Breaking News

Article By Naziya Parween on Anil Thakkar

مان سمان
دوروز قبل باو ء جی(گلزار جاوید. ..چہار سو ) نے مجھے اطلاع کی کہ انہوں نے انل ٹھاکر جی کی کتاب بیجهی ہے اور ساتھ ہی یہ اطلاع کہ میرا اور ٹھاکر جی کے آباو اجداد کا تعلق ایک ہی جنم بهومی سے ہے. میرے لیے خوشی کا باعث تها. دھرتی کی کشش بهی خون کی روانی سے پورا پورا سنبدھ رکھتی ہے. وزیر آغا کا نظریہ “دھرتی پوجا “تمام رشتوں پر حاوی ہوجاتا ہے .یہ کیا کردیا باو ءجی آپ نے کہ ان دیکھے مان کے پوتر سمان کے تخت و تاج کی منصبی کے لیے میرا نام منتخب کیا تو کیوں کر میں تو ادب کی ادنیٰ اور نکمی طالبہ ہوں. یہ مان سمان بهی عجیب تعلق کی ڈور ہے جو سانسوں اور خیالات کو ان دیکھے رشتے میں یوں باندھتی ہے کہ پھر عمر بھر کے لیے اس کی مقدسیت کے سامنے پلکیں نظر بار نہی ہوسکتیں اور دل کی ڈهرکن کی رفتار کو یکبارگی طلاطم خیز بناتی ہے اور جزبات کو اس طرح انگیختہ کرتی ہے کہ سکون اور فخر کی فضا چاروں اوور چها جاتی ہے. انل ٹھاکر صاحب میرے لیے انجان ہستی تھے. باوء جی نے صرف نام سے روشناس کروایا تھا اور کچھ نہیں جانتی تھی مگر اس مجموعے “نادیدہ فصیل “کے مطالعے کے بعد یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میری تو جنم جنم سے ان سے شناسائی کا رشتہ ہے بلکہ ہر انسان کا ہی جس طرح ٹھاکر صاحب نے احساسات کو قلم کی نوک سے لفظوں کا لباس عطا کیا وه معاشرتی بے اعتدالی کے رستے ہوئے ناسور پر مرہم پٹی کرنے کی عمدہ مثال ہے. “نادیدہ فصیل “نام پڑھتے ہی ایک طلسماتی کشمکش نے جنم لیا کہ اس نام میں کیا کشش ہے پس پردہ اور زیریں سطح پر اس لفظ کی بنیادوں میں کیسا سوگ اور نوحے کرلا رہے ہیں اور اس کتاب کےصفحات میں کیا دفینے چهپے ہوئے ہیں جن کے آگے مصنف نے نادیدہ فصیل کهڑی کی ہے، کس راز کی پردہ پوشی مطلوب اور کس کی پردہ کشائی مقصود ہے اس کتاب کے سر ورق پر رات کی تاریکی ، جزبات کی شدت سے زیر بار طوفان میں کڑکنے والی بجلی، دہشت اور خوفناکی کی عکس بندی سیاہ اور نیلے رنگ سے کی گئی ہے جو زندگی کے اتار چڑھاؤ کا بہترین امتزاج کی علامت ہے. جس نے اس مجموعے کی پراسرایت میں اضافہ کیا اور میرے جیسی نکمی اور نالائق قاری کے شوق ء مطالعہ کے اسپ کو مہمیز کرنے کے لیے چابک کا کام کیا. .اشاعتی ادارے اور پبلشرر کی منصف سے دلی وابستگی کا عمدہ ثبوت ہے. نادیدہ فصیل مصنف کی محنت ء شاقہ اور کاوش کی عرق ریزی کا اظہار صفحات پر موتیوں کی شکل میں جزبات کے بے کراں سمندر کو سموئے اور سمیٹے ہوئے ہے. انتساب وینکیا کامل کلا دگی کے نام مصنف سے قربت کا خوبصورت اظہار ہے. مجموعہ میں نو افسانے شامل ہیں. ہر افسانہ اپنی جگہ باکمال ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ نو افسانے نہی بلکہ نورتن ہیں جیسے جیسے ایک کے بعد ا یک افسانہ نظر کے سامنے آیا. وه ایسا جڑاو ء نگینہ تها. تاج محل کی سی شان ،بان اور آن لئے اپنی جگہ ایستادہ نظر آیا اور فیصلہ کرنا مشکل ہوتا گیا کہ کسے سراہا جائے اور کس افسانے پر تنقید کی جائے. ہر افسانے کے عنوان سے لے کر پلاٹ، کردار، فضا بندی، مکالمے، زبان دانی اور جزبات کی عکاسی اتنی جاندار اور بهرپور نظر آئ کہ ڈهرکن کا زیر وبم متن کے ساتھ رشتہ ء ازواج میں منسلک ہوگیا. “ایک پیالی چائے کی “کی کہانی ہلکے پھلکے انداز میں شروع ہوئ اور اختتام اتنا سبق آموز اور جان آور کہ روایات اور اقدار کے سامنے کاروباری اصول و قوانین ہیچ نظر آتے ہیں ،قرض کی مد میں سود کا اژدها زندگی کے سکون کو ہڑپ کر جاتا ہے اور زندگی کا بیشتر حصہ ساہوکار کے ہاتھوں تزلیل کا سامنے کرتے گزر جاتی ہے. اور ایک چائے کی پیالی اور مہمان نوازی کی روایت عقل اور شعور کو ششدر کر دینے کی پوری طاقت رکھتی ہے
_
“خوشبو “کا نام پڑھتے ہی پروین شاکر بے ساختہ یاد آئیں. وه تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پهول کدهر جائے گا. تو اس افسانے کی خوشبو بهی اعصاب پر سوار محسوس ہوئ جو ذات پات، مزہب، عقیدوں اور رنگ و نسل کے طوق سے آزاد ہوکر ہر طرف مہکا گئ اور بے ساختہ زبان پر سبحان اللہ اور پلکیں نم نظر آئیں
“اب کہ جب میں رنگے ہاتھوں پکڑ آ گیا ہوں لوگ مجھے دہشتگرد تصور کررہے ہیں آپ نے بهی شیطان کے لقب سے نوازنے پر تلے ہوئے ہیں. مجبوراً مجھے کہنا پڑ ھ رہا ہے. ….سب عبادت میں محو رہتے میں طہارت خانوں میں اینٹ کے ڈهیلے ہٹا ہٹا کر ایک طرف رکھتا تاکہ غیر متحرک پشاب اپنے ساتھ بدبو کو لے کر رواں ہوجائے اور آپ سب سکون سے طہارت سے فارغ ہوکر پاک سانس سے نماز پڑھ سکیں”
احساس و جذبات کا عمدہ مرقع ہے “کیا نام دیں ” کو پڑھتے ہوئے دل بہت اداسی اور بوجھل کیفیات کا شکار ہو جاتا ہے کہ ایک طرف برسوں کی پرانی دوستی کا مان اتنا مضبوط ہے کہ ایک دوست دوسرے دوست کی خوشی کی خاطر اپنے اہم اور ضروری کام پس پشت ڈال کر قرض لے کر دیارغیر میں شرکت کے لیے آتا ہے جبکہ دوسری طرف ایک باپ وسوسے اور دل میں چهپے خوف کے زیر اثر برسوں پرانی
_
دوستی کا اتمان کرتا نظر آتا ہے. اور دوستی کے لازوال رشتے پر جزباتیت اور ذہنی خوف کی فضا بهاری نظر آتی ہے.
“سرپرست “ایک ایسے خوف کا سایہ اوڑھے ہوئے ہے جس میں جوانی کے داغ دار ہونے کا ذہنی خوف حاوی اور خونی رشتہ دب جاتا ہے مگر آنسوؤں کی رم جھم میں دو بهیگی انکهیں اور کپکپاتے لب بے خوفی سے محبت کی چاشنی کو آنچ دیتے دکھائے گئے ہیں. “علامت ء فردا ” معاشرتی جرائم ( چهوٹی عمر کی بچیوں سے زنا اور زیادتی )نے پڑھے لکھے طبقے کے والدین کے دل ودماغ اور چہروں پر عصمت دری کے واقعات کی وجہ سے خوف و ہراس کی چادر تنی ہوئی ہے. نیند جسے زہنی سکون کا زینہ سمجھا جاتا تھا وہاں بهی اب خوف کے آسیب نے بسیرا کر رکھا ہے
“نادیدہ فصیل “کی بنیادوں میں دو دلوں کی ڈهرکن، انکهوں کا انتظار اور ویرانی، ہونٹوں سے ہنسی کی چهنکار بے خبری میں چهن کر چپ کا قفل ماتم کناں ہے. وقت کی پانچ دہائیوں کے سفر نے مسافروں سے انمٹ دوری کو پاٹنے کا حق چهین لیا ہے. تین بول “طلاق “زمانے سے ٹکر لینے والے تازہ اور نوخیز زہنوں بوسیدگی اور پچھتاوے کے جہنم میں دهکیل دیتے ہیں. یہاں زندگی بهر اپنے اپنے حصے کا ایندھن ڈوهنے میں عمر بیت جاتی ہے. اور زندگی کی رمق ختم ہونے پر بھی دو انکهوں کے انتظار ختم نہی ہوتا. یہ کیسا بندھن تها کہ تین لفظوں کے کاری وار جیسے ناگ سے ڈسنے اور نادیدہ فصیل اٹھ جانے کے بعد بهی دل سے ڈهرکن جدا نہی ہوئ جو عمر بهر ایک دوسرے کے لیے رواں دواں تهی. “یک لخت اسے خیال آیا کہ سحر کی انکهیں کس کی منتظر تهی ”
_
“لمس” ایک پورے جہان اور انوکھی دنیا کا نام ہے. جس سے آشنائی بهی بری اور ناآشنا ئ بهی. لمس کبھی پورے وجود میں حسرت بهر دیتا ہے تو کبھی دہکتے انگارے تو کبھی فرحت اور نشاط کی دل فریبی کا قوی احساس. ..لمس صرف اور صرف سچ ہے اس کا تعلق جزبات خواه وه اچھے ہوں یا برے. …بعض الفاظ کا لمس انسان کے لئے تازیانے کا کام کرتا ہے اور اس اذیت میں پوری زندگی کا محور ڈهڑا ڈهڑ تڑپتا نظر آتا ہے. اس کی اذیت کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جاتی ہے. ” بدچلن اس لفظ کا بهی ایک لمس تها اس نے محسوس کیا جیسے اس کی روح کو جھلسا کر رکھ دیا ہے ”
“سنک ” انجانے میں پیدا ہونے والی غلط فہمی اور لہجے کا کاٹ سے روح دہلا دینے والی تحریر ہے. بعض لہجے اور نظر کی کاٹ سچ کو بهی جرم بنا دیتی ہے یہ افسانہ ماں کے جزبات اور زندگی بهر کی اذیت ناکی کی بهرپور داستان ہے
_
“جنت کا راستہ ” اس کہانی سے منصف نے پورا پورا انصاف کیا ہے. کچھ لوگوں کی نظر میں مزہب، عقیدت، احترام اور پاکیزگی کا نام ہے تو دوسری طرف معاشرے کے چند عناصر مزہب کو بھی بیوپاربنالیتے ہیں. مزہب کی آڑ میں انسانیت کی تزلیل، روایات سے انحراف اور مغربی تہذیب سے اثر پزیرئ پر گہری چوٹ دکھائ دیتی ہے یہ لوگ مزہب کے نام پر دهوکہ دہی، فریب اور خیانت اپنا لیتے ہیں اور نئ نسل کے ذہن کو پراگندہ کرنے کا موجب بنتے ہیں. مصنف کے تمام افسانوں میں ندرت خیالی، اسلوب کی سلاست اور زبان کی روانی جیسا وصف نمایاں ہے. مصنف کے قلم نے جزبات انسانی. انکهوں کی ویرانی اور لہو کی روانی میں چهپے کرب کو صفحہ ء قرطاس پر لانے اور مدوے کا حق ادا کر دیا .شروع سے آخر تک قاری کے جزبات واحساسات کو لفظوں کے اتار و چڑهاو اور ان دیکھی دنیا کے طلسم نے اپنا گرویدہ بنا لیا. ….
نازیہ پروین. …

About iliyas

Check Also

Shamoil Ahmed Short Story

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *