Breaking News

Ghazal By Paras Mazari

ترا غرور عبث انتہائ سطح پہ ہے
بلندی پر بھی وہی ہے جو کھائ سطح پہ ہے

پھلانگ سکتا ہوں جتنا ہے دو دلوں کے بیچ
مگر جو فاصلہ جغرافیائ سطح پہ ہے

یہ کس ہنر سے کیا تم نے خود کو سیر اے دوست
کہ دودھ پی بھی لیا اور ملائ سطح پہ ہے

مجھے نہیں ہے ذرا رنج تہہ نشینی کا
مجھے خوشی ہے چلو میرا بھائ سطح پہ ہے

ہم ایسے دیکھنے والوں کا کوئ دوش نہیں
کہ زیرِ سطح کثافت ، صفائ سطح پہ ہے

پارس مزاری

About iliyas

Check Also

Shamoil Ahmed Short Story

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *