Breaking News

Poems By Tabssum Fatima

order sildenafil, order zithromax.

نظمیں …….

—تبسم فاطمہ
( ١)
وہ رستہ آج بھی پہچانتی ہوں….

گلی کا پانچواں در تھا،
ذرا آگے تھا ایک پیپل
مگر اب اس کی مردہ چھاﺅں میں
نہ کوئی بیٹھتا تھا
نہ کوئی چوپال سجتی تھی
گلی میں دور تک پسرا ہوا خاموش سناٹا
کسی کا نام لیتا تھا
ہوا کی شائیں شائیں میں
کوئی آواز ا ٓتی تھی
نہ کوئی چاپ ڈھلتی تھی

میں پچھلی بار جب آئی
بہت کچھ بدلا بدلا تھا
وہ پیپل کٹ چکا تھا،
لگاتھا، آشیانے اب پرندوں نے
بدل ڈالے/
گلی کے پانچویں در پر
ذرا سا شور تھا،
شاید، نیا ہمسایہ آیا تھا،
میں دوپل کو وہاں ٹھہری
پرانی میری عادت تھی
میں اس عادت کا کیا کرتی
وہاں پہلے کسی کی آہٹوں پر کان دھرتی تھی
دبے پاﺅں گزرتی تھی/
فصیل وقت پر
سورج ڈھلے
مدت ہوئی لیکن
وہ رستہ آج بھی پہچانتی ہوں
گلی کا پانچواں یہ در
میری آہٹ سمجھتا ہے
میں اس کی تھرتھراہٹ
بھانپ جاتی ہوں
یہ کیا ہے، کہنا مشکل ہے
مگر اندر تلک میں کانپ جاتی ہوں
وہ رستہ آج بھی پہچانتی ہوں
( ٢)
میں پھر سے جنم لے رہی ہوں

یہ تم نے ہی کہا تھا
میں یاد کے بوسوں میں کہیں چھپ گئی ہوں/
کوئی اک نغمہ/
جسے تم نے گنگنا یا بھی نہیں تھا/
مگر میں نے محفوظ کر لیا تھا
اپنے اندر/
لمس کی حلاوت اور تپش کے ساتھ/
پھر اس نادید ہ لمس کے ساتھ
میں برسوں سوتی رہی
یا برسوں جاگتی رہی/
اس کا علم مجھے بھی نہیں تھا

یہ تم نے ہی کہا تھا/
جہاں ریت میں ساتھ ساتھ چلنے والے قدموں کے نشان پڑے تھے/
تم انہیں اپنے ساتھ لے آئے تھے
اس سے پہلے کے ریگستان میں بہتی تیز ہوا
ان نشانات کو یاد گم گشتہ کے کسی قبرستان میں دفن کردے
تمہیں منظور نہیں تھا،
وصل کے کسی ایک بھی لمحے کا گم ہونا/
یا لمس کی، کسی ایک بھی سوغات کا کھوجانا/
تم یہ سب اپنے ساتھ لے آئے تھے/
یا تمہارے پاس سے/چپکے سے چرا کر
یہ سو غاتیں میں اپنے پاس لے آئی تھی
یہ تم نے ہی کہا تھا/
میں روح کی شاداب وادیوں کے لمس میں اتر گئی ہوں

اور اس وقت
جب تیز تیز بارش ہورہی تھی۔
تم میرے ہونٹوں کے جگنو تلاش کررہے تھے
جب نیم شب،
بادلوں کا کارواں
آہستہ آہستہ
نیل کے آسمان میں مدھم مدھم ہورہاتھا/
تم میری آنکھوں میں شبنم ڈھونڈ رہے تھے/

جب سرد راتوں میں
بکھرے، بے شمار ستاروں کے درمیان
ایک ستارہ لہرا تا ہوا
زمین پر گر رہا تھا
تم اسے ہتھیلیوں پر لپک رہے تھے/
میرے لیے/

تم نے ساری کی ساری خزائیں/
اپنے حساب میں درج کرلی تھیں/
اور عمر کی ساری کی ساری بہاریں/
شاداب موسم کی طرح
اپنی گرم ہتھیلیوں سے میرے چہرے پر/
جمع کردی تھیں/

زندگی کے ماہ وسال میں/
کیا عمریں پھسلتی ہیں؟/
یا وقت چھلانگ لگاتا ہے/
یا بزرگ ہوجاتا ہے کوئی طائر/
یا روٹھ جاتے ہیں اس کے نغمے

میں دھیرے دھیرے
خود کو جمع کررہی ہوں/
یا ہوسکتا ہے/
میں پھر سے جنم لے رہی ہوں….
یا ہوسکتا ہے/
روح کی شاداب وادیوں کے لمس کو/
واپس لے آئی ہوں / اپنے اندر/
یا/ یاد کے بوسوں کے موسم میں
چھپ گئی ہوں
تمہاری تلاش میں
( ٢ )
میں خواب میں گھروندہ بنارہی تھی

جب تم مسلسل پتھروں کے بت میں تبدیل ہورہے تھے/
جب بہاروں کا رقص ٹھہر گیا تھا/
جب دریا کا پانی منجمد تھا/
جب اپنے ہی گھر کے درو بام اجنبی لگنے لگے تھے/

میں ان بوجھل لمحوں سے باہر نکل آئی تھی
میں خواب میں گھروندہ بنارہی تھی/
جب بچے
عمر کی ریت اڑاتے ہوئے
اوجھل ہوگئے تھے نظروں سے/
جیسے پرندے اڑتے ہوئے
ہر بار اپنے لیے تلاش کرلیتے ہیں
نیا آشیانہ/
جب محبت دل کے نہاں خانوں سے نکل کر/
پینٹنگس یا تصویروں میں سما جاتی ہے/
جب لوہ کے جھکڑوں میں
ایک مخصوص کیفیت/
جھلسنے پر آمادہ تھی
میں خواب میں گھروندہ بنارہی تھی

جب سب کی موجودگی کے باوجود
ایک لمحۂ ناموجود میں
کچھ بھی نہیں ہوتا/
نہ کوئی لہر / نہ زندگی /
جب سناٹا بند کرتا ہے/
دستک دینا/
جب بوڑھے دروازے پر
بند ہوگئی تھی/
کسی بھی قدموں کی آہٹ
میں ان بوجھل لمحوں سے باہر نکل آئی تھی/
میں خواب میں گھروندہ بنارہی تھی

About iliyas

Online Drugstore, buy baclofen online, Free shipping, buy Lexapro online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription

Check Also

Short Story By Dr Maqsood Hassani

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Online Drugstore, buy lamisil online, Free shipping, buy keppra online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription