Breaking News

Ghazal By Ashfaque Asanghani

جب تیرگی جہاں میں مشکل تری بڑھائے
تاریکیوں کو بو کر پرچھائیاں اُگالے

دامن کبھی گلوں سے بھرپور تھے ہمارے
ہیں چاک اب کہ ہرسُو اُگنے لگے ہیں کانٹے

تعریف پر نہ جھوٹی اوروں کی مطمئن رہ
چہرہ سنوارنے کو رکھ آئینہ بھی آگے

آؤ تراش لیں ہم بُت اک حسین لوگو
یہ سنگِ میل آخر کچھ کام میں تو آئے

ہے عزم ایک دن یہ ہونگے ہمارے بس میں
محور سے دور کبتک بھٹکے رہیں ستارے

آنکھوں سے خواب اب کے ہونگے جدا نہ ہرگز
تعبیریں فاصلے بھی اپنی بڑھالیں چاہے

دفنا دو تیرگی میں پرچھائیوں کو لیکن
نکلے گا پھرسے سورج پھرسے اُگیں گے سائے

چنگاریوں سے ڈر کر مت دلکشی گنواؤ
گِھستے رہو کہ پتھر آئینہ بن ہی جائے

خُو جن کی نفرتیں ہیں اشفاق ہم انہی پر
اخلاص کے نچھاور گلشن کریں گے سارے

About aseem khazi khazi

Check Also

Dr Maqsood hassani no more

Short Story By Dr Maqsood Hassani

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *