Breaking News

Ghazal by Arshad Shaheen

گل سمن زار سے نکلتے ہوئے
لوگ بازار سے نکلتے ہوئے

حسن کو دیکھتا رہا مڑ کر
عشق دربار سے نکلتے ہوئے

کتنے کردار آ بسے مجھ میں
ایک کردار سے نکلتے ہوئے

اپنی وحشت بھی ساتھ لے آیا
آدمی غار سے نکلتے ہوئے

کس قدر کرب سے گزرتا ہے
سایہ دیوار سے نکلتے ہوئے

دل تو سب گھونسلوں میں چھوڑ آئے
طائر اشجار سے نکلتے ہوئے

لفظ ڈھلتے گئے کہانی میں
دستِ فنکار سے نکلتے ہوئے

میری حالت بیاں سے باہر تھی
ایک آزار سے نکلتے ہوئے

دل کا سب بوجھ ڈھو گئے ارشد
اشک رفتار سے نکلتے ہوئے

ارشد شاہین-

About aseem khazi khazi

Check Also

وار فکشن شام اک داستان ِعشق -افسانہ- Qaisar Nazeer Khawar

تین خواتین کا مشترکہ طور پر لکھا افسانہ برائے تنقید و تبصرہ ( یہ مئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *