Breaking News

Ghazal By Shehnaz Parveen Sahar

غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہناز پروین سحر

………………………………

جب سے پہچان میں نہیں ہوں میں
گھر کے دالان میں نہیں ہوں میں

ہاتھ سے چیز چھوٹ جاتی ہے
اپنے اوسان میں نہیں ہوں میں

پھول کملا گیا تھا ، پھینک دیا
اپنے گلدان میں نہیں ہوں میں

ایک سجدے میں ہو چکی تحلیل
شب کے وجدان میں نہیں ہوں میں

جسم کو کون گھر میں رکھتا ہے
جسم ہوں جان میں نہیں ہوں میں

میں نے خود بھی بھلا دیا خود کو
اب کسی دھیان میں نہیں ہوں میں

خود ہی مقتول خود ہی قاتل ہوں
اپنے تاوان میں نہیں ہوں میں

Suhagra online, generic clomid.

آرزو سے نکل کے دیکھ مجھے
عہد و پیمان میں نہیں ہوں میں

زندگی اب گھڑی کی ٹِک ٹِک ہے
دل کے استھان میں نہیں ہوں میں

جو ضروری تھا وہ سنبھالا ہے
اپنے سامان میں نہیں ہوں میں

مجھ کو وحشت قبول کر لے گی
اب گریبان میں نہیں ہوں میں

زندگی سے گذر رہی ہوں سحر
کسی طوفان میں نہیں ہوں میں

About Mehar Afroz

Check Also

Naat By Dr Maqsood Hassani

مسکان کے بطن سے وہ صاحب جلال دفعتا جمال میں آیا پھر تھوڑا سا مسکرایا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *