Breaking News

Ghazal By Mehar Afroz

ایک غزل بابری کے مسجد کے نام

کون سے کھنڈرات پہ بیٹھے ہیں دعا مانگتے ہیں
کون سی خاک سے امید وفا مانگتے ہیں

ایک تو ہی تو علامت ہے مری عظمت کی
تیری بربادی کے ظالم کی سزا مانگتے ہیں

اشک آنکھوں کے دیے، ہو گئے صدیوں پہ محیط
ہم یہ کس دور سے عدل اور صفا مانگتے ہیں

تیرے پرکھوں کی نشانی کو بچا بھی نہ سکے
صاحبِ وقت سے پھر کیسی دَیا مانگتے ہیں

وقت نے صدیوں کی شطرنج پہ کھیلی ہے جو چال
ہم تو مہرے ہیں، نہ جیتے نہ ہرا مانگتے ہیں

مسجدِ مغل کی عظمت کے لیے خون بہا
ان شہیدوں کا بہا خون، صدا مانگتے ہیں
مہر افروز
دھارواڈ
کرناٹک انڈیا

About iliyas

Online Drugstore, buy baclofen online, Free shipping, buy Lexapro online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription

Check Also

Hikayat By Q N Khawar

صوفی سنتوں کی حکایتوں سے انتخاب ۔ 59 فرضی چور اردو قالب؛ قیصر نذیر خاور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *