Breaking News

Article By Zuber Shaikh

عذاب جاں ہے ترے عشق کا اتر جانا
اور اس عذاب سے بہتر ہے گھٹ کے مرجانا

خیال یارکے پہلو میں گزری ہے کل رات
صدف کی شان جو اک قطرے کو گہر جانا

چھپا تھا قلب میں تو کیسے سامنا ہوتا
تھا سود مند کیاموسی کا طور پر جانا؟

ستائش کی تمنا تو گلوں کا حق ہے
ہے وصف خوشبو کا چھپنا بکھر بکھر جانا

غنچے لاکھ زباں کھولیں رات بھرلیکن
کرن کے سوز سے شبنم کا طے ہےمرجانا

تمہارے ظلم کا انجام لکھ رہا ہے وہ
ہمارے صبر کو آتا ہے عرش پر جانا

وہ تنگ نظر کیا جانے خرد کی غواصی
کہ موج ریگ کو جس نے سمندر جانا

About aseem khazi khazi

Check Also

Dr Maqsood hassani no more

Short Story By Dr Maqsood Hassani

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *