Breaking News

Ghazal By Sabir Zafar

نئ غزل
2019۔4۔26
مری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ٹکڑے دھوپ کے ، جب ہم سفر بناے گئے
تلاش کرنے گئے ہم ، جدھر وہ ساے گئے

نہ پھر وہ لوگ رہے اور نہ پھر وہ بات رہی
کہ بات آئ گئ اور لوگ آے گئے

جنھیں ٹھہرنا نہیں چاہیے تھا ، ٹھہرے ہیں
وہ جن کو جانا نہیں چاہیے تھا ، ہاے گئے

میں اہل – عشق کا رنگ – خرام تکتا رہا
کہ اپنی جان ہی سے جیسے کوئ جاے ، گئے

قریب تر تھے مرے لوگ زندگی سے ظفر
اسی لیے وہ سبھی مقتلوں میں لاے گئے

صابر ظفر

About aseem khazi khazi

Check Also

Ghazl By Javidadil Sohawi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *