Breaking News

Ghazal By Suleman Khumar

( غیر مطبوعہ )

کہانی میری تا حدّ ِگماں رکھّی ہوئی ہے
ہر اک منظر میں میری داستاں رکھّی ہوئی ہے

ابھی ٹوٹے نہیں ہیں سانس کی ڈوری سے رشتے
ابھی اِس پیکرِ خاکی میں جاں رکھّی ہوئی ہے

جہاں خدشہ لگا رہتا ہے اکثر بجلیوں کا
وہیں ہم نے بِناے آشیاں رکھّی ہوئی ہے !

ہدف کے تیر تو سارے ہمارے ہاتھ میں ہیں
اور اُس کے پاس بس خالی کماں رکھّی ہوئی ہے

دلِ مجروح کی اس سے رفاقت خوب ہوگی
سنا ہے’ درد کی اس نے دکاں رکھّی ہوئی ہے !

اِسی کو عمر بھر کے عشق کا حاصل سمجھ لیں
جو اک دُوری ہمارے درمیاں رکھّی ہوئی ہے

اگر مل جائے تم کو تو خبر کرنا ہمیں بھی
متاعِ عافیت جانے کہاں رکھّی ہوئی ہے

خموشی بات کرتی ہے ہمارے ساتھ اکثر
خموشی کے دہن میں بھی زباں رکھّی ہوئی ہے

چلو ہم بھی خُمارِ خوش بیاں سے آج مِل لیں
سخن کی اک الگ جس نے دکاں رکھّی ہوئی ہے

( سلیمان خمارؔ)

About aseem khazi khazi

Check Also

Dr Maqsood hassani no more

Short Story By Dr Maqsood Hassani

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *