Breaking News

Flash Fiction By Mehar Afroz

رانی چنّما ایکپریس

اسے ہیڈ آفیس جانے کا من بالکل نہیں تھا ۔مگر مرتا کیا نہ کرتا تین سرویس رجسٹرس ضرور پہنچانے تھے ۔نہ پہنچاتا تو تین لوگوں کی پینشن سیٹلمینٹ ہونا مشکل تھی ۔اپنے افسر کے بہت زیادہ دباؤ پر اس نے حامی بھری تھی ورنہ ریل کا سفر اسکے لیےء موت کے خوف کم نہ تھا ۔بوتل کا آخری پیگ اپنے تلخیوں سے بھرے حلق میں انڈھیل کر اس نے اپنے حوصلے سمیٹے، اپنی آفیس کی گاڑی کی چابی اٹھا لی اور پورے جوش سے ریلوے اسٹیشن روانہ ہوا۔

رانی چنماایکسپریس کی بوگی نمبر یس نائین کا اوپری برتھ نمبر 6اسکا منتظر تھا ۔تیز رفتار چنماّ ایکسپریس کی رفتار اور شور میں اسکے سارے وسوسے دب گئے اور ٹھنٍڈی ہوا کے جھونکوں نے اسے گہری نیند کی آغوش میں ڈال دیا۔

رات کا پہلا پہر، طبعی ضرورت نے گہری نشیلی نیند سے اسے بیدار کیا ۔ملگجے اندھیرے میں اس نے اپنی آنکھیں مل کر دیکھا اسکی مخالف سیٹ پر کوئی لیٹا ہوا تھا ۔پیلا شرٹ، سیاہ ٹراؤزرس، قد چھ فٹ تین انچ ۔سلیپر سیٹ کی لمبائی سے باہر نکلتے قد والے جسّہ کے لمبے پیر جسے اس نے کبھی، اندر دھکیلنے کی کوشش کی تھی ۔کھلے تھے۔ چہرے پر کِھلی مسکراہٹ کی وجہ پوری سفید بتیسی اندھیرے میں واضح تھی ۔

چھ سال کے بعد بھی یہ یہاں کیسے، اسکا نشّہ ہرن ہوگیا۔اس نے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی، جس سے ٹرین کی چھت سے اسکا سر بری طرح ٹکرا کر چکراتا ہوا محسوس ہوا ۔اور وہ پھر سے لیٹ گیا ۔

“کیوں ساونت کیسے ہو؟ آخر اسی سیٹ پر آگئے جس پر مجھے لٹا کر گئے تھے”!!!!

خوف کی انتہا سے اسکا سینہ ،دھونکنی کی طرح پھول پچک رہا تھا ۔اسے محسوس ہوا اسکی ٹراوزرس اندر سے گیلی ہورہی تھی ۔
آنکھوں کو خیرہ کرنے والی بجلی کی چمک، گرج اور دھواں دار بارش کی رات کا وہ منظر اسے یاد آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
“کمینے ،حرام کے ِپلّے ،ملیچھ، مشٹنڈے میری ہی بیوی ملی تھی ہاتھ ڈالنے “فحش گالیوں کے ساتھ، اسکے ہاتھ پیر مسلسل چل رہے تھے ۔اور مشٹنڈا زمین پر پڑا مسکرا رہا تھا۔

“اپنی بیوی سے پوچھ وہ مجھ پر ہی کیوں آکر گرتی ہے”۔مشنڈے کی آواز میں مستی اور نشہّ تھا…..دفتر کا سارا اسٹاف جمع ہوچکا تھا بیچ بچاؤ ہوا، بات آئی گئی ہوگئی ۔

زمین پر سب سے زیادہ معاف کرنے والے شاید شرابی ہی ہوتے ہیں ۔مگر انتقام کی آگ انکے سینوں میں ہمیشہ مدفن رہتی ہے ۔

وہ دونوں پھر سے ہم پیالہ ہم نوالہ ہوگیےء ۔
وہ قریہ سے آیا نیا نیا رنگروٹ تھا ۔جسے نہ نوکری کا تجربہ نہ لوگوں کی پہچان ۔کمینوں کی صحبت میں کمینگی سیکھ رہا تھا ۔اوپر آکر گرنے والی پینتس سالہ ہم پیشہ عورت کا جسم اسکی جوانی کی تسکین بن رہا تھا ۔دو دو نشّے ایک ساتھ مل رہے ہوں تو انسان کب ہوش میں رہتا ہے ۔وہ یہ بھول چکا تھا کہ وہ ایک مزدور کا بیٹا اور پانچ بہن بھائیوں کا اکلوتا سہارا اور ماں باپ کی سنہری امیدوں کا پہلا خواب تھا۔
تیرہ جون 2013کی اندھیری رات میں تین سائے لڑھکڑاتے ہوئے رانی چنّما ایکسپریس کی بوگی نمبر 9میں سوار ہوئے ۔پیلی شرٹ کالی ٹراؤزر چھ فٹ تین انچ والے جواں سال کڑیل لڑکے کو اوپری برتھ نمبر 6پر لٹا دیا گیا۔ اسکے پیر اندر کی جانب سرکا دئیے گئے ۔جسکی اوپری جیب میں اگلے سو کلومیٹر والے شہر تک کا ٹکٹ تھا ۔دو اور سائے بارش کی تیز دھاروں میں بھیگتے ٹرین کے اگلے اسٹیشن پر اتر گئے ۔

14جون سن 2013 ، دوپہر ایک بجے اسکے متعلقہ دفتر کی فون کی گھنٹی بجی؛ ریلوے اناؤنس مینٹ کرنے والی آواز میں کوئی بول رہی تھی “آپکے دفتر کا آئی کارڈ رکھنے والے ملازم منیر احمد کی لاش رانی چنماّ ایکسپریس کی بوگی نمبر 9 کی اوپری برتھ نمبر6 پر ملی ہے ۔لاش کی جیب سے شناختی کارڈ ملا ہے۔لاش سینٹ مارتھا اسپتال کے سرد خانے میں موجود ہے۔ اگلی کارروائی کے لیےء آکر شناخت کنفرم کریں۔ پروفیشنل غیر جذباتی آواز بند ہوگیء ۔۔۔۔۔

14 جون سن دوہزار انیس، اسی متعلقہ دفتر کے فون کی گھنٹی بجی ۔کوئی دوسری غیر جذباتی پر وفیشنل آواز ابھر رہی تھی۔ “آپکے دفتر کا شناختی کارڈ رکھنے والے 5فٹ دس انچ کے شخص کی لاش جسکا نام راکیش ساونت لکھا ہوا ہے چنماّ ایکسپریس کے بوگی نمبر یس 9 ،اوپری برتھ نمبر 6پر ملی ہے، جسکے ساتھ تین سروس رجسٹر بھی ملے ہیں ۔لاش سینٹ مارتھا اسپتال کے سرد خانے میں موجود ہے ،سرویس رجسٹرس ریلوے پولیس کے پاس محفوظ ہیں ۔اگلی کارروائی کے لئے کسی ذمہ دار متعلقہ افسر کو روانہ کیا جائے ۔”

فون لینے والے شخص کے ہاتھ سے چونگا چھوٹ گیا اور وہ زمین پر بیٹھتا چلا گیا ۔

مہر افروز

دھارواڈ

کرناٹک انڈیا

About aseem khazi khazi

Check Also

Ghazl By Javidadil Sohawi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *