Breaking News

Monthly Archives: May 2019

Irreal Fiction By QN Khawar

اِررئیل فکشن ( Irreal Fiction ) افسانچہ پشت کیے کھڑا شخص ( El Hombre De Espaldas) (The Man With His Back Turned) اَگستن کیڈنا (Agustín Cadena) اردو قالب ؛ قیصر نذیر خاورؔ – ڈینیلا نے ہفتے کے روز استعمال شدہ و پرانی اشیاء کی مارکیٹ سے ایک آئینہ خریدا ۔ وہ اس روز اپنے بڑے بھائی کی کار میں وہاں …

Read More »

Article By Zuber Shaikh

عذاب جاں ہے ترے عشق کا اتر جانا اور اس عذاب سے بہتر ہے گھٹ کے مرجانا – خیال یارکے پہلو میں گزری ہے کل رات صدف کی شان جو اک قطرے کو گہر جانا – چھپا تھا قلب میں تو کیسے سامنا ہوتا تھا سود مند کیاموسی کا طور پر جانا؟ – ستائش کی تمنا تو گلوں کا حق …

Read More »

Short Story By Gul bakhshalwi

حضرت نظام الدین اولیاءاکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے “ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا، ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا”۔ – اتنا فرما کر پھر غش کھا جاتے.ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا:حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟”آپ? نے فرمایا:ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے …

Read More »

Short Story By Imtiyaz Fatmi

شیخ راغب نے اپنی بیوی نجیہ کو طلاق دے دی، طلاق کے بعد انہوں نے بیوی سے کہا : تم اپنے گھر چلی جاؤ. – بیوی بولی : میں ہرگز گھر نہیں جاؤں گی، اب اس گھر سے میری لاش ہی نکلے گی – شیخ راغب بولے: میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں، اب مجھے تمہاری حاجت نہیں، چلی جاؤ …

Read More »

Naat By Mehar Afroz

ہے رحمتوں کا امین پیارا، نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے مرا نبی ہے فلک کا تارہ نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے – سب اپنے دل پر لیے مصائب جو دین حق کا سفر تھا باندھا دلوں کا درماں، دلوں کا ماویٰ نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے – مثال قائم وہ کر گئے ہیں، جہان روشن وہ کر …

Read More »

Ghazal By Ashfaque Asanghani

جب تیرگی جہاں میں مشکل تری بڑھائے تاریکیوں کو بو کر پرچھائیاں اُگالے – دامن کبھی گلوں سے بھرپور تھے ہمارے ہیں چاک اب کہ ہرسُو اُگنے لگے ہیں کانٹے – تعریف پر نہ جھوٹی اوروں کی مطمئن رہ چہرہ سنوارنے کو رکھ آئینہ بھی آگے – آؤ تراش لیں ہم بُت اک حسین لوگو یہ سنگِ میل آخر کچھ …

Read More »

Ghazal By Suleman Khumar

( غیر مطبوعہ ) – کہانی میری تا حدّ ِگماں رکھّی ہوئی ہے ہر اک منظر میں میری داستاں رکھّی ہوئی ہے – ابھی ٹوٹے نہیں ہیں سانس کی ڈوری سے رشتے ابھی اِس پیکرِ خاکی میں جاں رکھّی ہوئی ہے – جہاں خدشہ لگا رہتا ہے اکثر بجلیوں کا وہیں ہم نے بِناے آشیاں رکھّی ہوئی ہے ! – …

Read More »