Breaking News

Ghazal By Ahmed Ali Kaif

کہیں پہ ریت ملے گی کہیں سمندر بھی
مرے سفر میں نہیں ہو گا تُو برابر بھی ؟

میں ایک کھیت میں بکھری ہوئی سی دھوپ رہوں
مرے نواح میں لیکن ہو چاند کا گھر بھی

مجھے لفافے میں دیتے ہو ڈال کر نہریں
سو پیاس پھینک دو کاغذ پہ آج لکھ کر بھی

وہ ایک آپ ہیں ہونٹوں سے خواب لکھتے ہیں
سو یہ قلم مری نیندوں کو ہو میسر بھی !

acquire tadalafil, acquire dapoxetine.

میں تجھ کو بھیج سکا ہوں نہ اشک تحفے میں
کہ ڈاکیا ہے میسر نہ اک کبوتر بھی

احمد علی کیف
09.07.2018

About Mehar Afroz

Check Also

Short Story By Musharraf Alam Zauqui

کاتیائن بہنیں – مشرف عالم ذوقی – ایک ضروری نوٹ قارئین! کچھ کہانیاں ایسی ہوتی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *