Breaking News

Short Story By Gul bakhshalwi

حضرت نظام الدین اولیاءاکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے
“ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا،
ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا”۔

اتنا فرما کر پھر غش کھا جاتے.ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا:حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟”آپ? نے فرمایا:ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھےاور وہ میاں بیوی کپڑ ے دھو کر استری کرکے واپس محل پہنچا دیا کرتے تھے،ان کا ایک بیٹا بھی تھا.جو جوان ہوا تو کپڑ ے دھونے میں والدین کا ھاتھ بٹانے لگا،کپڑ وں میں شہزادی کے کپڑ ے بھی تھے،جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہو گیا.محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعداس کے اطوار تبدیل ہو گئے،وہ شہزادی کے کپڑے الگ کرتا،انہیں خوب اچھی طرح دھوتا،انہیں استری کرنے کے بعد ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کرکے رکھتا.سلسلہ چلتا رہا.آخر والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیااور دھوبی کے کان میں کھسر پھسر کی کہیہ تو لگتا ہے سارے خاندان کو مروائے گا،یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے،والد نے بیٹے کے کپڑ ے دھونے پر پابندی لگا دی،ادھر جب تک لڑکا محبت کے زیر اثر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا،محبت کا بخار نکلتارہتا تھا، جب وہ اس خدمت سے ہٹایا گیاتو لڑکا بیمار پڑ گیااور چند دن کے بعد فوت ہو گیا۔ادھر کپڑوں کی دھلائی اور تہہ بندی کا انداز بدلاتو شہزادی نے دھوبن کو بلا بھیجا،اور اس سے پوچھا کہ میرے کپڑے کون دھوتا ہے؟دھوبن نے جواب دیا:شہزادی عالیہ میں دھوتی ہوں،شہزادی نے کہا:پہلے کون دھوتا تھا؟دھوبن نے کہا:میں ہی دھوتی تھی.شہزادی نے اسے کہا:یہ کپڑا تہہ کرو.اب دھوبن سے ویسے تہہ نہیں ہوتا تھا.شہزادی نے اسے ڈانٹا:تم جھوٹ بولتی ہو،سچ سچ بتاو ¿ ورنہ سزا ملے گی.دھوبن کے سامنے کوئی دوسرا رستہ بھی نہیں تھا.کچھ دل بھی غم سے بھرا ہوا تھا،وہ زار و قطار رونے لگ گئی،اور سارا ماجرا شہزادی سے کہہ دیا.
شہزادی یہ سب کچھ سن کر سناٹے میں آ گئی۔پھر اس نے سواری تیار کرنے کا حکم دیااور شاہی بگھی میں سوار ہو کرپھولوں کا ٹوکرا بھرکرلائی،اور مقتول محبت کی قبر پر سارے پھول چڑھا دیے.زندگی بھر اس کا یہ معمول رہاکہ وہ اس دھوبی کے بچے کی برسی پراس کی قبر پر
حضرت نظام الدین اولیاءاکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے
“ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا،
ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا”۔

اتنا فرما کر پھر غش کھا جاتے.ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا:حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟”آپ? نے فرمایا:ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھےاور وہ میاں بیوی کپڑ ے دھو کر استری کرکے واپس محل پہنچا دیا کرتے تھے،ان کا ایک بیٹا بھی تھا.جو جوان ہوا تو کپڑ ے دھونے میں والدین کا ھاتھ بٹانے لگا،کپڑ وں میں شہزادی کے کپڑ ے بھی تھے،جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہو گیا.محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعداس کے اطوار تبدیل ہو گئے،وہ شہزادی کے کپڑے الگ کرتا،انہیں خوب اچھی طرح دھوتا،انہیں استری کرنے کے بعد ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کرکے رکھتا.سلسلہ چلتا رہا.آخر والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیااور دھوبی کے کان میں کھسر پھسر کی کہیہ تو لگتا ہے سارے خاندان کو مروائے گا،یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے،والد نے بیٹے کے کپڑ ے دھونے پر پابندی لگا دی،ادھر جب تک لڑکا محبت کے زیر اثر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا،محبت کا بخار نکلتارہتا تھا، جب وہ اس خدمت سے ہٹایا گیاتو لڑکا بیمار پڑ گیااور چند دن کے بعد فوت ہو گیا۔ادھر کپڑوں کی دھلائی اور تہہ بندی کا انداز بدلاتو شہزادی نے دھوبن کو بلا بھیجا،اور اس سے پوچھا کہ میرے کپڑے کون دھوتا ہے؟دھوبن نے جواب دیا:شہزادی عالیہ میں دھوتی ہوں،شہزادی نے کہا:پہلے کون دھوتا تھا؟دھوبن نے کہا:میں ہی دھوتی تھی.شہزادی نے اسے کہا:یہ کپڑا تہہ کرو.اب دھوبن سے ویسے تہہ نہیں ہوتا تھا.شہزادی نے اسے ڈانٹا:تم جھوٹ بولتی ہو،سچ سچ بتاو ¿ ورنہ سزا ملے گی.دھوبن کے سامنے کوئی دوسرا رستہ بھی نہیں تھا.کچھ دل بھی غم سے بھرا ہوا تھا،وہ زار و قطار رونے لگ گئی،اور سارا ماجرا شہزادی سے کہہ دیا.
شہزادی یہ سب کچھ سن کر سناٹے میں آ گئی۔پھر اس نے سواری تیار کرنے کا حکم دیااور شاہی بگھی میں سوار ہو کرپھولوں کا ٹوکرا بھرکرلائی،اور مقتول محبت کی قبر پر سارے پھول چڑھا دیے.زندگی بھر اس کا یہ معمول رہاکہ وہ اس دھوبی کے بچے کی برسی پراس کی قبر پر

About aseem khazi khazi

Check Also

Dr Maqsood hassani no more

Short Story By Dr Maqsood Hassani

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *