Breaking News

Ghazal Khalid Sajjad Ahmed

خوابِ چشمِ گماں جب پرانے پڑے
سارے منظر دوبارہ بنانے پڑے

شورِ دریا تکبر میں تھا سو مجھے
بہتے پانی پہ پاؤں جمانے پڑے

خاکِ نم سے کوئی شکل بنتی نہ تھی
چاک جتنے بھی تھے سب گھمانے پڑے

جانے کس آس پر آسرا مانگا تھا
لوگ جتنے گرے تھے اٹھانے پڑے

درپئے جاں تھے دشمن قبیلے کئی
بات غیرت کی تھی سر کٹانے پڑے

خاک کو آسماں چھوڑ کر کیا ملا
ہر قدم پر ہمیں دکھ اٹھانے لگے

Suhagra no rx, buy clomid online.

About Mehar Afroz

Check Also

Naat By Dr Maqsood Hassani

مسکان کے بطن سے وہ صاحب جلال دفعتا جمال میں آیا پھر تھوڑا سا مسکرایا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *