Breaking News

Ghazal By Tauqeer Taquee

خوشی کے باب میں غم کا خزینہ چُن لیا ہے
سو کوفہ چھوڑ کے ہم نے مدینہ چُن لیا ہے

بلندیوں کی طرف یوں بھی جانا مشکل تھا
سو حُر مثال موَدّت کا زینہ چُن لیا ہے

بس ایک اشک میسّر ہوا تھا آنکھوں کو
مرے امام نے وہ آبگینہ چُن لیا ہے

فراتِ رنج میں روشن کیے عزا کے چراغ
نجات کے لیے غم کا سفینہ چُن لیا ہے

بہشت کے لیے مشک و علم اٹھا لائے
سکون کے لیے باغِ سکینہ چُن لیا ہے

ہوس کی آگ نے قرآں اٹھائے نیزوں پر
لہو کی پیاس نے پیاسوں کا سینہ چُن لیا ہے

کسی نے پھول کا لاشہ کہیں چھپایا تھا
سناں کی نوک نے کیسا دفینہ چُن لیا ہے

وہ شام آئی کہ سُونی ہے ماؤں کی آغوش
کہ دستِ ظلم نے ہر اک نگینہ چُن لیا ہے

جو فرشِ ماتمِ شبّیر پر چمکتا تھا
غریب ماں نے وہ سارا پسینہ چُن لیا ہے

شعورِ نعمتِ گریہ اُسے کہاں توقیرؔ
برائے اہلِ عزا جس نے کینہ چُن لیا ہے

Super P-Force buy online, dapoxetine online.

#توقیرتقی

About Mehar Afroz

Check Also

Naat By Dr Maqsood Hassani

مسکان کے بطن سے وہ صاحب جلال دفعتا جمال میں آیا پھر تھوڑا سا مسکرایا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *