج کا
’ تُو‘ کو ڈھونڈوں ’میں‘ کو ڈھونڈوں پاوٗں ’ تُو‘ ہی ’ تُو‘
’ تُو‘ اور’ یہ‘ اور’میں‘ سب دیکھوں ‘ لا ‘ میں تھے موجود
بے رنگی کے جائے رنگ ہیں ، دیکھ فرق ہے کیا
موسیٰ اور فرعون کے سنگ ہیں ، ظاہر میں ہیں جدا

سچل سرمست منصوری روایت کی پیروی کرتے ہوئے ”موجود“ کی نفی کرتا رہا ؛
دم مارے یارانے کا پر ہو نہ سکے قربان
رستہ اک منصوری ہے اور وہی ہے مرد کی شان
”انا سرہ “ کے اسم سے ہوا ہے تو انسان
دکھ سے حیرت ملے کہ جس سے تو ہو گا حیران
آئے انا الحق نعرہ مار کے آئے سرمےدان
تو جانے جب خود کو تب سے ہی دین ایمان
شمع پتنگا جیسے سچو ہو جائیں یک جان

اسی نعرہِ منصوری نے اسے منصور، سرمد ، شاہ عنایت اور شاہ شمس سے وابستہ رکھا ۔ اسی نعرہ کے باعث فرید الدین عطار، مولانا روم اور جامی اس کے مرشد ہوئے اور اسی کے باعث اس نے پنجابی کے بزرگ شاعر بلھے شاہ ، منصور ، سرمد ، شمس کا ذکر کرتے ہوئے ‘ تو ‘ سے کہا کہ تُو مغرور تو ہے لیکن پھر بھی تیرے نینوں نے مجھے اپنا قیدی بنا ، متحیر کر رکھا ہے ؛
کس کو بتاوٗں حال کہ تیرے نیناں کر گئے چُور
بیراگی کیا بلھے شاہ کو جن کا شہر قصور
ان نینوں کے کارن سولی پر لٹکا منصور
سرمد کو بھی تو نے دار پہ وارا اے مغرور
شمس الحق کی کھال کھنچا دی جگ میں ہے مشہور
موت انہیں منظور ہوئی ، یہ تھے جو ترے حضور
سچو اس حیرت میں رہنا بھول کے سب مذکور

‘ سسی پنوں ‘ کی لوک کہانی کے حوالے سے اس نے اس کی پوری داستان منظوم کی ہے ایک حصہ یوں ہے ؛
میں تھی ابھاگن سوتے میں مجھے لالن چھوڑ گیا
ڈھونڈوں گی ان پاوٗں کے نقشے ، مجھ کو خبر تھی کیا
ہوت جو ہوتا پاس تو جیون سکھ سے دیتی بتا
کیچ کی راہ میں کیسے کیسے پربت آتے ہیں
کیا کیا تہمت اس برہن پر لوگ لگاتے ہیں
لیکن دکھ پریتم کے مجھ کو سکھ بن جاتے ہیں
پربت پربت پاوٗں دھروں وہ روپ دکھاوٗں میں
وندر تک اس جت کی خاطر ڈھونڈتی جاوٗں میں
ہوت سبھا میں ذکر ہو میرا یہ سن پاوٗں میں
چھوڑ گئے ہو مجھ کو پیچھے کیچئیو! سنو سوال

‘ ماروی ‘ کی داستان لکھتے ہوئے وہ کہتا ہے ؛
دور پنھوار ہوئے ہیں کس کو اپنا دکھ بتلاوٗں
ان کی خاطر ماروی میں ، یہاں پل پل مرتی جاوٗں
لا? بلا میرے میکے والے ، قبر ان سے بنواوٗں
بچھڑ کے میکے والوں سے آئے دکھ کے دن ملول
ایسی توقع بھی تو نہ تھی جائیں گے مجھ کو بھول
میری خبر تو لینے والے، بسے ہیں تھر کی دھول
لوئیاں لے کر آنے والے وہ میرے چرواہے
عمر وہ جھگیاں ڈال کے مجھ سے کتنی دور ہیں بیٹھے
وہ میرے پنھوارجو اب تک لوٹ کے بھی نہیں آئے
شائد میکے والوں کو وہ دیس گیا ہے بھا
شاید وہ پھر لوٹ آئیں یہاں برسے جب برکھا
بھول نہیں سکتی میں پل بھر اپنا میکا دیس

ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں ؛
سچل کے کلام کا بنیادی موضوع تصوف ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وحدت الوجود اور ہمہ اوست ان کا فلسفہ حیات ہے۔ عاشقی و درویشی ان کا مزاج ہے۔ ذکر اور بے نیازی ان کے کلام کی جان ہے ۔ ان کا کلام اپنی سادگی، جذبہ عشق اور مخصوص موضوعات کے اظہار کی رچاوٹ کی وجہ سے شاعری کی مخصوص روایت کا ہی ایک حصہ ہے۔ ”

‘ تُو ہی تُو ‘ کے تصوفوی اظہار کا ایک اور انگ دیکھیں ؛
تُو اپنی قدر کو پہچان ، سپہ سالار تُو ہو گا
توئی اندر، توئی باہر، ہمہ اظہار تُو ہو گا
اگرتُو قدر نعمت سے رہا غافل ، تو رہنے دے
مگر جب خود کو پہچانا ، سدا سردار تُو ہو گا
اگر منصور بن کر دہر میں مطلب کیا حاصل
انا الحق کہنے سے بے شک ہمہ دیدار تُو ہو گا
جو ہے حلاج سولی پر ہوا فارغ وہ ہستی سے
نڈر بن کر، انا احمد ، کیا اظہار تُو ہو گا
کہاں کا تھا وہ اسکندر ، ہوا دنیا پہ جو قابض
جو جیتا ملک ِدل تو نے، سکندر دار تُو ہو گا
سچل کی ذات ہے معلوم ، جو سمجھا ، وہی ہے تُو
نہیں کوئی دوسرا دلبر، وہی دلدار تُو ہو گا

سچل کے سندھی دیوان کے مرتب عثمان علی انصاری کا کہنا ہے ؛
”سندھ کی ادبی دنیا میں سچل ہی ایک ایسا روشن ستارہ ہے جسے زاہدوں کا ایک گروہ محض اس لئے خراجِ تحسین دینے میں بُخل سے کام لیتا ہے کہ اس طرح ان کے اعتقاد کو ٹھیس لگتی ہے ۔ سچل کے کلام میں تصوف کی اس قدر لاتعداد خوبیاں موجود ہیں کہ وہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلم لوگوں کے دلوں پر بھی حکومت کرتا ہے اور لوگ اس کے کلام سے نہ صرف لذتِ لسانی بلکہ تاثراتِ روحانی بھی حاصل کرتے ہیں۔ ”

سچل کی شاعری میں تصوف کا ایک رنگ کچھ یوں ہے ، ہیر کی زبان میں کہتا ہے ؛
رانجھن لے چل اپنے ساتھ
نہیں تو جان سے جاتی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ وو اللہ
تیرے عشق نے نعرہ مارا جھنگ سیال بھی چھوڑا سارا
تخت ہزارے آتی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ وو اللہ
تیری خاطر پھروں اداسی ، بھیس بدل کر بنوں سناسی
جان کو یہاں کھپاتی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔وو اللہ
درد فراق نے مجھ کو مارا ، بھولی وطن قبیلہ سارا
خون جگر کا کھاتی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ وو اللہ

سچل سرمست کے شعر کہنے کا یہ عالم تھا کہ جس وقت سارنگی یا طبلے پر ہاتھ لگتا تھا تو اس پر بےخودی طاری ہو جاتی تھی ۔ عین وجد و مستی کے عالم میں تواتر سے شعر کہتا جاتا تھا اور اس کے مرید اور فقیر ان اشعار کو قلم بند کرتے رہتے تھے ۔ جب ہوش آتا تو مرید اسے کلام پڑھ کر سناتے لیکن سچل سرمست آگے سے کہتا ؛
” یہ کسی کہنے والے نے کہا ہو گا مجھے کچھ یاد نہیں۔ ”

سندھی ساز”سمّا“ اس کا پسندیدہ ساز تھا۔ سچل کے مریدوں نے اس کا کلام کتابی صورت میں اکٹھا کر رکھا تھا۔ ایک دفعہ اسے اپنے کلام پر یہ شک ہو گیا کہ مبادا لوگ غلط مطلب لے کر گمراہ نہ ہو جائیں تو تمام مسّودوں کو جلا دیا۔
بزرگی پار سائی کو نہ جانوں
عداوت آشنائی کو نہ جانوں
میں گم دریائےِ حیرت میں ہوا ہوں
جہاں چوں اور چرائی کو نہ جانوں
تن خاکی کو جب یکبار چھوڑوں
تو بیخود ، خود نمائی کو نہ جانوں
مری رہ ، عشق کے رنج و الم ہیں
میں اس زہد ریائی کو نہ جانوں
اگرچہ اس کا شعلہ دیکھتا ہوں
سیاہی ، روشنائی کو نہ جانوں
بچھڑ کر خود سے میں جانے کہاں ہوں
گدائی بادشائی کو نہ جانوں

کافی عرصہ بعد اپنے فقیروں اور مریدوں کے اصرار پر اس نے اپنے کلام کو دوبارہ قلمبند کرنے کی اجازت دی جس پر فقیروں اور مریدوں کو جو کلام یاد تھا ، اسے کتابی صورت میں سامنے لے آئے۔ مرزاعلی قلی بیگ کے مطابق سچل سرمست کی وفات کے وقت اس کے اشعار کی تعداد نو لاکھ چھتیس ہزار چھ سو تھی ۔
سچل سرمست نے 1826ء میں وفات پائی ۔ اس کی چھڑی اور تبورا آج بھی اس کے مزار پر محفوظ- ہے ۔

About iliyas

Check Also

Shamoil Ahmed Short Story

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *