Breaking News

Ghazal By Rahat Sarhadi

Kamagra Gold online, generic Zoloft.

غزل

مسندِ عرشَ عقیدت سے اُتارے ہوئے لوگ
کم نہیں شہر میں حالات کے مارے ہوئے لوگ

اپنے انجام کو پہنچے سرِ منزل نہ سہی
ہم لگا تار سرابوں سے گزارے ہوئے لوگ

جن پہ ٹوٹا تھا ترا قہر وہ جانے تھے کون
ہم تو ہیں تیری عنایات کے مارے ہوئے لوگ

کھیلتے کھیلتے پڑ جاتی ہیں چا لیں اُلٹی
دیکھتے دیکھتےاُٹھ جاتے ہیں ہارے ہوئے لوگ

پُوچھتے پھرتے ہیں گونگوں سے سنا ہے اندھے
کیسے اک رات میں ذرات سےتارے ہوئے لوگ

جن پہ ٹوٹا تھا ترا قہر وہ جانے تھے کون
ہم تو ہیں تیری عنایات کے مارے ہوئے لوگ

روشنی ہوتے ہی قدموں میں نظر آئیں گے
پربتوں جیسے یہ ظلمت کے اُبھارے ہوئے لوگ

ہم زمیں بوس ہوئے جب تو یہ دیکھا راحت
ڈھے پڑے وہ بھی ہمیں جو تھے سہارے ہوئے لوگ

راحؔت سرحدی

About Mehar Afroz

Check Also

Hikayat By Q N Khawar

صوفی سنتوں کی حکایتوں سے انتخاب ۔ 59 فرضی چور اردو قالب؛ قیصر نذیر خاور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *