Breaking News

Hikayat By Q N Khawar

صوفی سنتوں کی حکایتوں سے انتخاب ۔ 59
فرضی چور
اردو قالب؛ قیصر نذیر خاور

عبادت گاہوں میں جا کر عبادت کرنے والوں میں ایک بات ہمیشہ سے مشترک رہی ہے کہ لوگ عبادت گاہوں کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تعظیماً جوتے اتار دیتے ہیں ۔ یہ کہانی کچھ اسی تعظیم سے تعلق رکھتی ہے۔
دو پارسا اور معزز آدمی عبادت کے لئے ایک عبادت گاہ کے دروازے پر اکٹھے پہنچے۔ ان میں سے ایک نے اپنے جوتے اتارے اور انہیں سلیقے سے عبادت گاہ کے دروازے کے باہر ایک طرف رکھ دیا ۔ دوسرے نے بھی اپنے جوتے اتارے، ان کے تلوے جوڑے اور انہیں بائیں ہاتھ میں تھامے اندر چلا گیا۔
عبادت گاہ کے دروازے کے پاس بیٹھے کچھ لوگوں نے انہیں یہ سب کرتے دیکھا اور آپس میں اس بات پر بحث کرنے لگے کہ ان دونوں میں سے کس کی ’ کرنی‘ بہتر تھی۔ ایک بولا؛
” کیا یہ بہتر نہیں کہ بندہ تعظیماً جوتے عبادت گاہ کے باہر اتار کر اس میں داخل ہو؟“
” میرا خیال ہے کہ دوسرے آدمی کا فعل زیادہ موزوں ہے جو اپنے جوتے اتار کر ساتھ لئے عبادت گاہ میں داخل ہوا ہے، کیونکہ اس کے جوتے اسے عبادت میں بھی عاجزی اور انکساری یاد دلاتے رہیں گے ۔“
جب یہ دونوں پارسا آدمی عبادت سے فارغ ہو کر عبادت گاہ سے باہر نکلے تو ان لوگوں نے ، ان سے ، ان کے عمل کے بارے میں پوچھا۔
پہلے آدمی نے جواب دیا؛
” میں نے اپنے جوتے صرف اس وجہ سے عبادت گاہ کے باہر اتارے کہ اگر کوئی میرے جوتے چوری کرنا چاہتا ہے تو وہ انہیں عبادت گاہ کے باہر سے ہی لے اُڑے اور اس گناہ سے بچ جائے جس کا مرتکب وہ عبات گاہ کے اندر سے انہیں چُرا کر ہوتا ۔ مزید براں، اس طرح وہ عبادت گاہ کے تقدس کو بھی مجروح کرنے سے باز رہتا ۔“
سننے والے اس پارسا آدمی کی دانائی سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں اس کی یہ بات بھی بہت بھائی کہ اس شخص کو اپنے مال و متاع کی بھی کچھ زیادہ پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے پھر دوسرے آدمی سے پوچھا۔
دوسرے آدمی نے جواب دیا؛
” میں اپنے جوتے اپنے ساتھ اس لئے اندر لے گیا تھا کہ مجھے ڈر تھا کہ باہر پڑے جوتے کسی کو لالچ میں مبتلا نہ کریں کہ وہ انہیں چرا کر لے جائے۔ یوں میرا مقصد تو اسے گناہ کی دلدل میں دھسنے سے بچانا تھا۔“
سننے والے اس کے جواب سے بھی متاثر ہوئے اور اس کی عقل سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے ۔ان لوگوں میں البتہ ایک ایسا دانا بھی تھا جس نے دونوں کی باتیں سن کر کہا؛
”ان پارسا آدمیوں نے اپنی اپنی عقل کے مطابق عمل کرکے ہمیں دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے ۔ ہم میں سے کچھ ایک پارسا کے ’ فعل‘ کو افضل قرار دے رہے ہیں جبکہ باقی دوسرے کے فعل کو بہتر مان رہے ہیں لیکن دونوں پارساﺅں اور ان کے حواریوں نے یہ نہیں سوچا کہ دونوں کے ’ فعل‘ مفروضوں کی بنیاد پر قائم ہیں جبکہ اصل زمینی صورت حال مختلف ہے۔“
لوگوں نے اس دانا سے سوال کیا کہ مختلف اور اصل زمینی صورت حال کیا ہے؟
دانا بولا؛
جوتوں کو دیکھ کر کسی کو طمع نہیں ہوا کیونکہ اس فرضی چورکا گزر تو یہاں سے ہوا ہی نہیں، وہ نہ توعبادت گاہ کے نہ باہر تھا نہ اندر۔ جس کا خیال کرکے دونوں پارساﺅں نے اپنی اپنی عقل کے مطابق عمل کیا۔ تم لوگوں نے یہ غور توکیا ہی نہیں کہ ان دو پارساﺅں کے علاوہ ایک تیسرا شخص بھی عبادت کرنے اس دروازے سے گزر کر اندر داخل ہوا تھا جس نے نہ تو جوتے دروازے کے باہر رکھے اور نہ ہی وہ انہیں اپنے ساتھ اندر لے کر گیا، کیونکہ اس نے تو جوتے پہنے ہوئے ہی نہیں تھے۔ اس کا دھیان نہ تو تم لوگوں کی طرف تھا، کہ تم اسے دیکھ رہے ہو یا نہیں اور نہ ہی اس کی توجہ عبادت گاہ کے باہر پڑے جوتوں پر تھی۔ اندر جا کر بھی اس کا دھیان وہاں پڑے جوتوں کی طرف نہ گیا، وہ تو مگن تھا اپنے معبود کے خیال میں ۔ وہ آیا ، عبادت کی ، اور تم سب کے پاس سے گزر بھی گیا اور تم لوگوں کو پتہ بھی نہ چلا کہ وہ کب ننگے پاﺅں آ یا اور کب ننگے پاﺅں ہی لوٹ گیا۔
عبادت گاہ کے باہر موجود لوگوں نے دانا کی یہ بات سنی اور تاسف سے ہاتھ ملنے لگے۔

About iliyas

Online Drugstore, buy baclofen online, Free shipping, buy Lexapro online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription

Check Also

Translated Story By Q N Khawar

میکسیکن افسانہ ( ہسپانوی زبان سے ) کیو کے اپاچی ( Los Apachies De Kiev …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *