Breaking News

Hikayat By Qaisar Nazir Khawar

صوفی سنتوں کی’ کہاوتوں‘ سے انتخاب ۔ 12
پردہ پوشی
اردو قالب ؛ قیصر نذیر خاور

صدیوں پہلے کی بات ہے کہ شہر یروشلم میں ، جہاں یہ مانا جاتا تھا کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور جب ایک بار شادی ہو جائے تو جوڑے میں طلاق نہیں ہو سکتی ۔
انہی دنوں نزدیکی علاقے عرب میں ایک نیا مذہب سامنے آیا جس میں شادی کو دنیاوی معاہدہ کہا گیا اور اس میں مرد کو یہ حق دیا گیا کہ وہ کسی وجہ کو جائز جانے تو اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے اور بیوی بھی کسی جائز بات پر خلع کا تقاضا کر سکتی ہے ۔ اس مذہب کو ماننے والے کچھ عربی یروشلم میں آ کر بسے ۔

ان میں سے ایک عربی کو اپنی بیوی سے کچھ ایسا اختلاف ہوا کہ اس نے اسے طلاق دے دی ۔ شہر میں چونکہ اکژیت ابھی ان لوگوں کی تھی جو اُس عقیدے کے ماننے والے تھے کہ طلاق نہیں ہو سکتی ، چنانچہ پورے شہر میں ’ہا، ہا کار‘ مچ گئی اور ان میں سے وہ جو کوئی بھی اس آبادی کے قریب سے گزرتا جس میں یہ عربی بستے تھے تو وہ بستی کی طرف انگلی اٹھا کر

طلاق کی نِندا ضرور کرتا۔ اس عربی کے دیگر ساتھی اِس انگلی اٹھنے پر سخت پریشان تھے ۔ ایک روز وہ اکٹھے ہو کر اس عربی کے پاس گئے اور اس سے طلاق کا سبب جاننا چاہا ۔
اِس پر اُس عربی نے جواب دیا؛ ” وہ عورت ابھی عدت میں ہے اور ابھی بھی میری بیوی بن سکتی ہے کیونکہ ہمارا عقیدہ ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے ۔ میں اس کے عیب کیسے تمہارے سامنے بیان کروں ، اگر میں نے ایسا کر دیا تو پھر اس سے رجوع کیسے کروں گا؟ “

لوگوں کو اس کی بات میں وزن نظر آیا اور وہ واپس چلے گئے اور عورت کی عدت کے ختم ہونے یا اس عربی کے رجوع کرنے کا انتظار کرنے لگے ۔ طلاق دینے والے نے اس سے رجوع نہ کیا یہاں تک کہ اس عورت کی عدت کی معیاد بھی ختم ہو گئی ۔

لوگ پھر وہی سوال لے کر اس کے پاس گئے ۔ اس نے جواباً ان سے کہا؛ ” اگر میں نے اب اس عورت کے بارے میں کچھ بھی بتایا تو وہ عیب گردانا جائے گا اور غالب امکان ہے کہ کوئی دوسرا اس سے شادی نہ کرے ۔ “

لوگ اب اس انتظار میں رہے کہ اس عورت کی شادی ہو تو وہ اپنا سوال پھر سے اس عربی کے سامنے رکھیں ۔ یہ وقت بھی آ گیا اور اس عورت کی شادی ایک دوسرے عربی سے ہو گئی ۔

اس پر طلاق کا سبب جاننے کے لئے سوال پھر سے اٹھا تو اس نے جواب دیا؛ ” اب جبکہ وہ میرے ہی ایک ہم عقیدہ کی منکوحہ بن چکی ہے تو مروت کا تقاضا ہے کہ میں ایک پرائی اور اپنے لئے نامحرم ٹہری عورت کے بارے میں اپنا منہ بند رکھوں ۔ “
اس کے ہم مذہب یہ جواب سن کر لاجواب ہوئے اور واپس لوٹ گئے ۔

شہر بھر میں بات پھیلی اور وہ ، جس پر انگلیاں اٹھیں تھیں ، اب ’دانا‘ ٹہرا ۔

About iliyas

Online Drugstore, buy baclofen online, Free shipping, buy Lexapro online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription

Check Also

Dr Maqsood hassani no more

Short Story By Dr Maqsood Hassani

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *