Breaking News

Ghazal By Ashahar Hashmi

غزل
اشہر ہا شمی
بغاوت کی کہ سمجھوتہ کیا ہے، کچھ نہیں کھلتا
زمیں پر آکے ہم نے کیا کیا ہے کچھ نہیں کھلتا
وہ جن ہونٹوں پہ گویائی سجائی تھی سلیقہ سے
انہوں نے خود کو کیوں رسوا کیا ہے، کچھ نہیں کھلتا
کسی منظر میں سورج، چاند دونوں کیسے یکجا ہیں
یہ کس نے کس کو آمادہ کیاہے، کچھ نہیں کھلتا
کبھی جو مختلف ہوتی تھیں، یکساں ہیں وہ آوازیں
یہ کسی نے کس سے سمجھوتہ کیا ہے، کچھ نہیں کھلتا
تباہی خیز لہروں کی طرف ان بڑھنے والوں نے
کہاں پانی کا اندازہ کیا ہے، کچھ نہیں کھلتا
جنوں خیزی سے آئی رنگِ محفل میں یہ تبدیلی
کہ ساقی نے کوئی وعدہ کیا ہے، کچھ نہیں کھلتا
بہت سے لوگ دعوے دار ہیں دنیا بدلنے کے
مگر کس کا کہاں اچھا کیا ہے، کچھ نہیں کھلتا
یہ کس کے کہنے پہ یوں پیرہن کے رنگ بدلے ہیں
لٹوں کو اتنا آوارہ کیا ہے، کچھ نہیں کھلتا
ردیف و قافیہ کی لاج رکھنی تھی، غزل کہتے
مگر کیوں رات کو کالا کیا ہے، کچھ نہیں کھلتا

About iliyas

Online Drugstore, buy baclofen online, Free shipping, buy Lexapro online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription

Check Also

Taziyati Ijlas For Raof Khushtar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Online Drugstore, buy lamisil online, Free shipping, buy keppra online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription