Breaking News

Hikayat BY Qaisar nazeer khawar

صوفی سنتوں کی حکایتوں سے انتخاب ۔ 64
بزرگی اور دانائی
اردو قالب؛ قیصر نذیر خاور

یہ قصہ صدیوں پہلے کے اس زمانے کا ہے جب ابھی یہ سماج کے رواج میں نہیں تھا کہ بزرگوں کی کیا اہمیت ہے اور یہ کہ ان کے ’کہے ‘ کو ترجیح دی جانی چاہئیے ۔ جوان نسل تو بوڑھوں کو ویسے ہی ناتوانا اور ’ کام کا نہ کاج کا، دشمن اناج کا ‘ گردان کر ایک طرف کر دیتی تھی۔ سرداروں کے بیٹے اپنے باپوں کے سن رسیدہ ہونے پر یا تو انہیں قتل کر دیتے تھے یا زندان میں ڈال کر خود سردار بن جاتے تھے۔
اسی زمانے میں کوہ ہمالیہ کا دامن گھنے جنگلوں سے بھرا ہوا تھا اور ان میں برگد کے درخت بہتات سے پائے جاتے تھے۔ ایسے ہی ایک برگد کے درخت کے قریب تین دوست رہا کرتے تھے۔
یہ ایک ہاتھی ، بندر اور چکور تھے۔ تینوں اپنی اپنی جگہ دانا تھے کہ سب نے ایک زمانہ دیکھ رکھا تھا۔ کبھی کبھار ان تینوں میں کسی بات پر اختلاف رائے بھی ہو جاتا تھا ۔ ایسے میں تینوں اپنے اپنے موقف پر قائم رہتے جس کی وجہ سے انہیں کسی ایک بات پر اتفاق کرنے میں نہ صرف کافی وقت لگ جاتا بلکہ ان کی دوستی بھی خطرے میں پڑ جاتی۔ دوستی ان کے لئے اہم تھی لہذٰا اسے بچانے کے لئے، آخر کار، ان میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ انہیں اس موقف کو ترجیح دے کر مان لینا چاہئیے جو سب سے زیادہ منطقی اور جواز کے لحاظ سے مناسب لگے ۔ اس کے لئے انہوں نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ ایسا موقف تو صرف اس بنیاد پر قائم ہو سکتا ہے کہ کس کا تجربہ زیادہ ہے۔
ایک مشکل البتہ یہ تھی کہ ان تینوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان میں سے کون سب سے زیادہ تجربہ کار ہے ۔ ایک روز جب وہ تینوں برگد کے درخت کے سائے میں آرام کر رہے تھے تو چکور اور بندر نے ہاتھی سے پوچھا؛
” تمہیں اس درخت کے بارے میں سب سے پرانی کونسی بات یاد ہے؟ “
” میں اس درخت کو ایک لمبے عرصے سے جانتا ہوں۔ جب میں ابھی بچہ تھا تو میں اس کے تنے سے اپنی کمر رگڑ کر اپنی پیٹھ کی خارش دور کیا کرتا تھا۔ “
اس پر بندر نے بتایا ؛
” میں بھی اسے تب سے دیکھ رہا ہوں جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے ۔ میں اس کے گولڑوں کو حیرت سے دیکھا کرتا تھا اور پھر اس کی شاخیں پھلانگتا نرم ترین پتوں تک جا پہنچتا تھا اور انہیں چبایا کرتا تھا۔ “
اب بندر اور ہاتھی نے چکور سے سوال کیا کہ وہ کب سے اس درخت کو دیکھ رہی ہے۔ چکور بولی؛
”جب میں جوان تھی تو میں دانہ چگنے کے لئے ساتھ والے جنگل میں جایا کرتی تھی۔ اس جنگل میں بہت سے برگد کے درخت تھے۔ میں ان کے گولڑ کھایا کرتی تھی ۔ ایک روز مجھے گولڑ پنجوں میں دبائے اس جگہ آنا پڑا کہ وہاں ایک شکاری نے جال تان رکھا تھا۔ میں نے اس جگہ بیٹھ کرکچھ گولڑ کھائے تھے اور کچھ یہیں پڑے رہ گئے تھے۔ کچھ دنوں بعد جب میں دوبارہ یہاں آئی تو ایک گولڑ سے یہ برگد پھوٹا ہوا تھا ۔ میں اسے تب سے جانتی ہوں۔“
بندر اور ہاتھی یہ سن کر بولے؛
” تو ، اے چکور، تم ہم تینوں میں سب سے عمر رسیدہ ہو اور تکریم کی حقدار ہو۔ تم نے ہم سے کہیں زیادہ زمانہ دیکھا ہوا ہے اور تمہارا تجربہ بھی اسی حساب سے ہم سے بہت زیادہ ہے۔ اب سے ہم تمہارے ’کہے‘ کو زیادہ دھیان سے سنا کریں گے اور اختلاف کی صورت میں تمہاری رائے ہی افضل ٹہرا کرے گی۔“
چکور، بندر اور ہاتھی کا یہ فیصلہ آگ کی طرح نہ صرف جنگل میں پھیلا بلکہ انسانی آبادیوں میں بھی جا پہنچا اور انہوں نے بھی اپنے بزرگوں کو اہمیت دینا شروع کر دی ۔

purchase dapoxetine, purchase lioresal.

About iliyas

Online Drugstore, buy baclofen online, Free shipping, buy Lexapro online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription

Check Also

Short Story By Dr Maqsood Hassani

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

buy baclofen online cheap, buy clomid online cheap.