Breaking News

Short Story By Qamar Sabzwari

لکیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج سکول میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ اسلام آباد کے کسی فلاحی ادارے کے لوگ سکول کے دورے پر آئے ہوئے تھے تا کہ یتیم بچوں کے امدادی پروگرام کے لئے بچوں کے نام لکھ کر لے جا سکیں ۔ بچوں میں سنسنی پھیل جانے کے ڈر سے یہ بات ابھی بچوں کو نہیں بتائی گئی تھی کہ یہ لوگ کون ہیں اور کیوں آئے ہیں۔

کوئٹہ کی منجمد کر دینے والی سردی میں سکول کے صحن میں قومی ترانہ پڑھ کر کھڑے کپکپاتے بچے اپنے ہاتھ بغلوں میں دابے ایک دوسرے سے یتیم ہونے کا مطلب پوچھ رہے تھے کہ ہیڈ ماسٹر صاحب نے ایک بار پھر دہرایا۔

بچو ! یتیم کا مطلب ہوتا ہے جس کے والد ، جس کے بابا فوت ہو گئے ہوں، سو لکیر سے آگے وہی بچے جائیں جن کے بابا فوت ہو گئے ہیں۔

ایک ایک جماعت بچگانہ نظم و ضبط کے ساتھ آگے بڑھتی، یتیم بچے، ہدایت کے مطابق ، اینٹوں کے فرش پر بنی سفید لکیر کی دائیں طرف کچھ قدم کے فاصلے پر جا کر نام لکھنے والے کلرک کے پاس کھڑے ہوتے اور جماعت کے بقیہ بچے لکیر کی بائیں جانب نکل کر اپنے کمرہ جماعت کی طرف چلے جاتے۔

چوتھی جماعت کا معصوم بلوچ ہاتھوں کو بغلوں میں دبائے کچھ سوچتا ہوا اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ آگے بڑھا، اُس کے دو ہم جماعت باقی بچوں سے الگ ہوئے تو وہ بھی اُن کے پیچھے سفید لکیر کی جانب بڑھا لیکن پھر لکیر کے عین اوپر جا کر رُک گیا۔ اُس کے اندر کا تذبذب اُس کے چہرے پر چھائی معصومیت میں شامل ہو رہا تھا ۔ جب اُس کے ساتھ چلتے دونوں بچے آگے جا کر کلرک کے پاس کھڑے دوسرے بچوں سے مل گئے اور جماعت کے بقیہ بچے قطار بنائے کمرہ جماعت کی طرف بڑھنے لگے تو ماسٹر صاحب کی نظر اُس پر ٹک گئی۔

کیا ہوا بیٹا؟ آگے بڑھو یا پھر اپنے باقی دوستوں کے ساتھ کمرہ جماعت کو جاوٗ، یہاں لکیر پر کیوں رُک گئے۔

وہ وہیں ساکت کھڑا اپنے استاد کا منہ تکنے لگا۔

اس اثنا میں وہ اس کے قریب پہنچ چکے تھے ، پاس بیٹھ کر بولے

مجھے بتاوٗ کیا ہوا؟

اُس نے ، بالکل اپنے بابا کی طرح اپنے ماتھے کو ہاتھ کی دو انگلیوں اور انگوٹھے سے مسلتے ہوئے ، جواب دینے کی بجائے الٹا اپنے استاد سے سوال کر دیا ۔

استاد جی، میرے بابا کو ایک سال پہلے کچھ لوگ اٹھا کر لے گئے تھے، میں لکیر سے آگے بڑھوں یا وآپس چلا جاوٗں۔

#کہانی_پل_بھر_کی

About iliyas

Online Drugstore, buy baclofen online, Free shipping, buy Lexapro online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription

Check Also

Dr Maqsood hassani no more

Short Story By Dr Maqsood Hassani

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *