Breaking News

Contents

Ghazal by Mushtaque Asanghani

غزل اسانغنی مشتاق رفیقیؔ قد اُونچا ہو گیا ہے عیار آدمی کا رسوا ہوا ہے یوں بھی کِردار آدمی کا خود بینی، خود نمائی، ہے آج ہر کسی میں ہے آدمی سے بڑھ کر دستار آدمی کا ڈھونڈے سے بھی کسی میں انسانیت نہ پائی محدود ہو گیا ہے دیدار آدمی کا جو نیک آدمی ہے جنت اُسے ملے گی …

Read More »

Ghazal by Mushtaque Asanghani

غزل اسانغنی مشتاق رفیقیؔ ہر اک شئے اجنبی ہے میں کہاں ہوں یہ کیسی زندگی ہے میں کہاں ہوں خدا جانے ، ہے زندہ کون مجھ میں یہ کوئی اور ہی ہے میں کہاں ہوں مجھے کس نے یہاں لا کر کھڑایا نیا ہر آدمی ہے میں کہاں ہوں مرا دل بھی مرے بس میں نہیں ہے یہ کیسی بےبسی …

Read More »

Ghazal by Saleem Sarfaraz

غزل…. (احباب کی خدمت میں) جو بظاہر نظر آیا تھا وہ دھوکا نکلا وہ بشر پیرہنِ آب میں صحرا نکلا میں سمجھتا تھا کہ قطرہ بھی پس انداز نہیں میری آنکھوں میں تو اشکوں کا خزینہ نکلا سارے منظر سے جدا جان رہے تھے لیکن ہر تماشائی یہاں خود ہی تماشا نکلا سینچنا ہوگا اسے اپنے ہی اشکوں سے اب …

Read More »

Ghazal by Javed Adil Sohavi

سخنوری میں تو تم نے بھی میر مارنا تھا بتاو!!! مار لیا ہے جو تیر مارنا تھا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اٹھاو کاسہ چلو مانگو اب تو مار دیا۔۔ تمہارے کتوں نے جو جو فقیر مارنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستم میں وہ جو تعلق کی بھیک دی گئی تھی غضب تھا ہم نے اسی میں ضمیر مارنا تھا ۔۔۔۔۔۔ تو پھر یہ راہ میں …

Read More »

Ghazal by Ashar Hashmi

آج کی غزل اشہر ھاشمی تمہارا عکس ہیں اور آئنے میں ہم نہیں ھیں تمام یہ کہ کسی ماجرے میں ھم نہیں ھیں یہاں سے راستہ پر پیچ ہے نہ خار بھرا یہیں سے چلتے ھیں ، اب راستے میں ھم نہیں ھیں یہاں تو میر بھی ھیں ، پیر بھی ، اسیر بھی ھیں تمام لوگ ھیں پر قافلے …

Read More »

Ghazal by Sajid Hameed

جند شعر کہے تھے اور پوسٹ بھی ہوئے تھے عین تابش صاحب کا حکم ہوا کہ مکمل غزل پیش کریں اس فضا میں جانے کے لئے مجھے کئ دن گزر گئے اب جو وہ فضا میسر آ گئی تو چند شعر اور جوڑ کر غزل پیش کر رہا ہوں آج کی اس درد بھری دنیا میں امید ہے کہ یہ …

Read More »

Ghazal by Parvez Akhtar

غزل سب کی آنکھوں میں رہا کرتے تھے فرد ہیں، قوم ہوا کرتے تھے اب تعلق میں غرض ہے شامل دوست بچپن میں ہوا کرتے تھے راستے، تال، تلیّا، ٹیلے کتنے رومان ہوا کرتے تھے اس کا خوش ہونا بہت بھاتا تھا ہم نشانے کو خطا کرتے تھے عشق پروان وہاں چڑھتا تھا جہاں آسیب رہا کرتے تھے ہاتھ تو …

Read More »

Paak Daman Short Story

” پاک دامن ” بانو آپا کے چھوٹے سے آشیانے میں نشاط و مسرت کی گھڑیاں آن پہنچی تھیں ۔ انسباط بانو کے متمکن چہرے پرکھلتے کنول کی صورت اختیار کرچکا تھا ۔ جواں سال بیٹے کے بیاہ پر بھی بانو کے دلفریب جسمانی خدوخال پرکشش چوکھا سلیٹی بال کسی دلربا سے کم نہیں تھے ۔ بارات دلہن کو لیکر …

Read More »