Breaking News

Ghazal By Saleem Sarfaraz

(غزل (غیرمطبوعہ)
معزز و محترم احباب کی خدمت میں..

لوگ تو خلعت و انعام لیے بیٹھے ہیں
ہم کہ اجداد کا بس نام لیے بیٹھے ہیں

کالعدم ہو بھی گئے تخت الٹتے ہی مگر
ہم وہی شاہ کے احکام لیے بیٹھے ہیں

لوگ تسخیرِ جہاں کرتے رہے لیکن ہم
شکوہءگردشِ ایام لیے بیٹھے ہیں

اب کوئی شخص جہاں عشق نہیں کرتا ہے
ہم وہاں ہجر کے آلام لیے بیٹھے ہیں

اس طرف کوئی مسافر متوجہ ہی نہیں
ہم ترے غم کو سرِ عام لیے بیٹھے ہیں

ہم کو تو بس ہنرِ کوزہ گری آتا ہے
سر بازار یہی کام لیے بیٹھے ہیں

گر یہ باہر نکل آئے تو قیامت ہی اٹھے
لوگ سینے میں جو کہرام لیے بیٹھے ہیں

جانے کس وقت چلی آئے یہاں بانوے شہر
ہم متاعِ سحرو شام لیے بیٹھے ہیں

ہرطرف چھائے ہوئے ظلم کے بادل ہیں سلیم
زندگی لرزہ براندام لیے بیٹھے ہیں

About iliyas

Online Drugstore, buy baclofen online, Free shipping, buy Lexapro online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription

Check Also

Hikayat Qaisar Nazir Khawar

-صوفی سنتوں کی حکایتوں سے انتخاب بزرگی اور دانائی اردو قالب؛ قیصر نذیر خاور یہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Online Drugstore, buy lamisil online, Free shipping, buy keppra online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription