Breaking News

Short Story By Tariq Shabanam

بشکریہ کشمیر عظمی’ (ادب نامہ) سرینگر کشمیر
ٹھنڈا جہنم
کہانی
3 مارچ 2019 (00 : 01 AM)
طارق شبنم

وشال کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو ایک سنسان جگہ پر برف میں دھنسا ہوا پایا۔شدید ٹھنڈ سے اس کے ہاتھ پیر شل ہو چکے تھے،جسم کا انگ انگ ایسے درد کی شدت میں ڈوبا تھاجیسے اس کا سارا خون نچوڑ لیا گیا ہو۔اس نے غیر شعوری طور جسم کو حرکت دی۔

’’ ہائے میرا گن۔۔۔۔۔۔‘‘

جسم پر بندھے پاوچ کی طرف دھیان جاتے ہی اس کے ُمنہ سے بے ساختہ نکلا۔ پریشان ہو کر جھنجھلاہٹ میں اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن سخت نقا ہت اور کمزوری کی وجہ سے اٹھ نہ سکا۔۔۔۔۔۔کچھ لمحوںکے بعد اس کے اوسان بحال ہونے لگے، برف باری اگر چہ اب تھم چکی تھی اور سورج کی روشنی میں بھی قدرے اضافہ ہو چکا تھا لیکن سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی ۔چاروں اور ہیبت ناک خاموشی چھائی ہوئی تھی ،دور دور تک کسی آدم زاد کا شائیبہ تک نہیں ملتا تھا ۔ارد گرد کا جائیزہ لینے کے بعد اپنے آپ کو موت کے منہ میں دیکھ کر عالم یاس و اضطراب میں نیم مردہ جسم کو حرارت پہنچانے کے لئے اس نے پاوچ میں بندھی ڈبہ بند خشک غذا کے دانے نکالے اور انہیں چباتے ہوئے گزرے ہوئے واقعات کو یاد کرنے لگا۔

آج صبح سے ہی چل رہی یخ بستہ زمنستانی ہوائوں کی خنکی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔آسمان پر گہرے کالے بادل چھائے ہوئے تھے ،روشنی اتنی کم تھی کی دن کے گیارہ بجے بھی شام کا گمان ہوتا تھا ۔عجیب وحشت بھری پھنکار ہر سو گونج رہی تھی ۔ماحول کی اس ایکا ایکی تبدیلی نے وشال پر عجیب سی کیفیت طاری کردی تھی اور وہ سوچوں میں گم سہما سہما برف سے بنے بنکر میں روشن دان سے آسمان کی اس خوفناکی کو تک رہا تھا کہ آفیسر کی با رعوب آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی ۔
’’ وشال۔‘‘
’’ یس سر۔‘‘
’’ انی پرابلم۔‘‘
’’نو سر۔‘‘
’’گڈ۔۔۔۔۔۔ہوشیاری سے ڈیوٹی کرو تاکہ ہمارے علاقے میں کوئی پرندہ بھی پر نہ مار سکے۔‘‘
’’ یس سر۔‘‘
وشال نے سلوٹ بجاتے ہوئے کہا۔آفیسر دوسری چوکیوں میں بھی سر سری نظر مار کر جلد ہی واپس اپنی بارک میں جا چھپا تو وشال مُنہ میں مونگ پھلی کے دانے ڈالتے ہوئے بنکر میں موجود اپنے ساتھی جو انگیٹھی میں تیل ڈال ڈال کر بنکر کو گرم رکھنے کی کوشش میں تھا سے مخاطب ہوا۔

’’ راج ۔۔۔۔۔۔ یہ صاحب آج کیسی بات کرتا ہے ،یہاں سالا پرندہ کہاں سے آئے گا؟۔۔۔۔۔۔تو نے یہاں کبھی کسی پرندے کو دیکھا ہے؟‘‘

’’ شاہب نے خواب میںکشی کبوتری کودیکھا ہوگا۔۔۔۔۔۔ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔۔چل شالا ایک شگریت دیدے۔‘‘

راج مذاق کے انداز میں کہتے ہوئے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا۔

اس نے راج کی طرٖف سگریٹ بڑھایا اور خود بھی سگریت سلگا کر روشن دان سے باہر جھانکتے ہوئے گہرے سوچوں میں ڈوب گیا۔سطح سمندر سے ہزاروں فٹ بلندی پر واقع اس خوفناک جگہ پر دور دور تک زندگی کے آثار موجود نہیںتھے ۔نہ مٹی نہ پانی، نہ درخت نہ پرندے۔ نہ چرندے نہ درندے اور نہ کیڑے نہ مکوڑے۔ غرض یہاں کوئی بھی حشرات الارض موجود نہیںتھا۔ یہاں تک کی سورج کی روشنی بھی کم ہی دیکھنے کو ملتی تھی ۔ٹھنڈ اتنی شدید کہ گرم پانی کا گلاس منُہ تک لیتے لیتے جم جاتا تھا اور ہوا اتنی کم کہ ایک صحت مند انسان کو بھی اکثر سانس لینے میں دشواری ہوتی تھی ،جبکہ زندہ رہنے کے لئے آکسیجن کے سلنڈر استمال کر نے پڑتے تھے ۔ سر تا پائوں مخصوص قسم کے گرم ملبوسات کے استمال کے با وجود ٹھنڈ کی سوئییاں جسم میں چُبھ جاتی تھی اور جسم اور سانس کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے ہر پل انگیٹھی کے ساتھ چپک کے رہنا پڑتا تھا۔ کھانے پینے اور اور دیگر ضروریات کے لئے جمے ہوئے برف کو چولہا جلا کر پگھلانا پڑتا تھا جبکہ پاخانہ جانے کے بعد شریر کو پانی سے نہیں بلکہ مٹی کے تیل یا ڈیزل وغیرہ سے صاف کیا جاتاتھاکیونکہ جسم پر لگی نا پا کی پل بھر میں جم جاتی تھی۔اس طرح ایک محافظ پر ہر روز لاکھوں روپیے کا خرچہ آتا تھا۔وشال جو ایک ہونہار تعلیم یافتہ نوجوان تھا کے ذہن میں اکثر یہ سوال گونجھتا رہتا تھا کہ ترقی اور آپسی مفاہمت کے اس دور میں آخر اس خطرناک بے رحم جگہ ،جہاں ہر پل وحشت اورویرانی باہوں میں باہیں ڈالے اونگھ رہی ہوں ، انساں کے سر پر موت کے بھیانک سائے رقصاں ہوں،کروڑوں روپے کے زیاں کے ساتھ سینکڑوں محافظوں کو کس لئے رکھا گیا ہے ؟ جب کہ دیش واسیوں کو اچھی طبعی ،تعلیمی اور دیگر ضروری سہولیات ابھی بھی میسر نہیں ہیں اور لاکھوں لوگ روٹی کپڑا اور سروں کے اوپر چھتوں کے لئے ترس رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔سرحد پر ان کے مد مقابل د دوسر ے د یش ،جس کی مالی حالت اس ملک سے بھی دگر گوں ہے اور عوام غربت ،بھوک اور افلاس کی چکی میں پس رہے ہیں،کے محافظ بھی اسی طرح رقوم کے زیاں کے ساتھ گھٹ گھٹ کے ایک ایک پل کے کاٹ رہے تھے۔بظاہر وہ اپنے اپنے دیش کی محافظت پر وہاں موجود تھے لیکن وشال کو وہاں کھبی دیش کے لئے کوئی خطرہ نظر نہیں آیا تھا ،نہ ہی دونوںا طراف کے محافظوں کے درمیاں کھبی کوئی لڑائی جھگڑا ہوا تھا اورنہ ہی بظاہر کوئی دشمنی نظر آرہی تھی۔ اور تو اور موقعہ ملنے پر دونوںا طراٖ ف کے محافظ آپس میں ہائے ہیلو بھی کرتے تھے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے یہ سوال بھی پوچھ لیتے تھے کہ آخر جان جھوکھم میں ڈال کر موت کی اس خوفناک وادی میں ہم کس مقصدکے لئے بیٹھے ہیں ؟؟؟لیکن اس چُھبتے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔

وشال سوچ فکر کے اتھاہ سمندر میں گم دوربین کے سہارے سرحد کی نگرانی میں مصروف تھا کہ آسمان سے اچانک برف کے بڑے بڑے گالے گرنے شروع ہوگئے ۔یہاں برف گرنا اگر چہ کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن آج موسم کے تیور کچھ ایسے خوفناک تھے کہ برف باری شروع ہوتے ہی یہاں تعینات جوانوں اور افسروں میں فکر و تشویش پیدا ہو گئی ۔۔۔۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے برف کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ تیز ہوائیں چلنے لگیںاور برف ریگستان کی آندھی کی طرح خوفناک انداز میں رقص کرنے لگا ۔موسم کا یہ قہر انگیز روپ دیکھ کر خطرے کو بھامپتے ہوئے آفیسروں نے اپنی ہائی کمان کو مطلع کیا اور ریڈ الرٹ کا اعلان کرتے ہوئے کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنے کی ہدایات دیں ۔تمام جوانوں میں ایسی خلبلی مچ گئی جیسے جنگ کا بگل بج گیا ہو۔ دفعتًاتیز ہوائوں کی رفتار میں اور اضافہ ہوا جس کے ساتھ ہی بنکر اور چوکیاں تہس نہس ہونے لگیں جس سے افسروں اور جوانوں میں خوف ہیبت کی تھر تھری ،کپکپی اور بد حواسی چھا گئی اور وہ بے بسی کی حالت میں جان کی امان پانے کے لئے اوپر والے کو یاد کرتے ہوئے ادھر اُدھر دوڑ نے لگے ۔ تیز ہوائوں نے جلد ہی طوفانی رخ اختیار کر لیا جبکہ دوسری طرف تعینات محافظوں کی چوکیوں میں شور غل بلند ہوگیا اور ان کا ساز و سامان تنکوں کی طرح ہوا میں اڑنے لگا ۔دوسری طرف کا یہ براحال دیکھ کر اور نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والی صورت حال سے پریشان سارے جوان اور آفیسر ایک جگہ جمع ہو کر صلح مشورہ کرنے لگے لیکن انہیں اتنی مہلت نہیں ملی۔۔۔۔۔۔ بیک بار برف کا ایک بہت بڑا تودا طوفانی رفتار سے آیا اور سرحدوں کی تمیز کئے بغیر دونوں طرف کی چوکیوں اور بارکوں کو ملیا میٹ کرکے لے گیا۔

وشال مونگ پھلی کے دانے چباتے ہوئے بہت دیر تک گزرے ہوئے کربناک واقعات کو یاد کرتا رہا ۔۔۔۔۔۔جب جسم میں تھوڑی توانائی پیدا ہوئی تو اٹھ کر دیرے دیرے چند قدم ادھر اُدھر چل کر چاروں اور نظریں دوڑائیں۔کچھ دوری پر اس کو برٖف پر بیٹھے کچھ انسانی ہیولے نظر آئے۔وہ بھاری قدموں سے برف کو چیرتے ہوئے ان کے نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ اس کے کچھ ساتھی برف میں پھنسے کراہ رہے تھے ۔اس نے ہمت سے کام لے کر ایک ایک کرکے ان کو نکالا۔ایک دوسرے کو دیکھ کر ان کی جیسے جان میں جان آگئی ۔وہ مونگ پھلی کے دانے چباتے اور بیڑی پیتے ہوئے دم سمبھا لنے لگے۔مخصوص قسم کے گرم ملبوسات زیب تن ہونے کی وجہ سے برف کا پانی ان کے جسموں کو چھو نہیں سکا تھا ورنہ وہ بھی برف کی طرح جم گئے ہوتے۔کچھ دیر دم سمبھا لنے اور صلاح مشورہ کرنے کے بعد وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کو تلاشنے نکلے۔ان کی یہ کوشش رنگ لائی ایک ایک کرکے ان کے درجن بھر ساتھی مل گئے جن میں سے کچھ زخمی اور کچھ بے ہوشی کی حالت میں تھے ۔

’’ وہ دیکھو دشمن کے جوان ہمارے علاقے میں گھس آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ میجر صاحب کو اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔‘‘

ساتھیوں کو تلاش کرتے کرتے وشال کی نظراپنے آفیسر پر پڑی جسے دشمن کے جوان بازئوں سے پکڑ کر لے جا رہے تھے۔

’’ چلوجلدی ۔۔۔۔۔۔ہم ان کے گندے ارادوں کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دینگے۔‘‘

وشال کو جلد ہی اپنا ٖفرض یاد آگیا۔۔۔۔۔۔انسان جب کسی منجھدھار پر ہو تو دونوں کناروں پر نظر رکھنی پڑتی ہے، سو وشال نے بھی فوراً حکمت عملی طئے کرکے کچھ جوانوں کو زخمی اور بے ہوش ساتھیوں کی محافظت پر رکھا اور خود چند جوانوں کے ہمرا ہ با لکل نہتے ہی آفیسر کو دشمن کے چنگل سے بچانے کی مہم پر نکل گیا ۔۔۔۔۔۔کچھ دور جاکر انہونے دیکھا کہ دشمن نے ایک بڑا خیمہ نصب کیا ہے اور ان کے درجنوں جوان جن میں سے کچھ مسلح بھی تھے پریشانی کی حالت میں ا ھر اُدھردوڑ بھاگ کر رہے ہیں۔دشمن کی اس حرکت سے اس کا خون کھول اٹھا اور چہرا غصے سے تمتمانے لگا ۔

’’ تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ میجر صاحب کو چھوڑ دو اور جلدی سے ہمارا علاقہ خالی کرکے جائو۔۔۔۔۔۔‘‘

وشال نے جان کی بازی لگا کر انہیں اونچی آواز میں للکارتے ہوئے کہا۔

’’آپ کے میجر صاحب اندر تمبو میں ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘

دشمن کے ایک جوان نے اس کے دھمکی آمیز لہجے کا نوٹس لئے بغیرںنرم لہجے میں کہا۔کچھ لمحے سوچنے کے بعد وہ خیمے کے اندر داخل ہوئے تو ان کا آفیسرکمبل میں لپٹالکڑی کے تختے پر دراز تھا۔ اپنے کچھ جوان بھی اس کے ارد گرد موجود تھے جبکہ دوسری طرف کاآفیسر،جس کے چہرے پر داڑھی تھی ،بھی ایک تختے پر شدید مضروبیت کی حالت میں درد سے کراہ رہا تھا۔وہاں جل رہی کئی انگیٹھیوں سے زندگی کا احساس ہو رہا تھا۔در اصل دوسری طرف کے محافظ ایک چوکی سے وہ خیمہ اور کچھ ساز و سامان نکالنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

’’ سر۔۔۔۔۔۔ابھی ہمارے پانچ جوان لا پتہ ہیں اور دو کی موت ہوچکی ہے ۔‘‘

دوسری طرف کے ایک محافظ نے حواس باختگی کے عالم میں اندر داخل ہو کر پُر نم آنکھوں سے اپنے زخمی آفیسر کو خبر دی ۔
’’ ورنہ یہاں زندہ ہی کون ہے؟‘‘

آفیسر خود سے بڑ بڑایا۔

’’ سر؟‘‘

’’ رسکیو آپریشن جاری رکھو اور لاپتہ جوانوں کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کرو ۔۔۔۔۔۔‘‘

آفیسر نے نخیف سے لہجے میں کہا ۔

’’ یس سر۔‘‘

’’سر ہمارے کیول دو جوان لا پتہ ہیں،باقی سب مل گئے۔‘‘

وشال کے ایک ساتھی نے بھی اپنے آفیسر کر بتا یا۔

’’ سر۔۔۔۔۔۔یہ لوگ ہمارے علاقے میں گھس آئے ہیں‘‘۔

وشال نے آفیسرکو خبر دار کرنے کے غرض سے کہا لیکن آفیسر جو اسوقت نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا کوئی جواب نہیں دے سکا۔

لیکن دوسرے طرف کے ایک محافظ نے غصے بھرے لہجے میں کہا۔

’’ یہ تمہارا نہیں ہماراعلاقہ ہے‘‘۔

’’یہ جھوٹ ہے،آپ لوگ ہمیں اسطرح دھوکہ نہیں دے سکتے۔‘‘

وشال نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔ دونوں طرف کے محافظوں میں تو تو میں میں شروع ہوگئی،حالانکہ اب یہ ثابت کرنا کہ کون کس کا علاقہ ہے پانی پر پانی تحریر کرنے کے مترادف تھا کیوں کہ اب یہاںکوئی نشان نہیں بچا تھا۔۔۔۔۔۔نہ کوئی کھمبا۔۔۔۔۔۔نہ کوئی جھنڈا۔۔۔۔۔۔نہ کوئی لکیر۔۔۔۔۔۔چاروں اور برف کے اونچے اونچے خوفناک ٹیلے نظر آرہے تھے جو چیخ چیخ کر بلا شرکت غیرے اپنی بادشاہت کا اعلان کر رہے تھے۔جب بات بڑھنے لگی اور محافظ اپنے اپنے دیش کی حفاطت کے لئے مرنے مارنے پر اتر آئے تو مضروب داڑھی والے آفیسر ،جسے سانس لینے میں سخت تقلیف ہو رہی تھی نے نخیف سے لہجے میں اپنے جوانوں سے مخاطب ہو کر کہا۔

’’یہ ہمارا علاقہ نہیں ہے‘‘۔

آفیسر کی بات سن کر اس کے ماتحت جوان حقا بقا ہو کر رہ گئے۔

’’ ساتھیو۔۔۔۔۔۔ مرتے وقت کوئی جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔۔۔۔میں سچ کہتا ہوں، یہ سب دھوکہ ہے فریب ہے ۔۔۔۔۔۔یہ محض جھوٹی انا کی تسکین کا مسلہ ہے ۔۔۔۔۔۔ ورنہ یہ ٹھنڈاجہنم کسی انسان کا علاقہ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔۔۔دس از نو۔۔۔۔نو مینز لی ۔۔۔۔لینڈ۔

٭٭٭

رابطہ؛ اجس بانڈی پورہ (193502 ) کشمیر

ای میل ؛tariqs709@gmail.com

About iliyas

Online Drugstore, buy baclofen online, Free shipping, buy Lexapro online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription

Check Also

Ghazl By Javidadil Sohawi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *