Breaking News

Hikayat By Qaisar Nazir Khawar

Cialis Soft for sale, Zoloft withoutprescription.

صوفی سنتوں کی حکایتوں سے انتخاب ۔ 80
علم برائے فروخت
اردو قالب؛ قیصر نذیر خاور

ایک زمانے کی بات ہے کہ کابل کی ایک نواحی بستی میں سیف الملوک نامی ایک شخص رہتا تھا۔ اس نے اپنی آدھی زندگی ’سچ ‘ کی تلاش میں گزار دی تھی۔ اس نے بے شمار کتابیں پڑھیں اور جہاں کہیں سے اسے کوئی نئی کتاب کا پتہ چلتا وہ اسے حاصل کرتا اور پڑھ ڈالتا۔ وہ جانے ، انجانے دیسوں میں بھی پھرا کہ وہاں کے داناﺅں سے ’ سچ‘ کا پتہ لگا سکے۔ اس کے دن تو کام کرنے میں گزرتے جبکہ راتیں اسرارِ کائنات پرغور و فکر میں کٹتیں ۔
ایک روز اسے ایک صوفی سنت ’ خواجہ انصاری ‘ کا پتہ چلا جو ہرات میں رہتا تھا اور اپنی شاعری کی وجہ سے بھی مشہور تھا ۔ وہ ہرات گیا اور انصاری کے در پر پہنچا۔ دوازے پر ایک تحریر آویزاں تھی؛
”علم برائے فروخت “
اس وقت تک وہ جس کسی دانا سے ملا تھا اور اس کے علم سے فیض یاب ہوا تھا، اس میں خرید و فروخت کا تو سوال ہی نہیں اٹھا تھا چنانچہ یہ تحریر اس کے لئے حیران کن تھی۔ اس نے دل میں سوچا؛
’ ضرور کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے یا پھرعلم کے متلاشیوں کو گمراہ کرنے کے لئے کسی نے ایسا لکھ ڈالا ہے۔‘
وہ گھر میں داخل ہوا تو عمر رسیدہ خواجہ انصاری اپنے دیوان خانے میں بیٹھا تھا اور سر جھکائے نظم لکھ رہا تھا۔ اس نے سیف سے پوچھا؛
” کیا تم علم خریدنے آئے ہو؟“
” جی، علم حاصل کرنے آیا ہوں ۔“
انصاری نے سیف سے کہا؛
” کتنا مال و متاع لائے ہو؟ جو بھی لائے ہو، سامنے ڈھیر کر دو۔“
سیف الملوک نے جیبوں میں جو کچھ تھا نکال کر انصاری کے سامنے رکھ دیا ۔ اس نے چاندی کے سکوں کو نظر بھر کر دیکھا اور کہا؛
” بس یہی کچھ ہے؟ “
سیف الملوک نے اثبات میں سر ہلایا تو انصاری بولا؛
”اتنے میں تو میں تمہیں تین نصیحتیں ہی کر سکتا ہوں۔“
”کیا واقعی ایسا ہی ہے“ ، سیف بولا، ” اگر آپ واقعی دانا درویش ہیں اور انسانیت کی بھلائی کے خواہاں ہیں تو آپ کو علم بیچنے کی کیا ضرورت ہے ؟“
” ہم جس دنیا میں رہتے ہیں اس میں ہمارے ارد گرد مادی حقیقتیں منہ پھاڑے کھڑی ہیں“ ، انصاری نے جواب دیا، ” اور جو علم میرے پاس ہے وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں۔ مجھے ان مادی حقیقتوں کا سامنا کرنے کے لئے رقم درکار ہوتی ہے جبکہ علم کے متلاشیوں کو علم چاہیے، میں کوئی غلط ادل بدل نہیں کرتا ۔ “
انصاری نے سکے اٹھا کر ایک طرف رکھے اور بولا؛
” اب دھیان سے سنو، پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ فضا میں اگر ایک بادل کا ٹکڑا دیکھو تو اسے خطرے کی علامت جانو۔“
”لیکن کیا یہ’ علم‘ ہے؟ سیف بولا، ” اس سے تو مجھے ’ سچ‘ تک پہنچنا ممکن نہیں لگتاا ور نہ ہی اس بات کا پتہ پڑتا ہے کہ انسان کا اس دنیا میں موجود ہونا کس مصرف کے لئے ہے ؟“
” اگر تم نے درمیان میں اسی طرح مجھے ٹوکنا ہے “، انصاری بولا، ” تو اپنے سکے لو اور یہاں سے جاﺅ۔ ایسی جانکاری کا کیا فائدہ کہ انسان دنیا میں کیوں موجود ہے اگروہ خود ہی نہ باقی رہے ۔“
یوں سیف کو خاموش ہونا پڑا اور دوسری نصیحت کے لئے منتظر ٹہرا۔کچھ دیرتوقف کے بعد انصاری بولا؛
دوسری نصیحت یہ ہے کہ اگر تمہیں کہیں ایک پرندہ ، ایک بلی اور ایک کتا اکٹھے نظر آئیں تو انہیں حاصل کرو ، ان کی دیکھ بھال اور پرورش کرو یہاں تک کہ انت آ جائے۔“
”یہ نصیحت اپنے اندر اسرار لئے ہوئے ہے“ ، سیف نے سوچا، ” میں اگر اس پر دھیان دوں اور اس پر غور و فکر کروں تو یقیناً اس کا مطلب جان سکتا ہوں۔“
سیف یہ سوچ کرخاموش بیٹھا تیسری نصیحت کا انتظار کرنے لگا ۔ بالآخر انصاری بولا؛
” اور جب تمہارے سامنے بہت سے واقعات وقوع پذیر ہو جائیں ، چاہے تمہیں ان میں کوئی ربط نہ بھی نظر آئے تب بھی پہلی دو نصیحیوں پر اپنا یقین برقرار رکھنا، ایک روز تمہیں ایک دروازہ ملے گا جو تمہارے لئے کھلا ہو گا۔ اس میں داخل ہو جانا۔“
سیف الملوک اس پراسرار صوفی کے پاس مزید بیٹھنا چاہتا تھا اور مزید کچھ سننا چاہتا تھا لیکن انصاری نے درشت لہجہ اختیار کیا اور اسے جانے کو بولا ۔ وہ بادل نخواستہ وہاں سے اٹھا اور اپنی صحرا نوردی جاری رکھی۔
وہ کشمیر گیا ، وہاں ایک بزرگ کا شاگرد بنا ، پھر اس کی آوارہ گردی اسے بخارا لے گئی ۔ بخارا کے بازار میں اس نے دیکھا کہ ایک شخص ایک پرندہ، ایک بلی اور ایک کتے کو ساتھ لئے بازار سے نکل رہا تھا جنہیں اس نے کچھ دیر پہلے ہی ایک دکان سے خریدا تھا۔ سیف نے سوچا؛
’ اگر وہ کشمیر سے کچھ پہلے نکل آیا ہوتا تو یہ جانور خرید سکتا تھا کیونکہ وہ تو انصاری نے اس کے نصیب سے جوڑ دئیے تھے۔‘ ساتھ ہی اسے خیال آیا کہ گو اس نے پرندے ، بلی اور کتے کو تو ساتھ ساتھ دیکھ لیا ہے لیکن ابھی تک اسے بادل کا ٹکڑا نظر نہیں آیا، حالانکہ اسے بادل کا ٹکڑا پہلے نظر آنا چاہیے تھا۔ اس پر اسے اپنے ایک بزرگ استاد کی بات یاد آئی کہ آدمی واقعات کی ترتیب کو اپنے حساب سے دیکھتا ہے جبکہ قدرت نے ان کا وقوع پذیر ہونا اپنے تیئں مرتب کیا ہوتا ہے۔ سیف نے اس آدمی کی کھوج شروع کی جس نے تینوں جانوروں کو خریدا تھا کہ جان سکے کہ وہ اس کے پاس اکٹھے ہیں بھی یا نہیں ۔
آخرکار اسے اس آدمی کا پتہ چل ہی گیا ، اس کا نام رب واس تھا اور یہ کہ اس نے رحم کھا کر پرندے ، بلی اور کتے کو خریدا تھا ۔ اسے لگا تھا کہ ان کو اکٹھا لینے والا کوئی خریدار نہیں تھا جبکہ دکاندار انہیں اکٹھا ہی بیچنا چاہتا تھا۔ سیف نے جب رب واس سے انہیں خریدنے کی بات کی تو اس نے بخوشی انہیں بیچ دیا۔
سیف اب بخارا میں ہی بس گیا ۔ اسے یہ مشکل لگا تھا کہ وہ جانوروں کو ساتھ ساتھ لئے پھرتا رہے۔ وہ دن بھر اون بنانے والے کارخانے میں کام کرتا اور شام کو جانوروں کے لئے خوراک لے کر گھر لوٹتا ۔ وقت گزرتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے تین سال گزر گئے۔ اب وہ کاتنے والوں کا سردار بن چکا تھا اور بخارا میں معاشرے کے ایک باعزت رکن کی حیثیت سے رہ رہا تھا۔
ایک روز وہ ٹہلتا ہوا شہر سے ذرا باہر نکل گیا۔ اس کی نظر آسمان پر پڑی تو اسے فضا میں بادل کا ایک ٹکڑا دکھائی دیا ۔ یہ مُنا بادل عام بادلوں سے کچھ مختلف تھا ۔ اسے انصاری کی پہلی نصیحت یاد آ گئی ۔ وہ تیزی سے گھر لوٹا ، ضروری سامان باندھا ، جانور ساتھ لئے اور جس سمت میں بادل نظر آیا تھا اس کے الٹی سمت راستے پر چل پڑا ۔ یہ راستہ اصفہان کو جاتا تھا، جب وہ وہاں پہنچا تو اس کی جیب خالی تھی۔ اس نے وہاں اون کاتنے کا ہی کام شروع کر دیا لیکن اس کام کی وہاں پذیرائی نہ تھی۔ کچھ دنوں بعد وہ ایک قہوہ خانے میں بیٹھا تھا کہ ایک مسافر کی زبانی اسے پتہ چلا کہ کسی جابر نے بخارا پر حملہ کرکے اس کے باسیوں کو قتل کیا اور بخارا پر قابض ہو گیا۔ اسے انصاری کی پہلی بات اب سمجھ میں آئی کہ وہ ننھا بادل حملہ آوروں کے گھوڑوں کی دھول سے بنا تھا اور ساتھ میں یہ بھی کہ ایسے علم کا کیا فائدہ جب انسان زندہ ہی نہ بچے۔ وہ گھر پہنچ کر فریاد کرنے لگا؛
” اے بزرگو! اے مقدس لوگو! میری مدد کو آﺅ، میں جو کہ مفلسی کی اس حالت میں پہنچ چکا ہوں کہ خود اپنا اور اپنے جانوروں کا خیال نہیں رکھ سکتا۔ ہم بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے ہیں۔“
یہ ورد کرتے کرتے اس پر غنودگی طاری ہو گئی اور اسی کیفیت میں اس نے ایک انگوٹھی دیکھی جس کا نگینہ آگ کی طرح دہک رہا تھا اور ہر پل اس کا رنگ بدل جاتا تھا۔ ساتھ ہی اسے ایک آواز بھی سنائی دی ؛
” یہ وقت کے سنہرے خزانے کا حصہ ہے ، سچائی کا منبع، اور یہ انگوٹھی ’سلیمان ابن داﺅد‘ کی ہے وہ بادشاہ جس کے بہت سے راز پوشیدہ ہیں ۔“
پھر اس نے دیکھا جیسے وہ ندی کے کنارے ایک درخت تلے موجود ہے اور انگوٹھی وہاں ایک چٹان کی ایک درز میں پڑی ہوئی ہے۔
اگلی صبح جب وہ جاگا تو اسے اپنی بھوک پر کافی قابو تھا۔ وہ اصفہان کی آبادی کے باہر ادھر ادھر گھومنے لگا جیسے خواب میں دیکھی انگوٹھی کا متلاشی ہو۔ پھر اسے ندی نظر آئی، ایک درخت بھی اور چٹان بھی ۔ یہ سب ویسے ہی تھے جیسے اس نے خواب میں دیکھے تھے۔ چٹان میں ایک درز بھی تھی ۔ اس نے درز میں درخت کی ایک پتلی سی ٹہنی ڈال کر ادھر ادھر گھمایا اورجب اسے باہر نکالا تو ایک انگوٹھی اس میں پروئی ہوئی ساتھ باہر آ گئی۔ یہ بھی ویسی ہی تھی جیسی وہ خواب میں دیکھ چکا تھا۔ اس نے یہ سوچتے ہوئے انگوٹھی کو پانی میں دھویا ۔
’اگر یہ بادشاہ ’ سلیمان ابن داﺅد‘ کی ہی انگوٹھی ہے تو ہو سکتا ہے کہ میری مشکلات کا انت قریب آ گیا ہو۔‘
اس نے پانی میں دھلی انگوٹھی کو اپنے چولے سے رگڑا تو وہ لشکارے مارنے لگی ، ساتھ ہی ایسا محسوس ہوا جیسے دھرتی کانپی ہو اور سیف کوایک آواز آئی؛
”اس انگوٹھی کو چٹان کی اس درز میں پڑے صدیاں بیت گئیں ہیں ۔ اے سیف الملوک اب تم نے اسے پا لیا ہے لہذٰا اب تم ہی اس کے مالک ہو، میں اس انگوٹھی کا غلام ہوں ، مجھے بتاﺅ کہ میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں؟“
سیف بولا؛
”سلیمان ابن داﺅد کے نام پر جاﺅ اور میرے جانور اور ہم سب کے لئے کھانا لاﺅ۔“
ابھی اس نے اپنی بات مکمل ہی کی تھی کہ پرندہ ، بلی اور کتا اس کے پاس تھے اور ان سب کی پسندیدہ خوراک بھی ان کے سامنے تھی۔ سیف نے انگوٹھی کو پھر اپنے لبادے سے رگڑا ۔ پھر سے آواز آئی ؛
” اے انگوٹھی کے مالک اب میرے لئے کیا حکم ہے ؟“
” سلیمان ابن داﺅد کے نام پر مجھے یہ بتاﺅ، کیا میرا انت آن پہنچا ہے؟ کیونکہ مجھے ان جانوروں کا بندوبست کرنا ہو گا، جیسا کہ میرے استاد خواجہ انصاری ہراتی نے مجھے بتایا تھا۔“
” نہیں ، ابھی انت نہیں ہوا۔“ آواز نے جواب دیا۔
انگوٹھی کے اس غلام نے وہیں سیف کے لئے ایک گھر بنا دالا اور جانوروں کے لئے ڈربے بھی۔ سیف اب وہیں رہنے لگا۔ اب اسے تینوں جانوروں کی مختلف عادات و اطوار کی جانکاری حاصل ہونا شروع ہوئی، اس نے ان کی اچھی عادتوں کی حوصلہ افزائی کی جبکہ بری کی حوصلہ شکنی ۔ وہ ان سے خواجہ انصاری اور اس کی تین نصیحتوں کا بھی اکثر ذکر کرتا۔
وقتاً فوقتاً کئی دانا ، درویش ، صوفی اور سنت اس راہ سے گزرتے جو سیف کے گھر کے پاس تھی ۔ وہ اس کے پاس بھی رکتے اور اسے اپنی اپنی طریقت سکھانے کی کوشش کرتے اور جب وہ ان سے قائل نہ ہوتا اور یہ کہتا کہ ابھی تو اس نے اپنے استاد کا دیا ایک کام پورا کرنا ہے تو مایوس ہو کر اپنی راہ لیتے۔
پھر ایک دن ایسا ہوا کہ جانوروں نے اس کے ساتھ انسانوں والی زبان میں بات چیت کرنا شروع کر دی ۔ بلی بولی؛
” اے مالک، آپ اکثر کہتے ہو کہ آپ نے ایک کام ابھی پورا کرنا ہے، لیکن جس خاتمے کا آپ ذکر کرتے ہو وہ تو ابھی آیا ہی نہیں ہے۔“
” ہاں یہ درست ہے ۔ خواجہ انصاری نے جس انت کی بات کی تھی ، ہو سکتا ہے اس کا سمے سو سالوں کے بعد آئے۔“ سیف نے بلی کو جواب دیا۔
” یہیں پر آپ غلط ہیں “ ، پرندہ بولا، ” آپ نے تو اس بات کو جانا ہی نہیں کہ اب تک جتنے دانا، درویش ، صوفی اور سنت یہاں آئے اور گئے وہ بظاہر تو سب مختلف تھے جیسے ہم تینوں جانور آپ کو مختلف لگتے ہیں لیکن اصل میں تو وہ سب خواجہ انصاری کے ہی بھیجے ہوئے تھے جو یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آپ نے ’ اندر’ کا گیان پایا یا نہیں۔ “
سیف بولا؛
” اگرتمہارا کہا سچ ہے ، جس پر مجھے یقین نہیں ہے، تو ایسا کیوں ہے کہ ایک بلی اور چھوٹی سی چڑیا مجھے اس بات کی وضاحت دے رہی ہے جو مجھ جیسے پڑھے لکھے کو سمجھ نہ آ سکی۔“
” اس کی سیدھی سی وجہ یہ ہے کہ آپ چیزوں کو اپنے ہی مخصوص انداز میں دیکھتے ہو ۔ جس کی وجہ سے آپ کی کمزوریاں عام سے عام آدمی کو بھی نظر آ جاتی ہیں۔“ بلی اور پرندہ یک زبان ہو کر بولے۔“
یہ سن کر سیف کو تشویش ہوئی اور وہ بولا؛
” تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھے تیسری نصیحت کے مطابق دروازہ بہت پہلے مل جانا چاہیے تھا۔“
”جی“ ، اب کی بار کتا بولا، ” پچھلے سالوں میں دروازہ درجنوں بار کھل کر بند ہو چکا ہے لیکن آپ نے اسے دیکھا ہی نہیں لیکن ہم نے اسے ہر بار کھلتے اور بند ہوتے دیکھا لیکن آپ کو بتا نہ پائے کہ اس وقت ہمیں آپ کی زبان نہیں آتی تھی۔“
” لیکن اب تم سب مجھ سے کیسے بات چیت کر رہے ہو؟ “ سیف نے سوال کیا۔
” وہ اس لئے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ بہتر سے بہتر انسان بنتے جا رہے ہو ۔ اب آپ کے پاس بس ایک موقع ہی بچا ہے کیونکہ اب آپ پر بڑھاپا غالب آ رہا ہے۔“
سیف بابا نے پہلے تو اس سب کو اپنا وہم جانا، پھر اسے یہ بھی خیال آیا کہ ان جانوروں کو مجھ سے اس طرح بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ، میں جو کہ ان کا مالک ہوں۔ اس کے خیالوں کی ایک اور رو چلی اور اس نے سوچا؛
’اگر یہ جانور غلط کہہ رہے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اگر ان کا کہنا بجا ہے تو مجھ سے واقعی غلطی ہوتی رہی ہے ۔ اب میں آئندہ آنے والا موقع ہاتھ سے نہ جانے دوں گا۔‘
کئی ماہ گزر گئے ۔ ایک روز ایک درویش وہاں آیا اور اس نے سیف کی دہلیز پر ڈیرا ڈال لیا، اس نے جانوروں سے بھی دوستی کر لی ۔ سیف نے اسے اعتماد میں لینے کی کوشش کی جس پر اس نے کہا؛
” مجھے تمہاری اس کہانی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ خواجہ انصاری نے تمہیں کیا نصیحتیں کیں، بادل بارے یا جانوروں کے بارے میں یا یہ کہ تمہیں سلیمان ابن داﺅد کی انگوٹھی ملی ہوئی ہے ۔ مجھے بس یہاں سکون سے پڑا رہنے دو۔“
سیف کو یہ سن کر مایوسی ہوئی اور اس نے انگوٹھی کے غلام سے بات کی تو اس نے بھی آگے سے جواب دیا کہ وہ اسے وہ باتیں نہیں بتا سکتا جن کی اسے ممانعت ہے ۔ البتہ اس نے یہ ضرور کہا؛
” سیف الموک آپ ایک بظاہر نظر نہ آنے والی بیماری کا شکار ہیں جسے ’ من میں بسا تعصب‘ کہتے ہیں ، جو ہمیشہ آپ کے آڑے آتی ہے۔“
تب، سیف با با ، درویش کے پاس گیا جو اس کی دہلیز پر بیٹھا تھا، اور اس سے کہا؛
” مجھے کیا کرنا چاہیے کیونکہ میں ان جانوروں کو اپنی ذمہ داری گردانتا ہوں اور میرے پاس خواجہ انصاری کی تین نصیحتوں کے علاوہ اور کوئی علم نہ ہے۔ “
درویش نے یہ سن کر کہا؛
” اب تمہاری بات میں تعصب نہیں ہے اور اس میں خلوص جھلکتا ہے ۔ یوں کرو پہلے اپنے جانور میرے حوالے کرو تاکہ میں تمہیں مزید کچھ بتا پاﺅں ۔“
” لیکن میں آپ کو نہیں جانتا، اور آپ کا مطالبہ بہت بڑا ہے ۔ میں آپ کی عزت کرتا ہوں لیکن میں آپ کے بارے میں تشکیک کا شکار ہوں۔“ سیف بولا۔
” تم نے ٹھیک کہا ۔ تمہاری بات میں اپنے جانوروں کے لئے محبت جھلکتی ہے اور میرے بارے میں شک کا اظہار بھی درست ہے ۔ اگر تم جذبات یا منطق کے سہارے دیکھنے کی کوشش کرو گے تو مجھ سے فیض نہیں پا سکتے، کیونکہ تم پر ابھی بھی احساس ملکیت حاوی ہے بالکل اسی طرح جس طرح میرا نام ہی ’ دروازہ‘ ہے۔ “
’یہ سنت بھلا وہ دروازہ کیسے ہو سکتا ہے جس کا ذکر خواجہ انصاری نے کیا تھا۔‘ سیف نے سوچا اور درویش سے کہا؛
”مجھے آپ کے ’ دروازہ‘ ہونے پر شک ہے ۔“
یہ سن کر درویش زور سے بولا؛
” بھاڑ میں جاﺅ تم اور تمہارے خیالات بھی، تم غور کیوں نہیں کرتے کہ پہلی دو نصیحتیں تمہارے دماغ کی آبیاری کے لئے تھیں جبکہ تیسری تمہارے قلب کی کشادگی واسطے ہے۔“
سیف با با دو سال سے وہاں رہ رہا تھا اور اتنا عرصہ ہی وہ کشمکش کا شکار رہا تھا لیکن اب درویش کی بات سن کر یک لخت سیف کو’ راستی‘ نظر آ ہی گئی اور اس نے جانوروں کو بلا کر کہا؛
”اب سے تم مجھ سے آزاد ہو اور اپنے مالک خود ہو، کیونکہ انت آ گیا ہے ۔“
جیسے ہی سیف با با نے یہ کہا، جانوروں نے انسانوں کی جون اختیار کر لی جو خواجہ انصاری کے ہی شاگرد تھے اور ان کے پاس کھڑا ’ دروازہ‘ درویش خواجہ انصاری میں بدل گیا ۔ ساتھ ہی درخت کے تنے میں ایک دروازہ بن گیا۔ خواجہ انصاری نے دروازے کو سیف با با کے لئے وا کر دیا۔ سیف بابا بنا کچھ بولے دروازے میں داخل ہو گیا ۔
اسے اپنے سامنے سنہرے حروف میں زندگی اور موت کے بارے میں ان سوالات کے جوابات نظر آئے جو اس کے دماغ میں اٹھتے رہتے تھے۔ اخلاقیات اور انسانیت کیا ہے اس بارے بھی بہت کچھ لکھا نظر آیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ علم کیا ہے اور کیا نہیں ۔اس کے ذہن پر تنے تشکیک کے جالے صاف ہونے لگے۔ اتنے میں اسے خواجہ انصاری کی آواز سنائی دی ؛
” تم نے ساری زندگی خود کو ’ خارج‘ سے جوڑے رکھا اور اپنے ’ داخل‘ پر دھیان ہی نہیں دیا ۔ بہر حال تم اب وہاں پہنچ ہی گئے ہو جہاں تم پہنچنا چاہتے تھے، چاہے پہنچنے میں دیر ہوئی ۔“

About Mehar Afroz

Check Also

Naat By Dr Maqsood Hassani

مسکان کے بطن سے وہ صاحب جلال دفعتا جمال میں آیا پھر تھوڑا سا مسکرایا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *