Breaking News

Article By Mehar Afroz on Professor Najma Mehmood

پروفیسر نجمہ محمود ڈیپارٹمینٹ آف انگلش مسلم علی گڈھ یونیورسٹی علی گڈھ، ساکن لکھنو پر میرا اس ماہ کا مضمون ۔۔۔۔”جدید شاعرات” کی ہندوستانی کڑی ۔میرا سلسلہ وار کالم ماہِ مارچ کے تریاق خواتین اسپیشل نمبر ممبیء میں شایع شدہ ۔
مہر افروز

نجمہ محمود بندشوں کی جمالیاتی آزادی
میرے واٹس ایپ کے اسکرین پر سرکتے کچھ اوراق ۔میری اِدھرسے اُدھر لہراتی نظریں باربار ایک شئے پر اٹک رہی ہیں۔ وہ ہیں صفحات پر رکھی گئی ,مہین انگلیاں جو اپنے کسی حسین وجود کا، حصہ ہونے کا احساس دلارہی ہیں ۔اور یہ جتا رہی ہیں ان صفحات پر بکھرے موتیوں کو میں نے اس صفحہ قرطاس پر اتارا ،جسکا جنم داتا، ایک دیوی کا وجود ہے، جس نے خود کو بنایا، منقّش کیا، مصّفا کیا، چٹان بنی حالات کی لہروں کا مقابلہ کیا، پانی کی ہر دیوار پر اپنی کشتی لیکر چڑھی کہ شاید وہ آسمان مل جائے جس کے لئے اس نے اپنے اس وجود کو نکھارا اور سنوارا تھا۔اسے حق کا ساتھ ملے، مگر کشتی کا مایوس کن واپسی کا سفر تنہا ہی رہا۔مگر ہر بار انکی آسمانوں کو چھونے کی سعی انکو بلند حوصلے عطا کرتی رہی اور یہ تنہا سفر اب بھی جاری ہے ۔اسی احساس کے ساتھ میں نے انکا شعری مجموعہ “ریگستان میں جھیل ” پڑھا جسکا عکس انہوں نے مجھے بھیجا تھا ۔

نجمہ محمود ملیح آباد لکھنو کی پیدایش ہیں ۔اپنے والد جناب محمود حسن خان اور رضیہ بیگم کی لاڈلی بیٹی اور مقبول حسن خان صاحب کی ہمشیرہء خاص ہیں ۔
انکی ابتدائی تعلیم اپنے والد اور بھائی کے زیر سایہ ،گھر پر ہی ہوئی، اور انہوں نے بطور باہری طالبہ میٹرک کا امتحان دیا ،اور نمایاں کامیابی حاصل کرلی ۔بھائی انگریزی پڑھاتے تھے، جس سے انگریزی شاعری اور ادب کی طرف انکا میلان بڑھتا گیا۔پھر انھوں نے کرامت حسین مسلم گرلز کالج میں داخلہ لیا ،جہاں انہوں نے انگریزی ادب اور اردو ادب پڑھا ۔آپ رضیہ سجاد ظہیر، ریحانہ باجی اور مس حنّان کی تلامذہ رہیں اور ان سے اردو اور فارسی سیکھی ۔اسکے ساتھ آواز بلند کرنا، ہمّتِ اظہار اور سلیقہء اظہار بھی پایا۔
آپ نے مسلم علی گڈھ یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور پی ایچ ڈی بھی وہیں سے کی۔پی ایچ ڈی کا عنوان تھا Virginia Woolf’s Concept of perfect man an Exploration’ in comparative literature.
یہ تحقیقی مقالہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑی تخلیق ہے ،جہاں نجمہ محمود نے، تصوف کی مشرقی روایات کی سطح پر، جس میں مولانا روم سے لیکر علامہ اقبال تک کا تصور خودی اور انسان کامل موجود ہے، اس پر ورجینا وولف کی تخلیقات، نظریات اور انکے انسان کامل کے تصور کو پرکھنے اور اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔جو ورجینا وولف کو سمجھنے کا ایک الگ زاویہء نگاہ ہے ۔اسکے بعد وہ پروفیسر بنیں اور 2001 میں اپنی ملازمت سے سبکدوش ہوئیں۔
اس سے پہلے ہی آپ نے تدریس کے پیشے کو اپنا رکھا تھا ۔اور بہ حیثیت لکچرار ۔بی ایم ۔جی گرلز کالج میں انگریزی پڑھاتی تھیں ۔پھر بہ حیثیت لیکچرار ویمینس کالج مسلم یونیورسٹی علی گڈھ میں آگئیں، وہیں ریڈر بنیں اور پروفیسر کی حیثیت سے سبکدوش ہوگئیں ۔

ایک کامیاب پیشہ ورانہ سفر کی تکمیل کے ساتھ آپ نے اپنا ادبی سفر جاری رکھا۔اپنی ذاتی زندگی میں تین بچوں کی پرورش ،تعلیم و تربیت کی اور انہیں ایک کامیاب انسان بنانے میں اپنا سارا کچھ لگا دیا۔وہ بیک وقت بہت اچھی ماں، شفیق، محبی استاد، اور ایک ہمہ گیر سوچ رکھنے والی ادیبہ اور شاعرہ ہیں ۔انہوں نے تنقید و تحقیق کے میدان میں بھی اپنے گھوڑے دوڑائے۔ عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد میں عالمی سطح پر اپنے مقالات پڑھے اور اپنے بیباک خیالات کو پیش کیا۔
خودی کا محرک وہ حرکت ہے، جو ایک نقطہ کو اپنی دائروی سطح سے اپنے مرکز کی طرف متحرک رکھتی ہے ۔جہاں پر ضم ہوکر خودی اپنی تکمیل پاتی ہے ۔اس رمزِ کائینات کو نہ صرف نجمہ آپا نے سمجھا ،جانا ،پرکھا، عمل کیا، عمل کے اثرات اور نتائیج دیکھے، بلکہ اپنی زندگی اسی یقین کے تحت جی، کر یہ ثابت کیا کہ ایک انسان کس طرح اپنی عزت نفس اور وقار کو برقرار رکھتے ہوئے ،حالات سے نبرد آزما ہوسکتا ہے اور کس طرح خود کو اس سے نکال سکتا ہے ۔

نجمہ محمود نے جو ذہنی اولادیں میدان ادب کو سونپی وہ یہ ہیں
1،Virgina Woolf’s Concept of perfect man… An Exploring in comparative literature .
2.From the Circle to the Centre.
3.پانی اور چٹان افسانوی مجموعہ 2001
4سید حامد کہ گم ہیں اس میں آفاق 2003
سید حامد کہ گم اس میں آفاق 460 صفحات کی کتاب ہے اور ایک تحقیقی تصنیف ہے جو بہت زیادہ مقبول ہوئ ہے۔
بڑے بڑے ادیبوں دانشوروں اور علما نے اس کی تعریفیں کی ہیں۔جسکی توقع خود مصنف کو بھی نہیں تھی ۔

4.جنگل کی آواز، ادبی تخلیقات کا مجموعہ 2011
5جنگل کی آواز ایک مختصر ترین ناول
6.ریگستان میں جھیل شعری مجموعہ 2014
7.بے نظیر جستجو ۔تحقیقی مضامین کا مجموعہ
۔انگریزی کی کتاب From the Circle to th Centrکا انگریزی میں تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے
8۔ شعور کی رو والا مقالہ ورجینیا وولف پر تحقیق کے زیر اثر لکھا گیا اور اردو میں شعور کی رو کی موجود تشریح سے اختلاف کرتے ہوئے نیا بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو ایک محقق اور ادیب کا تخلیقی اظہار ہے۔
9..خلیل جبران کی شاعری میں رومانی عناصر ایک تحقیقی مقالہ ہے۔
اسکے علاوہ
10…اصناف سخن کی مستند روایات میں اضافے کے امکانات۔ایک تحقیقی مقالہ

عالمی سمینار بنام احمد ندیم قاسمی ۔۔دبئی سمینار اور مشاعرے میں شرکت بھی کی ۔
انہی کی زبانی، ایک ناول “سازِ فطرت کے آہنگ “نام سے لکھ رہی ہیں ۔
“ریگستان میں جھیل” انکا واحد شعری مجموعہ ہے، جسے انہوں نے اپنے بیٹے فریدون شہر یار کے اصرار پر شایع کروایا ہے اور انتساب بھی انہی کے نام کردیا ہے ۔فریدون ممبیء فلم انڈسٹری سے جڑے ابھرتے فلم جرنلسٹ ہیں جن سے ہماری بہت ساری توقعات وابستہ ہیں ۔
“ریگستان میں جھیل” 2014 میں شایع ہوئی جسکا فلیپ وحید اختر کا لکھا ہوا ہے جس پر 18 جولائی 1982کی تاریخ لگی ہے ۔ہوسکتا ہے نجمہ آپا کی کسی نظم یا تخلیق پر تبصرہ لکھتے ہوئے انہوں نے یہ لکھا ہو ۔جس میں نجمہ آپا کی شہرہ آفاق نظم “مدر گاڈیس “،کا ذکر بڑی تفصیل سے ہے، اسکا پس منظر بھی انہوں نے لکھنے کی کوشش کی ہے، ساتھ میں یہ اعتراض بھی ہے کہ “پابند اور آزاد نظم لکھنے کی بحث میں نجمہ مجھے ہرا نہ سکیں “.
آزاد نظم کا قافلہ اب اتنی دور آچکا ہے کہ پابندی والوں کو اسے تسلیم کئے بنا چارہ بھی نہیں ہے ۔”ریگستان میں جھیل” کی طرح آزاد نثری نظموں کا قافلہ اب دور سے دکھائی دے رہا ہے، جسکی عالمگیر شناخت بن چکی ۔جبکہ وحید اختر کے الفاظ 18جولائی 1982کے ہیں ۔

آگے چل کر وحید اختر لکھتے ہیں “آزادی آج کا سب سے بڑا ڈائیلما ہے اور اسی ڈائیلما نے نجمہ سے یہ سب لکھوایا ہے “…….انکے انشائیے، خاکے، افسانے، پابند، آزاد ،نثری نظمیں اسی تلاش آزادی کے نقوش ہیں ۔انکی قید شکنی نے اُن کو کسی ایک صنف کا پابند نہیں بنایا ۔یہ محض جدّت نہیں، آزادی کے اثبات کا ایک طریقہ ہے ۔ادبی اظہار کسی صنف ادب یا ہیّت کا پابند نہیں ۔”وحید اختر
آزادی ڈائیلما نہیں حقیقت ہے ،مگر ہر جنس و جان کی آزادی مسخّر ہے ۔جسے نجمہ آپا نے بہت واضح انداز میں اپنے ایک عنوان میں بتا دیا” دائیرے سے مرکز کی طرف”ہماری تسخیر دائیروی محیط ہے۔جبکہ ہماری آزادی ،ہمارا وہ سفر ہے، جو مرکز کی سمت ہو ۔اب نقطے کی آزادی ،کہ وہ دائیروی سفر کرے یا خط مستقیم میں ۔
اسی کتاب کے پیش لفظ میں سابقہ وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علی گڈھ جناب سید حامد نے لکھا ہے”فن بندشوں کا طالب ہوتا ہے، جلد یا بہ دیر یہ تقاضائے تخلیق نجمہ محمود کو اپنی طرف کھینچے گا۔”یہ الفاظ بھی شاید انکی نثری نظموں کی طرف ہی واضح اشارہ ہیں ۔
نثری نظم جب قافیہ اور ردیف کی بندش سے آزاد ہوجاتی ہے ،تو ایک خیال یا احساس کی پابند ہوجاتی ہے جو اپنے پیکر الفاظ پر اتنی گرفت رکھتا ہے کہ اسکے آزاد ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔(ارشد عبدالحمید)
نجمہ آپا نے شاید دس سال کی عمر میں اپنا پہلا پابند شعر لکھا
چاند کے گرد حسین ہالہ ہے
اور ستارے بھی ہیں کتنے روشن
انہوں نے غزلیں بھی کہیں اور پابند نظمیں بھی، مگر شاید اظہار کا تجسس اس جکڑن میں مطمئن نہ ہوسکا اور انہوں نے اپنے پر کھول دئے ۔اسکی بہت بڑی وجہ ،انکا انگریزی ادب کی طالبہ ہونا، استاد ہونا، اور کثرتِ مطالعہ بھی ہے ۔انگریزی ادب میں جہاں پابند نظمیں ،گیت اور لے کاری ہے وہیں بلینک ورس اور فری ورس بھی ہے سانیٹ جیسی شئے بھی موجود ہے۔جبکہ اردو ادب میں آزاد اور نثری نظموں کو اپنی جگہ بنانے کے لئےنصف صدی لگی ۔اور لکھنے والے مرد اور اس سے زیادہ عورتیں موردالزام رہیں کہ انہوں نے بے راہ روی اختیار کرلی ۔ فہمیدہ ریاض کی طرح نجمہ آپا نے آزاد نظم اور نثری نظم پر محنتیں کیں اور اسکی بالیدگی کو اپنے خیال و تصور کا دامن دیا اور خون جگر سے اس کی پرورش بھی کی۔ ۔مشاعروں میں انہوں نے اپنی نثری نظم کو اپنی غزلوں پر فوقیت دی ۔ انکی کچھ مشہور نظمیں یہ ہیں ۔
مدَر گا ڈیس ،شجر سایہ دار،ریگستان میں جھیل ،گہرائیوں کا خوف ،ایک قصہ کہنہ کی تجدید،عصر آگہی ،امکان ،راز سر بستہ ،نئے انسان کا جنم ،تم جو سچ کے امین ،فن اور فن کار ،بے زنجیر جستجو،بدلتے ہوئے موسموں کے رنگ ،پانی کی دیواریں ،وجود کے درخت ، وغیرہ
ان کی آزاد نظموں کو پڑھنے سے پہلے کچھ اشعار اور نمونتا غزلیں دیکھ لیں کہ وہ پابند شاعری کہنے پر قادر ہیں ۔
ایک شعر
منظر بہت عجیب تھا ہم کھو کے رہ گئے
دوری پہ آبشار تھا ہم رو کے رہ گئے
******************
غزل
روبرو تھے وہ ہمارے لیکن
ان سے ایک بات نہ ہونے پائی
دل میں طوفان تلاطم تھا
پھر بھی برسات نہ ہونے پائی
یہ ہماری گھٹن معاذ اللہ
شرح حالات نہ ہونے پائی
اندر آتش فشاں نہاں تھا مگر
سوگئے رات نہ ہونے پائی
اندرون میں تھا سمایا کوئی
پر ملاقات نہ ہونے پائی
*******************
میرے اندر ہوائیں چلتی ہیں
دھیمی دھیمی پوار گرتی ہے
مجھ میں دریا ہے موجزن ہرسو
لہریں اٹھتی ہیں ڈوب جاتی ہیں
*****
ایک نظم
دل کے اندر یہ رازداری ہے
کوئی چپکے سے مجھ سے کہتا ہے
جنم دو اک نئی کہانی کو
شعر کہہ ڈالو
کوئی نظم لکھو۔
*******
کتنی رِدَم اور لے ہے اس کلام میں ،کتنی ملائمت نرمی و حلاوت ہے ۔یہ شاعرہ کا خوبصورت ،نرم ،ملائم گدا ز احساس ہے جو شعر میں ڈھل رہا ہے ۔
بقول نجمہ محمود “شاعری کسی خاص لمحہ کو گرفت میں لانے کا نام ہے “۔شاعری انسان کا مکمل کلام ہے ،مکمل ترین گفتگو ہے ،اور شاعری کو علم کی روح بھی کہا گیا ہے ۔
شاعری قافیہ پیمائیوں اور ردیف نبھانے کا ہی نام نہیں ہے ۔اسی لئے ۱۹۸۸میں جب وہ ابو ظہبی ،احمد ندیم قاسمی عالمی سمینار کے لئے گئیں اور وہاں انہوں نے اپنی شہرہ آفاق نظیں “پڑھیں تو وہ پذیرائی ملی کہ انہوں نے پابند کلام کہنا بند کردیا ۔علی گڈھ کے ایک خواتین مشاعرے میں جب اپنی نظم “مدر گاڈیس” پڑھی، تو وہاں عینی آپا یعنی قرت العین موجود تھیں۔ انہوں نے یہ نظم سنی اور پھر دوسرے دن نجمہ آپا کے گھر آگئیں اور فرمائش کی کہ دوبارہ نظم سناؤ ۔نجمہ آپا کے لئے وہ لمحہ اعزازی تھا۔
ہندو میتھالوجی کے مطابق کایئنات کو بنانے والی ایک دیوی تھی ،جسکا حوالہ رگ وید میں موجود ہے ۔اس کا نام آدتی ہے، جس نے اپنی محبت سے یہ فطرت اور قدرت بنائی ۔جس میں حسن، خوبصورتی، امن ،محبت اور خلوص تھا ۔دھرتی کے باشندے اسی کو پوجتے کہ وہ اصل شکتی تھی ۔پھر خدا پیدا ہوا ۔لوگوں نے آسیس، آ دیتی کی مورتی توڑ ڈالی اور تباہی کے خدا کی پرستش شروع کردی ،جو آج تک جاری ہے ۔عالم انسانوں کے قتل و غارت گری سے بھرا پڑا ہے خون، قتلام، ہاہاکار ہر طرف جاری ہے۔ شاعرہ اسی دیوی کو پکارتی ہے کہ وہ اپنی شکتی سے اس تباہ کاریوں کو روکے ،پھر سے خود کو بنائے اور پھر فطرت کو بنادے تاکہ کایئنات کا امن ،محبت ،اور خلوص لوٹ آئے ۔
لفظ فیمینزم، فیمِین سے اختراع ہے، جسکے معنی قحط اور کمزوری کے ہیں ۔انگریزی ادب کی پر وردہ نجمہ آپا، اصل مقصد ِ تحریک فیمینزم کو سمجھ چکی تھیں ۔اسلئے دیگر شاعرات اور ادیباؤں کی طرح انہوں نے فیمینزم تحریک کی اندھی تقلید نہیں کی ،نہ مردوں کی مخالفت کی جو کہ فیمینسٹ رایئٹرس کا خاصہ تھا۔ انہوں نے عورت کو محبت، فطرت، ملائمت، شکتی، و قوّت کا استعارہ بنا لیا اور مدَر گاڈیس کو استعارہ بنا کر وہ بات کہہ ڈالی جو ساری فیمینسٹ مصنفائیں اور شاعرات نہیں کہہ سکیں ۔
مدر گاڈیس کے کچھ حصے دیکھ لیں

******
نجمہ آپا کی اپنے ماحول اور گھٹن سے نکلنے کی خواہش کا مظہر یہ نظم ہے ۔
رہائی کی بے سود خواہش
میرے کمرے کی کھڑکی کے باہر ہوا چیختی ہے
بڑا شور ہے، سیٹیاں بج رہی ہیں ۔
چمک دھوپ کی بند کھڑکیوں کے اندر چلی آرہی ہے
ہوائیں فضائیں بہے جارہی ہیں ۔
مگر اک بے نام بستی
مہیب اور پرشور سناٹوں سے جاں بہ لب ہے ۔
کھڑکیاں کھول دو
اور یہ اونچی بہت اونچی دیواریں ڈھا دو
مجھے پنکھ دے کر ہوا میں اڑا دو
مجھے وادیوں، کوہساروں چمن زاروں کی خوشبو میں سماجا نے دو
مجھے اس سمندر کی گہرائیوں میں اترجانے دو۔
نجمہ محمو
شاعرہ اپنے اطراف کی بندشوں سے گھٹن میں ہے، وہ ان سے آزادی چاہتی ہے یہ واضح ہے مگر آزادی کے بعد اسے وادیوں کوہساروں اور فطرت کی رنگینیوں میں کھو جانا ہے ۔
حالات سے فرار کے بعد وہ جہاں جانا چاہتی ہیں وہ انکی اصل دنیا سے الگ ہیں ۔یہ استعارہ ہیں، امن ،سکون، سچائی اور حق کا جہاں منافقت جھوٹ اور دوغلا پن نہیں ہے ۔۔فرار کی رومانویت، قدرت اور فطرت میں ضم ہوتی دکھائی دے رہی ہے .
پھرتا ہے فلک برسوں
نظم شاید انکی زندگی میں ہوا کوئی حادثہ ہے، جہاں انکو شدید ذاتی مخالفتوں اور اہانتوں کا سامنا کرنا پڑا، جسے انہوں نے انتہائی دلگیر انداز میں پیش کیا ہے، کہ پھرتا ہے فلک برسوں، تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں اور ان انسانوں کی جس طرح ناقدری ہوتی ہے، اسکا ذمہ دار کون ہے؟ جو بھی ہے بڑا ظالم ہے !۔اس نظم کی سب سے اچھی چیز جو لگی وہ یہ ہے کہ نجمہ آپا نے اپنے کسی بھی مخالف کے لیےء کوئی بھی اہانت والا ،غیر معیاری ،منفی لفظ اختیار نہیں کیا ۔اپنے قلم اور اظہار کو جس طرح انہوں نے باوقار رکھا ہے وہ انہی کا خاصہ ہے
۔
ا”اگر یہ دنیا تمہاری ہوتی”
نظم ان کا اپنے آپ سے خطاب ہے جس میں ان کی نارسائی کا دکھ بڑی شدّتوں سے بول رہا ہے ۔یہ حق بولنے والوں کے بازو کاٹنے کا نوحہ ہے جو 1980میں لکھا گیا ہے ۔
یہ کچھ اشعار ایسے ہیں جہاں نجمہ محمود کا عرفان بول رہا ہے ۔انکی پیاسی روح کو کس کی تلاش ہے ۔۔۔۔
کہ جس کو زندگی کہتے ہیں وہ کیا چیز ہے آخر
میں اس انجان رستے پر پھرونگی کس طرح یونہی
میں ہر نقش قدم سے کب تلک آخر یہی پوچھوں
مجھے بس اتنا بتلادے کوئی میں کون ہوں کیا ہوں
مجھے بس اتنا سمجھادے کوئی میں کون ہوں کیا ہوں
ماورائیت کا سفر شروع ہونے سے پہلے انسان کی خود کی تلاش اس کو سرگرداں رکھتی ہے اور ایسی شعریت وقوع پذیر ہوتی ہے ۔
انکا اگلا سفر خود کی پہچان دیکھ لیں
فن جسے معجزہ کہہ لیجئے
سینچا خون جگر سے جائے جیسے
ہے لگن سے ہی اصل فن کی نمود
وہ لگن جس سے روز جلتے تھے
دہر کی ظلمتوں کے کتنے چراغ
سب کو ملنا ہے زندگی کا سراغ
دل کے اندر یہ رازداری ہے
کوئی چپکے سے مجھ سے کچھ کہتا ہے
“یہ چراغ اب تمہیں جلانا ہے
دہر کو روشنی دکھانا ہے ”
نجمہ محمود 1966
یہ انکی عرفانیت کے سفر کی اگلی کڑی تھی جہاں انکو اپنا عمل اور منزل نظر آگئی ۔
انکی دو چھوٹی چھوٹی نظمیں دیکھیں
“تم جو سچ کے امیں ”
یہ وہ حق کی اندر کی آواز ہے جو منصور سے انالحق کا نعرہ لگواتی ہے، سرمد کو سولی چڑھاتی ہے ۔اور سقراط کو زہر کا پیالہ پی لینے کا حوصلہ دیتی ہے ۔
“گہرائیوں کا خوف ‘”
ان لوگوں پر طنز ہے جو نام اور شہرتیں تو چاہتے ہیں، مگر سمندر کے اندر اتر کر موتی ڈھونڈ لانے کا حوصلہ نہیں جوڑ سکتے ۔
نظم ملاحظہ ہو
گہرائیوں کا خوف
بہت آساں نظر آیا
ہمیں اس روز اپنا تیرتے رہنا
کسی نے جب کہا گہرائیوں میں ڈوب کر دیکھو
کہ اندر کیا ہے
تو ہم ڈر کر کناروں پر نکلے
نجمہ محمود
**********
انکی ایک اور نظم
نئے انسان کا جنم
سمندر سے زرا کچھ دیر خشکی پر
کوئی بت آج پھر ٹوٹا
کسی کی روح کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں ۔
کوئی چپکے سے جیسے کہہ رہا ہو
کہ اس بت کو
اُس اونچے بہت اونچے منبر پر بٹھا آؤ
مگر سب بے سبب ہے
کہ بت ٹوٹنے سے
اک نیا انسان اس دنیا میں آیا ہے ۔
مناؤ جشن اس انسان کے دنیا میں آنے کا
دعا مانگو کہ وہ خود سے بہت اوپر
بہت اوپر کو اٹھ جائے
کہ وہ نا خدا بن جائے
اپنی بھٹکی کشتی کا!!
یہ نظم بظاہر تو بہت معمولی ناصحانہ نظم لگتی ہے ۔شاید اصل میں ایک صدی کا رونا ہے ۔ایک تہذیب کے خاتمہ کا ۔بین ہے ایک نظریہء زندگی کا۔ایک آفاقی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کا جس پر ہزاروں سال کی تہذیب بہت شان سے کھڑی تھی ۔جہاں انسان اپنے اقدار کی وجہ سے بلند اور بہت بلند تھا۔مگر صارفیت، گلوبلائیزیشن، تجارتی منڈی کے زور آور طوفان نے سمندر انسانیت کو اتنا بے قابو کردیا کہ ریت پر کھڑا اس کا وجود پارہ پارہ ہوگیا۔مگر یہ وجود ختم نہیں ہوا، بلکہ ٹوٹتی اقدار نے خود کو سمیٹنے کے حوصلے جوڑ لئے اور ایک نئے انسان، نئی فکر نے جنم لیا، مگر یہ انسان اتنا کمزور ہے کہ ابھی سمندر کے بپھرنے سے بھٹکی کشتی کو دوبارہ ڈال نہیں سکتا۔اس لئے شاعرہ یہ دعا مانگتی ہے کہ وہ خود سے اوپر بہت اوپر کو اٹھ جائے، کہ وہ ناخدا بن جائے، اپنی بھٹکی کشتی کا!!!!
بے ساختہ اقبال کا شعر
خودی کو کر بلند اتنا کی تشریح یاد آتی ہے ۔
نجمہ آپا کہتی ہیں انکے خاندان میں کوئی دور دور تک بھی شاعر نہیں تھا۔انکے کسی چچازاد کے ہم زلف جوش صاحب تھے جن کو انہوں نے بچپن میں کلام سناتے ہوئے سنا تھا۔مگر انکی امی کلام ِ اقبال کو باآواز بلند پڑھا کرتی تھیں ۔نجمہ آپا کا بچپن لاشعوری طور پر شعریت کی تحریک پاتا رہا، اقبال کا نظریہ خودی، اور جوش کا مناظر فطرت کا پیار انکے شعوری بلوغت کا حصہ بنتا گیا، جو انکے کلام میں ہمیں جا بجا نظر آتا ہے ۔
نجمہ آپا کے اندر انکے اپنے خاندانی ہونے کا ،روایتی ہونے کا ،وقار جا بجا بولتا ہے ۔انکی بہت اہم چیز انکی مثبت سوچ ہے جو انکو کہیں تھکنے نہیں دیتی، نہ روکتی ہے نہ مایوس ہونے دیتی ہے ۔وہ بکھرتے بکھرتے بھی خود کو سمیٹنے اور اپنے ساتھ دوسروں کو سمیٹ لینے کے حوصلے رکھتی ہیں ۔پھر سے اٹھتی ہیں اور نکھر آتی ہیں ۔یہ اِثبات جا بجا ان کے کلام میں بولتا نظر آتا ہے ۔
نجمہ محمود ایک عورت ہیں، اوپر سے سخت اور اندر سے نرم، اکثر ان کی تنہائیوں کا احساس چھلکتا نظر آتا ہے ۔ایک نظم دیکھیں کتنی پرتوں میں چھپی ایک عورت کے احساسات کو کس باوقار انداز میں نجمہ محمود نے عیاں کرنے کی کوشش کی ہے ۔بظاہر یہ نظم فطرت، خوبصورت قدرت کے موسموں کا ایک منظر نامہ نظر آتی ہے ۔مگر علامت کی گہرائیاں کھول لیں تو برف زا ایک تنہا کھڑی عورت کے اندر جلتی آگ کے شعلوں کی تپش ہم واضح طور پر محسوس کرسکتے ہیں ۔ایک صدی میں پیدا ہوئی عورت جس کے شعور نے روایتی اقدار کے تحت روشنی حاصل کی ۔تحقیق کی راہوں کا مسافر بنیں ۔نئی صدی میں داخل ہوتے وقت کو بکھرتی قدروں میں خود کو سنبھال کر قدم رکھا کہ اسکے شعور اور روایتوں کا وقار مجروح نہ ہو۔ادب میں نئے ریلوں کی آمد کے باوجود خود کی شناخت کو اتنا الگ رکھا کہ دور سے بھی بلند قامتی کی نشاندہی ہوسکے ۔ایسی عورت کی جب شخصیت کی اندرونی پرتیں کھلتی ہیں، تب بھی کیا وہ اپنے اسی وقار کو برقرار رکھ پاتی ہیں؟ آئیے زرا دیکھ لیں ۔
برف یونہی گرے
برف یونہی گرے
چوٹیوں کو پہاڑوں کے ڈھکتی رہے
کوہساروں میں چاندی پگھلتی رہے
آگ جلتی رہے
مینہہ برستا رہے
آرزوؤں کے بیچین سے قافلے
یونہی آہستگی سے سرکتے رہیں
ہم یونہی خواب کی وادیوں سے گزرتے رہیں
ہم یونہی ہر طرف
وادیوں،کوہساروں میں تحلیل ہوتے رہیں
درختوں کی شاخوں پہ اس طرح ہی
صاف شفاف موتی دمکتے رہیں
رقص شاخوں کا پیہم ہی جاری رہے
برف کی آگ بس یونہی جلتی رہے ۔
برف یونہی گرے!!
نجمہ محمود
جسم، بدن، کی ضرورتیں اور شریعتیں اپنی جگہ مگر روح کا وجود ایک اہم سچ، روح کی بقا اور صفائی ،زندگی کا اصل غرور اور تمکنت ہے ۔ جو اس پل صراط پر بہ آسانی گزر گیا، اسکی تمازت اور کامیابی کا کیا کہنا۔
تعلیمات بدھ میں ایک جگہ ایک سوال دیکھا۔
جنموں پر یقین کریں یا نہ کریں؟
جواب تھا ۔
انسان کا نہ کل تھا نہ کل ہے ۔
انسان کا سچ بس آج ہے
اس آج میں انسان کی روح کا دھندلا ہونا اسکی موت ہے
اسی آج میں اسکی روح کے آئینے کا مصفّا ہونا اس کا دوسرا جنم ہے
انسان کا بس آج ہی آج ہے
نہ کل تھا نہ کل ہوگا ۔
نجمہ محمود کی مثبت سوچیں، وقار و احترام، روح پر انکا یقین، خودی کا سفر، روح کی اپنی شناخت اور شخصیت کی پہچان بنانے کے لئے ،بدن کے دکھ ہی انکی وہ کتھا اور کہانی ہے جس کو انہوں نے اپنی نظموں، شعریت، اور نثر نما شاعری میں پیش کیا ہے ۔

About aseem khazi khazi

Check Also

Dr Maqsood hassani no more

Short Story By Dr Maqsood Hassani

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *