Breaking News

Ghazal By Akram NaqqaSh

ایک غزل احباب کی نذر
خود اپنی چاپ سے ساے سے اپنے ڈرنا ہے
کہ گام گام لرزنا ہے اور بدکنا ہے
ابھی بدن کے مراحل میں جان الجھی ہے
ابھی تو روح کا دریا عبور کرنا ہے
تو مجھ کو دوش نہ دے میں تجھے غلط نہ کہوں
یہ موڑ وہ ہے جہاں راستہ بدلنا ہے
کہیں سے آے کوئ مجھ کو ساتھ لے جاے
ہر ایک قید سے اب جان کو نکلنا ہے
فریب-شام ہے سورج بھی چھپ گیا ہے کہیں
ہر ایک شئے کو ترے ساتھ ساتھ چلنا ہے

اکرم نقاش

neurontin without prescription, dapoxetine without prescription.

About Mehar Afroz

Check Also

Short Story By Musharraf Alam Zauqui

کاتیائن بہنیں – مشرف عالم ذوقی – ایک ضروری نوٹ قارئین! کچھ کہانیاں ایسی ہوتی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *