Breaking News

Bhazal By Rahat Sarhadi

اسلام و علیکم.
محترم دوستوں آج آپ کی ملاقات ایک بہت باصلاحیت شاعر جناب راحت سرحدی صاحب سے کرواتی ھوں مجھے امید ھے کہ آپ کو میرا انتخاب ضرور پسند آئے گا ????.
دعا گو حبہ خان ❤
3/08/18
کُچھ اس لئے بھی خفا ہیں یہ مصلحت زادے
کہ کیوں بنانے نہیں آئے دو کے تین مُجھے
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
ارادہ ہے قلم کو چھوڑ کر ہم
اب اپنے ہاتھ میں شمشیر لے لیں
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
دُھوپ میں پُوچھنے نہ آیا مجُھے
زہر لگنے لگا ہے سَایہ مجُھے
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
رات اک دم دبوچ لے گی تُمھیں
بُھول کر بھی اگر بُجھایا مُجھے
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
وہ میری غِیبتیں کرتا ہے اپنے جس مُنہ سے
اُسی سے نیتِ صوم و صلوٰت باندھتا ہے
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
لوگ سَمجھے کہ میں نشے میں ہُوں
بُھوک سے ڈولنے کے چَکر میں
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
تُجھ سے پہلے بھی جانے کتنے مُجھے
رُل گئے رولنے کے چکر میں
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
ڈور ساری اُلجھ گئی راحؔت
اِک گِرہ کھولنے کے چکر میں
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
نقش احساس کی جبیں پہ مری
ان لبوں کا نشان اب تک ہے
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
مِل گیا ہوں اُسے تو کیوں راحؔت
فاصلہ درمیان اب تک ہے
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
پھریوں ہوا کہ سائے سے لڑنا پڑا مجھے
وہ شخص میرے مدِ مقابل نہیں رہا
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
روشنی ہوتے ہی قدموں میں نظر آئیں گے
پربتوں جیسےیہ ظلمت کےابھارے ہوئے لوگ
راحت سرحدی
❤️❤️❤️
لازم ہے مگر اندھوں کی تصدیق بھی راحؔت
مانا کہ تری بہروں میں شُنوائی بہت ہے
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
زیب دیتا نہیں کمینوں کو
بُغض راحؔت مُنافقین کے ساتھ
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
خیر ہو شہر کے چراغوں کی
کچھ گئی ہے ابھی ہوا کہہ کر
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
جیسے بے آبرو کیا جائے
اس طرح آبرو ہوئی میری
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
فریب کھایا ہے ایسا کہ زہر لگتی ہے
مجھےتولوگوں کےچہروں پہ مسکراہٹ تک
راحتؔ سرحدی
❤️❤️❤️
اے جھوٹ کے بارود پہ بیٹھے ہوئے لوگو
اک جلتا ہوا تیر ہے ہر بات ہماری
راحت سرحدی
❤️❤️❤️
اشک کہاں سے آ جاتے تھے راحؔت اتنے
صبح کو صحرا جیسے تکیے نم ہوتے تھے
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️
جو خوں نہ تھوک رہا ہو وہ لفظ لکھا نہیں
جوسیدھی دل میں نہ اترے وہ بات ہی نہیں کی
راحؔت سرحدی
❤️❤️❤️

About iliyas

Online Drugstore, buy baclofen online, Free shipping, buy Lexapro online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription

Check Also

وار فکشن شام اک داستان ِعشق -افسانہ- Qaisar Nazeer Khawar

تین خواتین کا مشترکہ طور پر لکھا افسانہ برائے تنقید و تبصرہ ( یہ مئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *