Breaking News

Short Story By Qaisar Nazir khawar

افسانہ
چرند پرند
قیصر نذیر خاورؔ

احمد پور شرقیہ سے لاہور تک کا سفر تھکا دینے والا تھا ۔ خالد جب یتیم خانہ چوک کے پاس لاری اڈے پر اترا تو رات کے نو بج چکے تھے ۔ پورے روشن چاند نے تاریک رات میں ہر طرف چاندنی بکھیر رکھی تھی ۔ یہ دسمبر کے آخری دن تھے اور ہوا میں ٹھنڈ اتنی شدید کہ اس کی ناک اور گال بس سے باہر نکلتے ہی یخ ہو گئے اور اسے اپنے منہ سے نکلتا سانس بھاپ کی صورت میں دکھائی دے رہا تھا ۔
” بھائی ، معاف کرنا ، یہاں قریب ہی کوئی رہنے کا سستا ٹھکانہ مل جائے گا ؟ “
اس نے کنڈکٹر سے اپنا بکسا پکڑتے ہوئے پوچھا ۔ کنڈکٹر ، جو بس کی چھت پر چڑھا مسافروں کا سامان جلدی جلدی نیچے لٹکا رہا تھا ، نے اسے کوئی جواب نہ دیا اور اپنے کام میں مصروف رہا ۔ خالد وہیں کھڑا رہا ۔ اس نے ، گو ، اونی سوئیٹر پہن رکھا تھا اور لوئی بھی لپیٹ رکھی تھی لیکن وہ بھر بھی سردی سے کانپ رہا تھا ۔ اس کی جین تھی تو موٹی لیکن سردی کو روک نہیں پا رہی تھی اور اس کی ٹانگوں کو سن کر رہی تھی؛ اس کے خصیے بھی سکڑ کر کاٹھے اخرورٹ بن چکے تھے ۔ اس کے بوسیدہ جوتوں اور سوتی جرابوں کا بھی یہی حال تھا ؛ اس کے پیروں کی انگلیاں سن ہو رہی تھیں ۔
کنڈکٹر جب سارا سامان بس کی چھت سے نیچے اتار کر خود بھی نیچے اترا تو اس نے خالد کو اس کے پندرہ منٹ پہلے پوچھے سوال کا جواب دیا ۔
” یہاں نزدیک تو کوئی ایسی جگہ نہیں ہے لیکن ملتان روڈ پر یتیم خانہ چوک کے دونوں طرف ہوٹل بھی ہیں اور کچھ لوگ اپنے گھروں میں بھی کمرے کرائے پر دیتے ہیں ۔ ان میں فرحت ہاﺅس سستا بھی ہے اور مشہور بھی ۔ چوک میں کسی سے بھی پوچھو گے تو وہ تمہیں بتا دے گا ۔ ۔ ۔ اس کی مالکن ایک عورت ہے ۔ “
آخری جملہ کہتے ہوئے اس کے منہ پر مسکراہٹ تھی اور ایک آنکھ کا کونا بھی دبا ہوا تھا ۔ اس نے یتیم خانہ چوک کی طرف اشارہ کیا ۔ خالد نے اس کا شکریہ ادا کیا اور بکسا اٹھائے اس طرف چلنا شروع کر دیا جس طرف کنڈکٹر نے اشارہ کیا تھا ۔ خالد پہلے کبھی لاہور نہ آیا تھا اور یہاں کسی کو بھی نہیں جانتا تھا ۔ وہ اس شہر میں روزگار کے حوالے سے اپنی قسمت آزمانے آیا تھا ۔

خالد نے اپنے علاقے کے نادرا دفتر سے چند ماہ پہلے ہی اپنا شناختی کارڈ بنوایا تھا ۔ اس نے ابھی مڈل پاس ہی کیا تھا کہ اس کے والد کو فالج ہوا اور وہ بستر سے لگ گیا ۔ خالد کو مجبوراً سکول چھوڑنا پڑا اور باپ کی کریانے کی دکان سنبھالنا پڑی ۔ یہ دکان کیا تھی ، چھوٹا سا کھوکھا تھا جو بازار میں اس جگہ سے کچھ دور ہٹ کر تھا جہاں بسوں کا اڈہ تھا ۔ وہ ڈھائی سال سے اس دکان کو چلا رہا تھا ؛ فارغ وقت میں وہ میڑک کی کتابیں پڑھتا رہتا ، ان سے دل اُوبتا تو کوئی ڈائجسٹ یا کتاب پڑھنے لگتا ؛ وہ یہ کتابوں والی اس دکان سے مستعار لاتا جو بسوں کے اڈے کے پاس موجود تھی جہاں نصابی کتب اور سٹیشنری کے علاوہ دیگر کتب و رسائل وغیرہ بھی ملتے تھے ۔ میٹرک کا نصاب اسے ازبر تھا لیکن وہ سائنس کے ساتھ میٹرک کرنا چاہتا تھا جس کے لئے اسے کسی ایسی اکیڈیمی کو پیسے دینے کی ضرورت تھی جو اس کا داخلہ اپنے نام پر بطور ریگولر طالب علم بھجوا سکے ؛ وہ دکان سے اتنے پیسے بچا نہیں پا رہا تھا ۔ وہ اپنے پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا ۔ اس کی ماں احمد پور شرقیہ کے ہی ایک زمیندار کے گھر کام کرتی تھی ؛ وہ صبح جاتی اور شام پڑنے پر ہی گھر لوٹتی ۔ خالد سے چھوٹی صغٰراں خود سے چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالتے ہوئے گھر کا کام کاج ، ہانڈی روٹی اور چارپائی سے لگے باپ کو سنبھالتی تھی ۔ صغٰراں فخر سے سال بھر چھوٹی تھی اور اس نے پرائمری تک سکول میں بڑھا تھا ۔ صابر تیسرے نمبر پر تھا اور آٹھویں میں تھا ۔ دو چھوٹی بہنیں ابھی علاقے کے پرائمری سکول میں دوسری اور تیسری میں پڑھ رہی تھیں ۔
جن دنوں ، خالد اپنا شناختی کارڈ بنوا رہا تھا ، انہی دنوں اس کا والد مناسب علاج نہ ہونے پر چل بسا ۔ خالد نے ماں سے مشورہ کیا اور صابر کو سکول سے اٹھا لیا اور اپنے ساتھ دکان پر لے جانا شروع کر دیا ۔ اس کا خیال تھا کہ وہ دو چار ماہ میں صابر کو دکان سنبھالنے کے قابل کرکے ، دکان اس کے حوالے کرے گا اور خود قسمت آزمائی کے لئے کراچی ، ملتان یا لاہور کا رخ کرے گا ۔ یہی کارن تھا کہ خالد اب لاہور میں موجود تھا ؛ لوگوں کا مشورہ ملتان اور کراچی کی نسبت لاہور کے لئے زیادہ تھا ۔

یتیم خانہ چوک میں پہنچ کر اس نے ایک راہ گیر سے فرحت ہاﺅس کے بارے میں پوچھا ۔ راہ گیر خود مسافر تھا اور علاقے سے ناواقف ؛ وہ خالد کو کچھ نہ بتا سکا ، البتہ دو تین اور لوگوں سے پوچھنے پر اسے فرحت ہائوس کا پتہ مل گیا ۔ یہ ملتان روڈ پر واقع رسول پارک کی ایک بند گلی میں آخری مکان تھا ؛ گلی تاریک تھی ۔ لوہے کے کالے گیٹ کے ساتھ ستون پر پانچ واٹ کے بلب کی روشنی تلے ایک تختی پر مکان کا نمبر اور فرحت ہاﺅس لکھا ہوا تھا ۔ اس سے آگے پانچ چھ فٹ کا چھوٹا سا صحن تھا جس کے بعد مکان کی تین منزلہ تاریک عمارت اس کے سامنے تھی جس کے ماتھے پر چاند کی روشنی پڑ رہی تھی ؛ ماتھے پر آگے کو بڑھی محرابی لکڑی کی کھڑکیوں ، جن پر کندہ کاری ہوئی تھی اور رنگ برنگے شیشے جڑے تھے ، جن میں سے اکثر ٹوٹے ہوئے تھے ، کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ کبھی یہ مکان شاندار رہا ہو گا ، لیکن اب یہ کھنڈر لگ رہا تھا ۔ خالد نے گیٹ پر دستک دی ۔ گھر پر خاموشی طاری رہی ۔ چند منٹ بعد اس نے پھر دروازہ کھٹکھٹایا ۔ اس بار سامنے نظر آنے والے ایک کمرے میں روشنی ہوئی جس میں خالد کو یوں لگا جیسے کھڑکی میں ایک طوطے کا پنجرہ لٹکا ہو جس میں ایک طوطا چونچ نیچی کئے ایسے بیٹھا تھا جیسے دانہ چُگ رہا ہو ۔ دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور اس نے ایک چوڑی چکلی فربہ عورت کو دروازے سے باہر آتے دیکھا ؛ اس نے صحن کی بتی جلائی اور چلتی ہوئی گیٹ کے قریب آ ئی اورآواز لگائی ؛
” کون ہے ؟ “
” جی ، میرا نام خالد ہے ، میں ضلع بہاولنگر کے قصبے احمد پور شرقیہ سے آیا ہوں ۔ بسوں کے اڈے سے مجھے آپ کا پتہ ملا ہے ۔ مجھے شب بسری کے لئے جگہ درکار ہے ۔ “
یہ سن کر اس موٹی عورت نے گیٹ میں ایک طرف بنا چھوٹا دروازہ کھول دیا ۔
” اندر آ جاﺅ ۔ “
خالد کو وِکٹ گیٹ سے سر جھکا کر اندر داخل ہونا پڑا ؛ وہ دراز قد تھا ویسے وہ عورت بھی ٹھگنی نہ تھی ۔ اس نے کپڑوں پر ایک اونی شال لپیٹ رکھی تھی ۔ جیسے ہی خالد اندر داخل ہوا ، عورت نے وِکٹ گیٹ کو بند کیا اور اس دروازے کی طرف بڑھنے لگی جس سے وہ باہر آئی تھی ۔ اس کے کولہے بھاری تھے جو اس کے چلنے پر بُری طرح تھرتھرا رہے تھے ۔ وہ ایک پائوں دبا کر رکھ رہی تھی ۔ خالد بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔ اندر ایک چھوٹی سی راہداری تھی جس کے ایک کونے میں ایک چھوٹی میز اور ایک کرسی رکھی تھی دوسری جانب سیٹرھیاں اوپر جا رہی تھیں ۔ وہ عورت اس میز کے پاس جا کر رک گئی ۔ اس نے چادر اتار کر میز پر رکھی اور اس پر پڑے رجسٹر کو کھولا اور خالد کی طرف بڑھا دیا ۔ تب خالد نے دیکھا کہ اس کے کولہوں کی طرح اس کی چھاتیاں بھی بڑی تھیں ۔ اس کا رنگ گورا تھا اتنا زیادہ جیسے اس نے منہ اور گردن پر میدے کا لیپ کیا ہو ۔ ‘ وہ عمر میں خود اس سے کم سے کم دگنی تو ہو گی ‘ ، خالد نے اندازہ لگایا ؛ وہ سونے کے لباس میں تھی ۔
” اس پر اپنا نام ، پتہ وغیرہ لکھو ۔ “
خالد ہچکچاتے ہوئے بولا ؛ ” آپ کرایہ کیا لیں گی ؟ “
” ایک سو بیس روپے روز ۔ ۔ ۔ اس میں ناشتہ شامل ہے ۔ “
خالد نے ذہن میں حساب جوڑا ، ‘ مہینے کے چھتیس سو روپے ‘ ، یہ اسے زیادہ لگے ۔ اس نے جیب میں اس پرچی کو ٹٹولا جس پر اس بندے کا نام اوردفتر کا پتہ لکھا ہوا تھا ، جس سے اس نے اگلے روز جا کر ملنا تھا ؛ یہ اسے اس کے ایک ہمسائے نے دیا تھا ۔ اس کے ہمسائے کا خیال تھا کہ وہ خالد کو کوئی ملازمت دلانے اور رہنے کے لئے کسی ٹھکانے کا بندوبست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا تھا ۔
‘ چلو آج کی رات تو یہاں گزارتا ہوں ، باقی کل دیکھا جائے گا ۔ ‘ ، خالد نے سوچا اور رجسٹر کے ساتھ دھاگے سے بندھے بال پوائنٹ سے اس کے کھلے ہوئے صفحے پر اپنا نام اور پتہ لکھنے لگا ۔ اس صفحے پر پہلے سے ہی تین نام اور پتے لکھے ہوئے تھے ۔
غنی بشیر و فاروق بشیر
ڈاکخانہ خاص ، شاہ پور ، یو سی ۔ 41 ، تحسیل حاصل پور ، ضلع بہاولنگر
عفت بیگ
ڈاکخانہ خاص ،چک 124/ 6 – R ، فقیر والی ، ضلع بہاولنگر
خالد نے نام اور پتہ لکھ کر جیب سے شناختی کارڈ نکالا اور نمبر پڑھنے لگا تاکہ یہ نمبر بھی رجسٹر پر لکھ سکے ۔
” رہنے دو ، اس کی ضرورت نہیں ۔“ ، عورت بولی ۔
فخر نے کارڈ جیب میں واپس رکھ لیا ۔
” کیا تم اڈے سے سیدھے یہیں آئے ہو ؟ “
” جی ہاں ، اس سے پہلے کہ سردی مجھے جما دیتی ، میں کسی ایسی گرم جگہ پہنچنا چاہتا تھا جہاں میں آرام سے سو سکوں ۔ “
” اس کا مطلب ہے کہ تم نے کھانا نہیں کھایا ہو گا ؟ “ ، عورت نے اپنے دائیں ہاتھ سے گردن اور بائیں بغل کو کھجاتے ہوئے کہا ۔
” مجھے بھوک نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ہاں البتہ میں سونا ضرور چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ دن بھر کے سفر نے مجھے بری طرح تھکا دیا ہے ۔ “
” مجھے اندازہ ہے ۔ ۔ ۔ لیکن کچھ کھائے بغیر سونا بھی مناسب نہیں ۔ میں کھانا کھا چکی ہوں ۔ ۔ ۔ ورنہ ۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ میں تمہیں ڈبل روٹی کے ساتھ آملیٹ اور چائے بنا دیتی ہوں ۔ ۔ ۔ میں صبح ناشتے کے لئے انڈے اور ڈبل روٹی کچھ دیر پہلے ہی لائی ہوں ۔ ۔ ۔ خیر۔ ۔ ۔ چلو پہلے میں تمہیں تمہارا بستر دکھا دیتی ہوں ۔ تم اپنا سامان وہاں رکھ کر منہ ہاتھ دھو لو ۔ “
عورت راہداری میں اوپر جاتی سیڑھیوں کی طرف بڑھی ۔
” میرے لئے یہ تردد کرنے کی ضرورت نہیں ۔ میں بس سونا چاہوں گا ۔ “ ، خالد نے عورت کے پیچھے پیچھے سیٹرھیاں چڑھتے ہوئے کہا ۔ اس نے اب واضح طور پر محسوس کیا کہ وہ دایاں پائوں دبا کر اڈوں پر رکھ رہی تھی اور اس کا دایاں کولہا بائیں کے مقابلے میں ذرا چھوٹا اور کم بھاری تھا ۔
” تم کتنے سال کے ہو ؟ “ ، عورت نے پوچھا ۔
” اگلے برس مئی میں انیس کا ہو جاﺅں گا ۔ “
”غنی بھی اٹھارہ کا تھا ، فاروق بھی ۔ ۔ ۔ وہ دونوں جڑواں تھے لیکن ان کی شکلیں آپس میں ملتی نہ تھیں ۔ ۔ ۔ شاید ماں کے رحم میں دو الگ الگ تھیلوں میں رہے ہوں گے ۔ ۔ ۔ ہاں البتہ عفت عمر میں ان سے تین سال بڑا تھا ۔ پر تینوں تمہاری طرح ہی جوان اور خوبرو تھے ۔ “
جڑواں ۔ ۔ ۔ شکلیں نہیں ملتی تھیں ، رحم میں دو الگ الگ تھیلیاں ۔ ۔ ۔ ، خالد کو کچھ سمجھ نہ آیا ۔
وہ اوپرلی منزل پر پہنچ چکے تھے ۔ عورت نے ایک کمرے کے دروازے کا ہینڈل گھمایا ، کمرے کی بتی جلائی ۔ اندر ایک پلنگ بچھا تھا جس کے گدے پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی اور اس پر ایک سفید غلاف چڑھا تکیہ اورگہرا نیلا موٹا لحاف بھی پڑا تھا ۔ پاس ہی ایک تپائی پڑی تھی جس کے ساتھ ایک کرسی بھی دھری تھی ۔ سامنے غسل خانے کا ادھ کھلا پٹ تھا ؛ اندر البتہ تاریکی تھی ۔
” لو ، یہاں اپنا سامان رکھو اور منہ ہاتھ دھو کر نیچے آ جاﺅ ۔ اتنے میں ، میں تمہارے لئے آملیٹ اور چائے بناتی ہوں ۔ ۔ ۔ “ ، اس سے پہلے کہ خالد اسے منع کرنے کے لئے کچھ کہتا ، عورت دھب دھب کرتی سیڑھیاں اترتی نیچے چلی گئی ۔
خالد نے اپنا بکس بستر کے پاس پڑی تپائی پر رکھا ، اس میں سے تولیہ نکالا ، لوئی اتار کر بستر پر رکھی اور غسل خانے میں چلا گیا ، کمرے میں جلی بتی کی روشنی سیدھی غسل خانے میں بھی پڑ رہی تھی اور اتنی تھی کہ اس نے غسل خانے کی بتی بھی نہ جلائی ۔ اس نے چلمچی میں نلکا کھولا اور منہ دھویا ؛ اسے اندازہ ہوا کہ وہ راستے کی گرد سے اٹا ہوا تھا ، اسے اپنے چہرے پر ٹھنڈے پانی کا چھینٹا اچھا لگا اور اس نے منہ پر پانی کے پانچ چھ چھینٹے مارے اور چہرے کو مَل کر صاف کیا ۔ پھر اس نے قمیض کی آستینیں چڑھائیں اوربازﺅں کو بھی کہنیوں تک دھویا ۔ بال پانی سے تر کیے اورتولیے سے رگڑ کر منہ ، بازو اور بال خشک کئے ؛ اسے تازگی کا احساس ہوا اور ساتھ یہ بھی محسوس ہوا کہ وہ بھوکا تھا ؛ وہ آستینیں نیچے کئے بغیر ہی غسل خانے سے نکلا ، کمرے کی بتی بند کی ، نیچے اترا اور اس کمرے میں گیا جہاں بتی جل رہی تھی ۔

یہ ایک کشادہ کمرہ تھا جس کے ایک طرف باورچی خانہ تھا ؛ عورت وہاں کھڑی آملیٹ ، ڈبل روٹی کے چار سلائس اور چائے ایک ٹرے میں رکھ رہی تھی ۔ کمرے کے دوسری طرف ایک اور کمرے کا دروازہ تھا جو بند تھا ۔ وہ اس کمرے میں بچھی ڈائننگ ٹیبل کے پاس ایک کرسی پر بیٹھ گیا ؛ سامنے آتش دان کی مچان پر کئی پرندے موجود تھے ؛ مینا ، کوئل ، بلبل ، کبوتر، فاختہ اور دو گلہریاں بھی تھیں ؛ یہ دیکھنے میں جیتے جاگتے لگتے تھے لیکن مکمل طور پر ساکت تھے ، ایسے جیسے کسی بچے نے کھیل ہی کھیل میں انہیں ’ سٹیچو ‘ کر دیا ہو ۔ اس کی نظر کھڑکی کی طرف گئی جہاں طوطا پنجرے میں موجود تھا اور جسے وہ اندر آنے سے پہلے دیکھ چکا تھا ؛ وہ ہنوز سرجھکائے بیٹھا تھا ۔
عورت نے ٹرے میز پر رکھی ۔ ڈبل روٹی اور آملیٹ اس کے سامنے رکھا اور دو کپوں میں چائے دانی سے چائے انڈیل کر ان میں چینی ڈالی اور چمچ ہلا کر ایک کپ بھی اس کے سامنے رکھ دیا پھر اس نے دوسرا کپ اٹھایا اور میز کے پاس پڑی اس کرسی پر جا بیٹھی جو خالد کے باکل سامنے والی جگہ پر تھی ۔ وہ اسے مسلسل گھور رہی تھی ۔ خالد نے بھی اسے ایک دو بار نظر بھر کر دیکھا ؛ وہ انگیا کے بغیر تھی ؛ اسے لگا جیسے اس کی دائیں چھاتی کی قوس بھی بائیں کے مقابلے میں چھوٹی ہو ۔ آملیٹ کی مہک اس کے ناک کو چڑھی اور وہ کھانے میں جُت گیا ۔
” تم نے رجسٹر پر اپنا کیا نام لکھا ہے ؟ “ ، اس نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا ۔
” خالد “
”خالد ۔ ۔ ۔ واقعی ! ۔ ۔ ۔ کیا تم اپنے ازلی ہونے پر یقین رکھتے ہو ؟ “
” ازلی ؟ ”
” ہاں ، ازلی ۔ ۔ ۔ خالد کا مطلب تو یہی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ”
” اوہو ، اچھا ، مجھے پہلے یہ نہیں پتہ تھا ۔ ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ میں ازلی کیسے ہو سکتا ہوں ۔ ازلی تو بس خدا کی ذات ہے ۔ ۔ ۔ میں تو اب تک ایسا کچھ بھی نہیں کر پایا جس پر میں فخر ہی کر سکوں ۔ ۔ ۔ “ ، وہ خجالت سے بولا ۔
” ہاں تم ٹھیک کہتے ہو ، کوئی ازلی نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ غنی ، فاروق اور عفت بھی تمہاری طرح جوان اور خوبرو تھے ۔ ۔ ۔ پر ۔ ۔ ۔ “
” مجھے آپ کا رجسٹر دیکھ کر اندازہ ہوا کہ غنی ، فاروق اور عفت صاحب بھی یہاں ٹھہرے ۔ وہ کب گئے ؟ وہ میرے علاقے کے ہی ہیں ۔ ۔ ۔ اب وہ کہاں ہیں ؟ ۔ ۔ ۔ میں ان سے ملنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ شاید وہ میرے کچھ کام آ سکیں ۔ ۔ ۔ “
خالد نے ڈبل روٹی کے آخری ٹکڑے سے بچا کچھا آملیٹ اکٹھا کیا اور نوالہ بنا کر منہ میں ڈالتے ہوئے کہا ۔
” ہاں ہاں ، کیوں نہیں ۔ ۔ ۔ وہ تیسری منزل پر ہیں ۔ “
” جب میں اندر آ رہا تھا تو آپ کے طوطے نے مجھے دھوکے دیا ؛ میں اسے زندہ سمجھ بیٹھا تھا لیکن اب اس کمرے میں دوسرے پرندے دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا ہے کہ یہ انتہائی مہارت سے حنوط کئے گئے ہیں ۔ انہیں دیکھ کر یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان میں بھوسہ بھرا ہوا ہے ۔ “
” مجھے جو جاندار اچھا لگتا ہے ، میں اسے پال لیتی ہوں اور اس کے مرنے پر اسے خود ہی حنوط کرکے اپنے ہی گھر میں سجا لیتی ہوں ۔ “
” آپ خود حنوط کرتی ہیں ؟ “
” ہاں ، میں نے یہ فن اپنے والد سے سیکھا ہے ۔ وہ حنوط کرنے کے فن کے ماہر تھے ۔ ان کے حنوط کردہ چرند پرند ان کے کمرے میں اب بھی محفوظ ہیں ۔ ۔ ۔ انہیں مادہ چرند پرند اچھے لگتے تھے ۔ ان کا کمرہ بھی تیسری منزل پر ہے ۔ ‘‘
خالد نے جب چائے ختم کی تو عورت اٹھی ، اس نے ٹرے میں کپ اور پلیٹیں واپس رکھیں ؛ وہ زیادہ تر اپنا بایاں ہاتھ استعمال کر رہی تھی ۔ اس نے ٹرے اٹھانے سے پہلے خالد کے ننگے بازوﺅں پر ہاتھ پھیرا پھر آنکھیں بند کرکے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے ٹٹولا ۔ خالد کے جسم کے بال کھڑے ہو گئے ، اس کے خون میں ابال اٹھا اور اس کا جسم ہولے سے لرز گیا ۔
” غنی اور فاروق کی جلد بھی بچوں جیسی تھی ۔ ۔ ۔ اور تمہاری بھی کچھ ایسی ہی ملائم ہے ۔ عفت کی البتہ کچھ کھردری تھی ۔ “ ، عورت نے آنکھیں کھولتے ہوئے کہا ۔
خالد اٹھا اور آتش دان کی مچان پر پڑے پرندں کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور اپنی انگلیوں سے ان کے پروں کو باری باری سہلانے لگا ؛ اسے پروں کے نیچے مہین جلد محسوس ہوئی ؛ اس نے فاختہ کے پر ہٹائے تو اسے نیچے سرمئی جلد نظر آئی اور بھوسہ بھی محسوس ہوا ۔
عورت ٹرے باورچی خانے میں رکھ کر واپس آئی اور خالد کے پاس آ کر ایک بڑی جمائی لیتے ہوئے بولی ؛
” سونے کا وقت بیتا جا رہا ہے ۔ چلو جا کرسوئیں ۔ کل کا دن یقیناً ایک مصروف دن ہو گا ۔ میرا کمرہ وہ ہے ۔ “ ، اس نے بند دروازے کی طرف اشارہ کیا ۔
خالد یہ سن کر پلٹا اور راہدری کی سیٹرھیاں چڑھنے لگا ۔
عورت اسے اوپر جاتے ہوئے دیکھتی رہی ، پھر اس نے تمام جلی بتیاں بجھا دیں ۔

Baclofen for sale, zithromax online.

About Mehar Afroz

Check Also

Naat by Riyaz Ahmed khumar

29 comments

  1. I am actually thankful to the holder of this web site who has shared this impressive paragraph at here.

  2. What’s up friends, good piece of writing and good urging commented here,
    I am in fact enjoying by these.

  3. I was curious if you ever thought of changing the layout
    of your blog? Its very well written; I love what youve got to say.

    But maybe you could a little more in the way of content so people could connect with
    it better. Youve got an awful lot of text for only having one
    or two images. Maybe you could space it out better?

  4. Thank you from the bottom of my heart for everything

  5. Thank you from the bottom of my heart for everything

  6. I’m grateful for having you as a friend!

  7. Very good website you have here but I was curious about if you knew of any user discussion forums that cover the same topics
    talked about in this article? I’d really like to be a
    part of group where I can get responses from other
    experienced people that share the same interest. If you have
    any recommendations, please let me know. Thank you!

  8. Thank you for the auspicious writeup. It in fact was a amusement account it.

    Look advanced to far added agreeable from you! By the way, how could we communicate?

  9. hello there and thank you for your information – I’ve definitely picked up anything new from right here.
    I did however expertise several technical points
    using this website, as I experienced to reload the website lots of times previous to I could get it to load properly.

    I had been wondering if your web hosting is OK?
    Not that I’m complaining, but sluggish loading instances times will often affect your placement in google
    and could damage your quality score if advertising and marketing with
    Adwords. Anyway I am adding this RSS to my e-mail and can look out for much more of your respective exciting content.
    Make sure you update this again very soon.

  10. Tamoxifen Citrate For Sale Viagra Langer Sex Viagra Canada Mastercard canadian pharmacy cialis Amoxicillin Dosage 875

  11. Hey There. I discovered your weblog using msn. This is
    an extremely neatly written article. I will make sure to bookmark it and come back to
    learn more of your useful info. Thank you for the post.
    I’ll definitely return.

  12. Hello to all, how is all, I think every one is getting more
    from this site, and your views are pleasant for
    new visitors.

  13. Wow, awesome blog layout! How long have you been blogging for?
    you made blogging look easy. The overall look of your web site is fantastic,
    as well as the content!

  14. Everything is very open with a very clear description of the issues.
    It was really informative. Your site is useful. Many thanks for sharing!

  15. Hello, thank you in spite of facts! I repost in Facebook

  16. Appreciate this post. Will try it out.

  17. Greetings! Very useful advice within this article!

    It’s the little changes that will make the most
    significant changes. Thanks for sharing!

  18. Hello, thank you looking for word! free viagra http://viapwronline.com I repost in Facebook.
    what does viagra do

  19. Hello, blame you http://cialisxtl.com for facts! cialis free trial
    ed pills that work better than viagra

  20. Good day very cool website!! Guy .. Beautiful ..
    Superb .. I will bookmark your blog and take the feeds additionally?
    I am satisfied to search out a lot of helpful info right here in the submit,
    we want work out extra techniques in this regard, thanks for
    sharing. . . . . .

  21. Amoxicillin And Motrin Celebrex For Sale Online Buy Cialis Preise Cialis Generika

  22. Association Usagers Baclofene cheap cialis online Lactamase Resistant Abx buy accutane in mexico

  23. Hmm is anyone else encountering problems with the images on this blog loading?
    I’m trying to find out if its a problem on my end
    or if it’s the blog. Any suggestions would be greatly appreciated.

  24. Cialis cialis tadalafil 20 mg does medicaid cover cialis

  25. Hey there! I know this is kind of off topic but I was wondering if you knew where I
    could find a captcha plugin for my comment form?
    I’m using the same blog platform as yours and I’m having trouble finding one?
    Thanks a lot!

  26. Viagra Gold 800mg Januvia Online Belgium Cialis Wirkung Von Viagra Wiki

  27. This is a topic which is near to my heart… Thank you!

    Where are your contact details though?

  28. Cialis buy viagra cialis cialis tolerance

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *