Breaking News

Ghazal By Saleem Sarfaraz

(غزل (غیرمطبوعہ)

اس نے کیا جو ترکِ تعلق، نبھاؤں گا
اتنی ذرا سی بات پہ کیا رنج اٹھاؤں گا؟

ہمراہ اس کے خود ہی چلا جارہا ہوں میں
دعویٰ تھا اپنی راہ پہ دنیا کو لاؤں گا

دیکھا جو اک پرامن و حسیں شہر خواب میں
دقت ہوئی زمیں پہ تو دل میں بساؤں گا

آب و ہوا یہاں کی موافق نہیں مگر
میں نخلِ اعتبار یہیں پر اُگاؤں گا

حد ہے مرا ہی اس پہ تصرف نہیں رہا
دل کو تجاوزات سے خالی کراؤں گا

اب جھک کے چل رہا ہوں زمینوں پہ خود سلیم
مجھ کو کبھی تھا زعم، فلک کو جھکاؤں گا

About aseem khazi khazi

Check Also

وار فکشن شام اک داستان ِعشق -افسانہ- Qaisar Nazeer Khawar

تین خواتین کا مشترکہ طور پر لکھا افسانہ برائے تنقید و تبصرہ ( یہ مئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *