Breaking News

Ghalib Ke Misre Pr Meri Ghazal By Dr. Meena Naqvi

ہم فسانہ عشق کا دوہرائیں کیا
بحر غم میں ڈوب کر مر جائیں کیا

پھر یذیدی مملکت بڑھنے لگی
تیر پھر معصوم بچے کھائیں کیا؟

ہم زبانِ میثمِ تمار ہیں
لفظ کو اظہار تک لے آئیں کیا؟

روبرو رہتا ہے ہر دم آئنہ
جھوٹی تعریفوں پہ ہم اترائیں کیا؟

کہہ دیا اک بار تم سے عشق ہے
حرفِ آخر ہے یہی دوہرائیں کیا؟

کون سنتا ہے ہماری آج کل
گیت اب بھولے ہوئے ہم گائیں کیا؟

دل کی اک بستی بسانے کے لئے
ہم زمیں پر رت سہانی لائیں کیا؟

غم چھپاکر دل میں ‘مینا’ رکھ لئے
راز کی باتیں ہیں یہ بتلائیں کیا

ڈاکٹر مینانقوی

About aseem khazi khazi

Check Also

وار فکشن شام اک داستان ِعشق -افسانہ- Qaisar Nazeer Khawar

تین خواتین کا مشترکہ طور پر لکھا افسانہ برائے تنقید و تبصرہ ( یہ مئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *