Breaking News

Ghazal By zubyr Qaisar

سخن کے نام پہ شہرت کمانے والے لوگ
ہماری غزلوں سے مصرع اٹھانے والے لوگ

لٹا رہے ہیں زمانے میں آج بینائی
کسی کی آنکھ سےسرمہ چرانے والے لوگ

بدل چکے ہیں ترے شہر کے گلی کوچے
بھٹک بھی سکتے ہیں رستہ بتانے والے لوگ

Revatio for sale, buy lioresal.

نہ پوچھ زندگی کیسے، گزارا کر رہے ہیں
نئے دنوں میں پرانے زمانے والے لوگ

ہم اپنے دکھ کو گلے سے لگا کے جی لیں گے
رہیں گے خوش کہاں دل کو دکھانے والے لوگ

تمہارے لفظوں نے دل پر لگائی ایسی چوٹ
بکھر گئے ہیں محبت جتانے والے لوگ

سفر کی وحشتیں تنہا نکل پڑی ہیں مگر
ٹھہر گئے ہیں مرے ساتھ جانے والے لوگ

ہماری موت کا کیوں انتظار ہے ان کو
ہماری زندگی میں تھے جو آنے والے لوگ

وہ آج لفظ کی تذلیل پر اتر آئے
کہیں غزل تو کہیں گیت گانے والے لوگ

نجانے کون زمانے میں جا بسے قیصر
ہنسی مذاق میں غم کو اڑانے والے لوگ

۔۔۔۔۔۔ زبیر قیصر

About Mehar Afroz

Check Also

Naat By Dr Maqsood Hassani

مسکان کے بطن سے وہ صاحب جلال دفعتا جمال میں آیا پھر تھوڑا سا مسکرایا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *